وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو

سعد اللہ جان برق  اتوار 29 جولائ 2018
barq@email.com

[email protected]

حضرت چمچا چمتیر چمچا د چمچ آبادی اگر چہ اتنا زیادہ مشہور نہیں ہے لیکن اس کا خاندان بڑا مشہور خاندان ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ

سو پشت سے پیشہ آبا چمچ گری

کچھ نوکری ذریعہ چمچت نہیں مجھے

اس خاندان میں ویسے تو بڑے بڑے چمچ و چماغ گزرے ہیں لیکن جن کا کام ریکارڈ پر ہے وہ بھی خاندان کو ’’ چار چار چمچ ‘‘ لگانے کے لیے کافی ہیں مثلاً ان کے سب سے بڑے چمچے مطلب ہے چمچ و چماغ کو مغلیہ حکومت نے علاوہ دیگر اعزازات کے چماچ الملک کا خطاب دیا تھا پھر سکھوں کے دور میں اس کے ساتھ ’’ چمچ الزمان ‘‘ کا خطاب بھی جڑ گیا، انگریزوں نے چمچ العالم چمچ بہادر کے ڈبل خطابات دیے۔ یوں خاندان کا پورا نام چمچ الملک چمچ الزمان چمچ العالم ہو گیا ۔ پھر اس خاندان میں وہ ’’ سوت صنمابلکہ چنما جس کا ہم اس وقت قصیدہ پڑھنا چاہتے ہیں یعنی حضرت چمچا د چمتر چمچاد چمچ آبادی ۔

چونکہ اس کی ذات بابرکات میں مجمع الچمچین ہو گیا ہے اس لیے خاندانی فن چمچہ گیری کا بے تاج بادشاہ یا بے دستہ چمچہ ہے اپنی خاندانی اور ذاتی چمتکاروں سے اس نے بہت ساری سرکاری نوکریوں کو چار چار چمچ لگائے ہیں اور اب ریٹائرڈ ہو کر اسے ’’ طاق نشین ‘‘ بلکہ قبر نشین ہونا چاہیے تھا لیکن اس نے چمچے پر ہاتھ رکھ کر چمچ کھائی ہے کہ اپنا خاندانی کام نہیں چھوڑیں گے چنانچہ ریٹائرمنٹ کی موت مرنے کے بعد بھوت چمچ بن کر جہاں موقع ملے چمچ چماچ کیے بغیر نہیں رہیں گے کچھ عرصے کے لیے چمچ اعلیٰ بھی بنے تھے اور وہاں سے جتنے چمچے ممکن ہو سکتے تھے چرا کر لے آئے اوراپنے خاندانی چمچہ دان کی زینت بنا گئے کیونکہ عرصہ دراز سے اس فن چمچہ گیری نے ان کے اندر وہی نفسیات پیدا کر دی ہیں جو مستقل ایک ہی خاندانی پیشے سے وابستہ لوگوں میں پیدا ہو جاتے ہیں چنانچہ جہاں بھی جاتے ہیں داستاں چھوڑ آتے ہیں اور چمچے گھر لے آتے ہیں ۔

شوق تو ان کے بہت ہے کہ ان کو بھوت دانشوروں میں ڈال کر چینلوں اور اخباروں اور تقریبات وغیرہ میں بطور چمچہ لگا ریا چماچی تجزیہ نگار شامل کیا جائے ۔ لیکن بچارے کے ساتھ بڑی پرابلم ہو گئی یہ وہی پرابلم ہے جو اس طرح کے دھندوں میں پیدا ہو جاتی ہے یعنی نئے نئے لوگ آکر ان کا فن اپنا لیتے ہیں اور بڑی بڑی دکانوں میں سجا لیتے ہیں اور وہ اتنے مشہور ہو جاتے ہیں کہ اصلی دکان کہیں گم ہو جاتی ہے یہ ہم نے خود بھی دیکھا ہے اورآپ نے بھی دیکھا ہوگا ۔

ہمارے سامنے کی بات ہے ایک شخص کی مٹھائی بہت مشہور ہو گئی اب بھی مشہور ہے اور اتنی زیادہ مشہور ہے کہ اس مشہوری میں اصل ’’ بابا علی ‘‘ کا نام بھی کسی کو یاد نہیں

بابا علی اس شخص کا نام تھا جس نے مٹھائی ایجاد کی تھی جو مٹھائی آج بھی ہے لیکن بابا علی نہیں ہے اس مٹھائی کو ’’ رجڑ ‘‘ کی مٹھائی بھی کہتے ہیں یہ چارسدہ شہر کے پہلو میں آباد ایک گاؤں ہے اور تاریخ سے شفف رکھنے والوں کے لیے یہ بتا دیں کہ یہ ٹھیک اس شہر کے ملبے پر آباد تھے جہاں کبھی پشکلاوتی نام کا شہر تھا اور جو سکندر کے جرنیل غالباً پر ڈی کا س نے فتح کیا تھا ۔

اس شہر کی دو چیزیں مشہور تھیں ایک تو یہی رجڑ کی اصلی مٹھائی جو گڑ جیسی ہوتی ہے اور دوسرے یہاں کے جلاہے اور کھدر ۔ چنانچہ آپ جہاں بھی جائیں گے وہاں مٹھائی کی دکانیں نظر آئیں گی یا اصلی کھدر کی بلکہ اب تو ان دونوں چیزوں کی شہرت پورے ضلعے بلکہ صوبے میں بھی ہو چکی ہے اور دور دور تک ان کی دکانیں کھل گئی ہیں اصلی رجڑ کی مٹھائی اور اصلی رجڑ کی کھدر ۔

حالانکہ وہ جس نے یہ مٹھائی ایجاد کی تھی اس کی اولاد ایک گلی میں اسی پرانی دکان میں مٹھائی بیچتی ہے صرف چند ہی لوگ جانتے ہیں جو چکا چوند بازاروں کی چکا چوند دکانوں اور بڑے بڑے بورڈوں کو چھوڑ کر وہاں جاتے ہیں اور بچارے اصلی بابا کی اولاد کے نان و نقعے کا باعث ہیں ۔

ایسا ہی سلسلہ ایک ریستورانوں کے سلسلے کا ہے بابا ولی قندہار میں ایک بزرگ کا مزار ہے اس کے نام پر بابا ولی ریستوران پہلے قند ہار میں مشہور ہوا پھر پورے افغانستان میں پھیلتے ہوئے کابل تک پہنچا اور وہاں سے مہاجرت کے دوران خیبر پشتونخواہ میں پھیل گیا چنانچہ صرف پشاور میں کئی اصلی بابا ولی ریستوران ہیں یہ کہانی ہم نے محض کہانی کا شوق پورا کرنے کے لیے نہیں سنائی بلکہ مٹھائی اور ریستورانوں کی طرح اب یہ سلسلہ اور بھی بہت سارے کاموں میں شروع ہو چکا ہے جن میں ایک یہ چمچہ گیری کا فن بھی شامل ہے بلکہ سب سے زیادہ زور بھی اسی میں ہے کیونکہ مٹھائی ، ہوٹل ، کھدر ریوڑ یاں کباب یا حلوے کے لیے تو پھر بھی اچھا خاصا خرچہ اور اہتمام کرنا پڑتا ہے جب کہ چمچہ گیری میں کچھ بھی نہیں لگتا یہاں تک کہ چمچہ بھی نہیں لگتا کیونکہ چمچہ ہر شخص اپنے منہ میں لے کر پیدا ہوتا ہے بلکہ یہاں یہ غلط العام بھی دور ہو جائے کہ وہ جو ’’ سونے کے چمچے ‘‘ کا محاورہ ہے وہ تمثیلی ہے اصلی سونے کا چمچہ کوئی کیسے منہ میں لے کر پیدا ہو سکتا ہے اتنے چھوٹے سے بچے کے منہ میں تو دانتوں کی بھی گنجائش نہیں ہوتی تو چمچہ تو بڑی چیز ہے بلکہ اکثر بچہ چمچے جتنا اور چمچہ بجے جتنا بھی دیکھا گیا ہے اور پھر ماؤں کے پیٹ میں کیا کوئی سنارہے اور چمچے بنا کر منہ میں دیتا ہے ۔

اصل مطلب وہی ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں یہ چمچہ وہی چمچے جتنی زبان ہوتی ہے جو سونے کی ہوتی تو نہیں لیکن سونے پیدا کرسکتی ہے بلکہ ہیرے موتی بلکہ جائداد یں بلکہ عہدے یہاں تک کہ وزارتیں اور صدا تیں تک پیدا کر لیتی ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ ہمارا خاندانی چمچا چمتر چمچا داپنی تمام تر خاندانی اعزازات ، شخصی تجربات اور صلاحیتوں کے اپنے اصل مقام سے سلپ ہو چکا ہے بچارا یہاں وہاں چمچہ مار کر چمچہ گیری کرتا رہت ہے کبھی کبھی کچھ تھوڑا بہت چمچے میں بھر بھی لیتا ہے لیکن نئی چکا چوند دکانوں میں بچارے کا دھندہ مندا ہے سنا ہے آج کل صرف اپنا شوق پورا کرنے اور خاندانی روایت برقرار رکھنے کے لیے ’’ چمچے ‘‘ میں صرف ’’ پانی ‘‘ بھرتا رہتا ہے کبھی بھرتا ہے کبھی پھنکتا ہے کبھی نگل لیتا ہے اور درو دیوار یہ حسرت کی نظر کرتا ہے ۔

ہم نے عرصہ ہوا دیکھا نہیں ہے لیکن لوگ کہت ہیں کہ بچارے کا چمچہ بھی اپنی چمچ دمک کھو کر کالا ہو گیا ہے اس میں جو پانی لیا جاتا ہے وہ بھی کالا ہوتا ہے ظاہر ہے کہ منہ میں بھرنے سے منہ بھی کالا ہوجاتا ہے اس کا لے پانی سے بچارے کا مرجھا یا ہوا باغ بھی کالا ہو چکا ہے ۔

اور یہ تو بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ کالا رنگ ماتمی ہوتا ہے اس لیے خدشہ ہے کہ کہیں بچارے پر کالا دن تو طلوع نہیں ہونے والا اور یہ سب کچھ اس یوم سیاہ کا سنگیت تو نہیں ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا فی الحال یہبھی کسی ماتم سے کم نہیں ہے کہ نقل سازی اور جعل سازی کے کے اس دور میں اصلی جدی پشتی اور خاندانی لوگوں کا کیا برا حال ہے ۔پھرتاہے سیر خوار کوئی پوچھتا نہیں :

جسے نصیب ہو روز سیاہ اس جیسا

وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔