انتخابی نتائج؛ خدشات اور اُمیدیں

عبدالرحمان منگریو  اتوار 29 جولائ 2018

25جولائی کوملک میں ایک ہی دن وفاقی و صوبائی اسمبلیوں کے ہونیوالے انتخابات کوئٹہ سانحے میں شہید ہونیوالے تقریباً 35افراد اور 70کے قریب زخمیوں سمیت چھوٹے بڑے فائرنگ و جھگڑوں کے واقعات کے نتیجے میں ہلاک و زخمی ہونیوالوں کی قیمت پر پایہ تکمیل کو پہنچے اور اُن کے نتائج بھی تقریباً آچکے ہیں۔ باقی اِکا دُکا نشستوں کے نتائج دوبارہ گنتی کی وجہ سے رہتے ہیں۔

اب تک کے نتائج کیمطابق عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پاکستان بھر سے 119 نشستوں کے ساتھ ملک کی نمائندہ جماعت بن کر سامنے آئی ہے جب کہ مسلم لیگ ن 63 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور پاکستان پیپلز پارٹی 43 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ ان نتائج کی بنیاد پر تحریک انصاف مرکز کے علاوہ کے پی کے اور پنجاب میں حکومت بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے جب کہ سندھ میں پی پی پی کی حکومت اور بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم ہوگی ۔ لگ یوں رہا ہے کہ ن لیگ اور ایم کیو ایم کو ٹف ٹائم دینے کی وجہ سے سندھ میں پیپلز پارٹی کونہیں چھیڑا گیا ہے اور اسے ایک حد تک مناسب پوزیشن دی گئی۔

اب دیکھتے ہیں کہ یہ سیٹ اپ کب تک چل سکتا ہے۔ کیونکہ نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ پی ٹی آئی کے سربراہ سمیت اکثر کامیاب ہونیوالے پرانے کھلاڑیوں پر کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے کیسز نیب و عدالتوں میں ہیں۔ اور یہ ملکی اُمور کے لیے ایک خطرناک صورتحال اور جمہوری سیٹ اپ کے اوپر لٹکنے والی ایسی تلوار ہے جو کسی بھی وقت اُس کی گردن الگ کرسکتی ہے۔ لیکن فی الحال تو نئے منتخب ارکان کی حلف برداری کے لیے قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 11اگست کو بلانے پر غور کیا جارہا ہے۔

کوشش کی جارہی ہے کہ پہلے اجلاس میں ارکان کی حلف برداری کے بعد اسی روز یا پھر دوسرے روز اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب اور پھر جلد سے جلد وزیر اعظم کے عہدے کے لیے انتخاب ہوسکے تاکہ 14اگست کو ہونے والی جشن ِ آزادی کی تقریبات میں نئے منتخب وزیر اعظم کی شرکت کو ممکن بنایا جاسکے ، جوکہ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ملک میں ماضی قریب میں بننے والی مخلوط حکومتوں کی جانب سے دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے اور آزاد امیدواران کو اپنے ساتھ ملانے میں کافی وقت لگتا ہے۔

جیسے 2013ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کو بھی نشستوں میں بہترین پوزیشن میں ہونے کے باوجود حکومت بنانے میں ایک مہینے سے زیادہ وقت لگ گیا تھا ۔ بہرحال اس صورتحال سے بچنے کے لیے الیکشن کمیشن اور تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے کوششیں کی جارہی ہیں۔ تازہ ترین صورتحال کیمطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے آزاد اُمیدواران کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کامیاب امیدواران کے نوٹیفکیشن کے اجراء سے 3دن کے اندر وہ کسی بھی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔

ان انتخابات میںجہاں 30برس سے ڈیرہ جمائے بیٹھے کئی بڑے بڑے سیاستدان ڈھیر ہوئے ،وہیں ملک بھر میں کئی نئے چہرے میدان ِسیاست میں نمودار ہوئے ۔ ملک میں اس وقت نوجوانوں کی بڑی تعداد میں انتخابات میں دلچسپی اور بھرپور شرکت کی وجہ سے ملک میں روایتی انتخابی ماحول نظر نہیں آیا بلکہ پرانے اور منجھے ہوئے کھلاڑیوں کی جگہ ان نئے اور نوجوان امیدواروں کی جانب سے نئے جوش اور نئی اُمنگوں و روایتوں کی بنیاد بھی رکھی گئی ۔

حالانکہ انتخابات سے پہلے کئی ایسی جماعتیں سرگرم تھیں جن پر پہلے سے انگلیاں اُٹھنے کے باوجود اُن کی پوزیشن مضبوط دکھائی دے رہی تھی لیکن ایم ایم اے اور پی ایس پی سمیت ایسی کئی جماعتوں کا پتہ ایسے کاٹا گیا جیسے اضافی کھلاڑیوں کو سائیڈ پر بٹھادیا جاتا ہے ۔ اب تک کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کیمطابق اس وقت ملک میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ حالانکہ پی ٹی آئی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں لیکن حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے اُسے دیگر جماعتوںسے اتحاد کرنا پڑے گا۔

ایسے میں آزاد اُمیدواران کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ جس پر ملک کے سنجیدہ حلقے خدشات کا اظہار کررہے ہیں کہ اس طرح قائم ہونے والی مخلوط حکومت عالمی و مقامی سطح پر ملکی مسائل کو کس طرح حل کرے گی یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا ۔ کیونکہ حکومت کو برقرار رکھنا اور تمام فریقوں کو راضی رکھنا ہی مخلوط حکومتوں کی ترجیح بن جاتی ہے ، جس وجہ سے اصل مسائل کم توجہی اور اتفاق رائے کی کمی کا شکار رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ ملکی معاملات میں تجربے سے عاری نئے لوگوں کی اکثریت پر مبنی حکومت آنے سے ملکی انتظامی اُمور میں غیر جمہوری قوتوں کی دخل اندازی اور اثر ورسوخ کے مواقع میں اضافے اور عالمی سطح پر ملک کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے میں دشواریوں کا بھی سامنہ بھی ہوسکتا ہے۔

حالانکہ انتخابات کے دوسرے روزہی پی ٹی آئی کے اور امکانی حکومت کے سربراہ عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک طرف داخلی طور پر کوئی بڑے وعدے تو نہیں کیے لیکن ملک و ملت کے استحکام کے لیے بہتر معاشرتی اصلاحات کے اشارے دیے ہیں تو دوسری طرف خارجی سطح پر امریکا ، بھارت ، سعودیہ اور ایران سے برابری کے ساتھ سفارتی و تجارتی بنیاد پر بہتر تعلقات بنانے اور افغانستان میں قیام امن سے متعلق نیک خواہشات کے ساتھ بھرپور کوششوں کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔

جب کہ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال کی بنیاد پریکساں ماحول سے بیزار عوام میں کئی نئی اُمیدوں اور اُمنگوں نے کروٹ لی ہے ۔ عوام اچھی طرز حکمرانی ،قانون کی بالادستی ، غیر جانبدارانہ و یکساں احتساب، روزگار ، امن و امان کے ساتھ ساتھ ملک میں معاشی ، سیاسی ، ثقافتی و سماجی استحکام اور مذہبی ہم آہنگی کی فضا کو پروان چڑھتے دیکھنے کی اُمید اپنی آنکھوں میں سجائے حکومت کی تشکیل اور عملی طور پر فعال ہونے کے شدت ِ بے چینی سے منتظر ہیں ۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی عمل کی شفافیت کے پیش نظر پہلی مرتبہ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیااور RTSسافٹ ویئر کو صرف میں لایا گیا، لیکن عملے کو RTSکی مناسب تربیت نہ دینے اور دستاویزات کی بھرمار کی وجہ سے نتائج میں دیر ہونے پر شدید نکتہ چینی کے ساتھ ساتھ میڈیا ہاؤسز کو پاسز جاری کرنے کے باوجودکراچی میں پولنگ اسٹیشنز میںداخل ہونے سے روکنے اور ایجنٹس کو نتائج کے تصدیق شدہ فارم 45نہ دینے کی شکایتوں اور دیگر انتظامی لاپرواہیوں کی وجہ سے دھاندلی کے الزامات کی بناء پر انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کی اکثریت کی جانب سے انتخابات کی شفافیت پر سوال اُٹھائے گئے اور کئی جماعتوں کی جانب سے احتجاج و قانونی راستہ بھی اختیار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ملک بھر سے الیکشن کمیشن کو 700شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 240کے قریب تعداد صوبہ سندھ سے ہے، جن پر مؤثر کارروائی نہ کرنے اور میڈیا پر بار بار نتائج تبدیل ہونے کی شکایات کی بناء پر تجزیہ کاروں کی جانب سے اس الیکشن اور الیکشن کمیشن و دیگر انتظامیہ پر کڑی تنقید کی جارہی ہے ۔

اس لیے عوام و امیدواران اور سیاسی جماعتوں کے اطمینان کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے مندرجہ بالا اُمورپر وضاحتی بریفنگ اورشکایتوں کی شنوائیاں اولیتی بنیادوں پرکرکے ان شکایتوں کا ازالہ کیا جانا بھی لازمی ہے تاکہ 2013کی طرح انتخابی نتائج کے کیسز اور پھر اُن کی بنیاد پر دھرنوں اور نظام کو مفلوج بنانے کا موقع کسی کو نہ ملے۔ اس تمام صورتحال اور شکایتوں و کمزوریوں کے باوجود اس ملک کی تینوں بڑیجماعتوں یعنی پی ٹی آئی ، مسلم لیگ ن اور پی پی پی سمیت اے این پی اور دیگر ان نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرلیا ہے جو کہ ایک مثبت اور خوش آئند بات ہے ۔

بہرحال حکومت کی تشکیل کا مرحلہ ابھی باقی ہے ۔ جس میں آنیوالی ٹیم دیکھ کر ہی کچھ کہا جاسکتا ہے کہ نئی حکومت ملک کو داخلی موجودہ انتشار اور خارجی تنہائی سے نکالنے کی اہل ہے یا نہیں ۔ ویسے بھی اس ملک میں کوئی بھی رائے مضبوط اور حتمی نہیں ہوتی جس کی وجہ یہاں بہت ساری چیزیں ویسی نہیں ہوتیں جیسی نظر آتی ہیں بلکہ کئی چیزیں ہوتے ہوتے رہ جاتی ہیں ۔ اس لیے جب تک عمران خان کی حکومت بن نہیں جاتی تب تک کوئی بھی بات کرنا وقت سے پہلے ہوگا ۔ اس لیے امید یہ ہونی چاہیے کہ جو بھی سیٹ اپ بنے اسے بلا تعطل کے چلنے دیا جائے تاکہ جمہوریت کی ریل پٹڑی سے اتر نہ پائے کیونکہ مسلسل تیسری بار جمہوری حکومت کی تشکیل اس ملک کے لیے نیک شگون ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔