ہمارے ضروری کام اور انتظارِ صبح

شاہد سردار  اتوار 29 جولائ 2018

آج کا دور حد درجہ مصروفیت کا دور ہے ،کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں۔ فون پر گفتگو کی جگہ ایس ایم ایس نے لے لی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ گھر والوں کے پاس گھر والوں سے بات کرنے کی فرصت نہیں۔ تعلق داری، رشتے داری کو بھی مصروفیت چاٹتی جا رہی ہے،گردوپیش پر نگاہ ڈالیں تو ہر دوسرا آدمی آپ کو مصروف ترین آدمی دکھائی دے گا، اگر سر راہ کوئی واقف کار مل جائے تو سلام کے بعد کلام شروع ہوکر لمحے میں ختم ہوجائے گا کہ ہاں موقع ملا تو چکر لگاؤں گا لیکن وہ چکرکبھی پورا نہیں ہو پاتا۔

بیشتر لوگ فارغ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو دنیا کا مصروف آدمی گردانتے ہیں انھیں آپ ’’فارغ مصروف‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ دراصل ہم میں سے بہت سے لوگ اسی قسم کے فارغ مصروف ہیں، خود ہم بھی جو فارغ ترین لیکن خود کو مصروف کہلوانے یا سمجھوانے والے لوگوں کا تمسخر اڑاتے ہیں، اسی طرح کے فارغ التحصیل ہیں۔ تاہم ان سطور سے کوئی صاحب یہ اندازہ نہ لگائیں کہ خود کو ہمہ وقت مصروف سمجھنے والے کسی کے ساتھ دھوکے بازی کر رہے ہوتے ہیں ۔

ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ اپنے کام کی ترجیحات متعین نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے پریشان اور بوکھلائے پھرتے ہیں یا پریشان رہتے ہیں اور ان کے اعصاب پر وہ تمام کام سوار رہتے ہیں جسے انجام دینے کا وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے صرف سوچ رہے ہوتے ہیں مگر انجام نہیں دے پاتے۔ ہم میں سے ایسے لوگوں کی بھی بھاری اکثریت ہے جو اپنے کام پورے خلوص دل سے ہر روز آنے والے کل سے شروع کرنے کا عزم رکھتے ہیں، ہر نئے دن کا آغاز خود کو دنیا کا مصروف ترین شخص سمجھ کر کرتے ہیں اور اہم کام کو اگلے دن پر چھوڑکر ہر ملنے والے کے سامنے اپنی مصروفیات کا ذکر اس تفصیل سے کرتے ہیں کہ وہ دن اس تفصیل کے بیان ہی میں گزر جاتا ہے۔

سچ پوچھیں تو ہم سبھی لوگ من حیث القوم اس وتیرے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کتنے ہی ضروری کام ہیں جو ہم نے کرنا تھے لیکن وہ ابھی تک ہماری عدیم الفرصتی کی وجہ سے پینڈنگ چلے آ رہے ہیں۔ ہم نے گزشتہ 71 برس یہ کام کرنے کے بجائے ان کاموں کے بارے میں بیان دینے میں صرف کر دیے۔ جو حکمران بھی آتا ہے وہ پینڈنگ کے ان کاموں کو کرنے کا عہد کرتا ہے، مگر ہوتا یوں ہے کہ وہ کام بھی کوئی نہیں کرتا اور جانے کا نام بھی نہیں لیتا۔

ملکی اور غیر ملکی صحافی اس کی کارکردگی کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے میں ملک کی ترقی کے لیے وہاں گیا، یہاں گیا ہوں، میں نے یہ کیا وہ کیا میں نے ملک کا کچھ نہیں بگاڑا یہ تو مجھے گزری ہوئی حکومت سے ایسا ہی ملا تھا۔ ایسی سچویشن پر ہمیں وہ بندر یاد آجاتا ہے جس نے ایک خرگوش کو اپنے ہاں کھانے پر مدعو کیا، مگر اسے کھانا کھلانے کے بجائے تیزی سے ایک شاخ سے دوسری شاخ پر چھلانگیں لگاتا رہا۔ جب بھوک سے خرگوش کا برا حال ہونے لگا تو اس نے وضعداری ایک طرف رکھی اور کہا بھائی! بھوک بہت لگی ہے اب کھانے کا بندوبست کریں۔ اس پر بندر نے بڑی پھرتی سے ایک شاخ سے دوسری شاخ پر پہنچ کر کہا کھانے پر لعنت بھیجو تم میری پھرتیاں دیکھو۔

ہمارے ارباب اختیار یا حکمرانوں کو حال بھی ایسا ہی ہے ہم اگر حسن ظن سے کام لیں تو کہہ سکتے ہیں کہ ان کی نیت بری نہیں بس ان کی ترجیحات غلط ہیں اور اگر حقیقت پسندی سے کام لیں تو اس کے علاوہ بہت کچھ کہا جاسکتا ہے کیونکہ گزشتہ 71 برسوں میں ہم لوگ ایک ہی دائرے میں بڑی تیزی سے گردش کرتے چلے آرہے ہیں اور اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے منیرؔ نیازی نے یہی کہا تھا کہ:

منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

چنانچہ اب تو سوچا ہے کہ ایک دن ان حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور پوچھ ہی لیں کہ جناب! آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟ یہ باریاں اب کب تک لیتے رہیں گے؟ ہم نے آپ کی بہت پھرتیاں دیکھ لیں اب ہمارے مسئلے مسائل کی پرواہ کرتے ہوئے ان کے حل کرنے کا انتظام و اہتمام کریں۔ (اگر ہم نے یہ کام کرنے کا صرف عزم ہی نہیں کیا بلکہ کر بھی دکھایا تو سبحان اللہ، وگرنہ ہم خود کو بھی اپنے حکمرانوں کی طرح مصروف شخصیت ہی تصور کریں گے۔) اس بات میں بھی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ ہمارے معاشرے میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے باوجود وقت نہ کٹنے کا رونا روتے ہیں۔

بے خوابی، ڈپریشن اور بے زارگی کا پرچار کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہاں تک ٹی وی دیکھیں، کب تک مطالعہ کریں نہ نیند آتی ہے اور نہ وقت گزرنے کا نام لیتا ہے، صبح ہونے لگے تو آنکھیں جھپکنے لگتی ہیں دل چاہتا ہے جاب یا کام کی چھٹی کرلیں لیکن دل نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں اپنے معمولات کی طرف لوٹنا ہی پڑتا ہے۔ یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ فی زمانہ کوئی دوا ایسی زود اثر نہیں بنی جو کسی انسان کو سکھ، چین، آرام یا ذہنی و قلبی سکون مہیا کر سکے۔ بستروں کی چادروں کو شکن آلود کرتے ہوئے ہم میں سے اکثریت کو چھت گھورتے ہوئے صبح کا انتظار ہوتا ہے اور صبح ہونے کا نام نہیں لیتی، تاہم صبح ہو ضرور جاتی ہے۔

قید بامشقت کی بھی، قید تنہائی کی بھی اور حد درجہ دکھ اور تکلیف کی بھی۔ہماری دانست میں فراغت میں یا وقت گزاری میں سب سے اچھا کام مطالعہ کرنا اور البم نکال کر ماضی میں چلے جانا ہوتا ہے۔ اچھی کتابیں اچھی شریک حیات کی مانند رہتی سانسوں تک رفیق کا کام دیتی ہیں ان سے ذہن کو سکون، تازگی اور سوچ و امنگ حاصل ہوتی ہے مطالعہ تنہائی اور بے سکونی میں قلبی اطمینان اور طمانیت کا باعث بنتا ہے اس سے ذہن کھلتا اور سوچ و فکر کے در وا ہوتے ہیں جب کہ تصویروں کی البم انسان کوکہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔

کسی اداس لمحے میں آپ اپنی البم کی ورق گردانی کرتے ہوئے سوچتے ہیں کہ گزرے برسوں یا وقتوں میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ دراصل ماضی کی تصویریں حال سے منسلک ہوتی ہیں اور حال کی مستقبل سے جڑی ہوتی ہیں اور یوں ہمارے نزدیک البم انسان کے استاد کا درجہ رکھتی ہے۔ خوشیوں اور غموں کے بارے میں، صحیح فیصلوں اور غلط فہمیوں کے بارے میں، صحت اور بیماریوں کے بارے میں غرض زندگی سے متعلق ہر چیز کے بارے میں۔ بس ہر چیز کے بارے میں آپ (انسان) کی اپروچ سب سے اہم چیز ہے۔ یہ اپروچ اداسیوں کو خوش رنگ تصویروں میں بدل سکتی ہے۔

تصویریں بہرکیف زندگی کا قیمتی سرمایہ بھی ہوتی ہیں اور زندگی کا پچھتاوا بھی۔ یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے پاس کون سی تصویروں کا البم رکھنا چاہتا ہے؟ ویسے بھی انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے سخت سے سخت حالات میں ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم زندگی کے بہت سے حادثوں سے مانوس اور ان کو پیدا ہونے کا حق دینے پر راضی ہوچکے ہیں اس لیے کسی حادثے یا تکلیف کے نمودار ہونے کا سانحہ کوئی اچنبھا پیدا نہیں کرتا۔

انسانی نفسیات یہ بھی ہے کہ وہ دیر تک غم کی شدت کو برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ زندگی جینے کا سہارا ڈھونڈتا ہے، وہ دکھ درد، رنج و الم سے بہرطور فرار چاہتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ڈپریشن، پریشانی اور مصیبت میں پرسا دینے والے لوگ سہارا بنتے ہیں، اسی لیے زندگی میں ایسی ذات کا ہونا بہت ضروری ہے جس کو دل کا حال سنانے کے لیے الفاظ کی ضرورت نہ پڑے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔