گارڈ آف آنر کے حقدار

ظہیر اختر بیدری  پير 30 جولائ 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

وہ معاشرے پستی اور ذلت کا شکار رہتے ہیں جو اپنے دانشوروں، مفکروں، عالموں، ادیبوں، شاعروں، آفاقی فکر کے حامل عالی مقام لوگوں کی قدر و منزلت نہیں کرتے، جو عوام مزدوروں، کسانوں کی خدمت اور ان کے حقوق کی جدوجہد میں ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔ وہ ملک اور معاشرے ابتری اور خواری کا شکار رہتے ہیں، جو چوروں، لٹیروں کو عزت و حرمت کے آسمان پر چڑھا دیتے ہیں، عزت و حرمت کا یہ رواج شاہانہ نظام میں پرورش پاتا رہا اور آج تک جاری ہے۔

ایک ملک کا سربراہ جب کسی دوسرے ملک کے دورے پر جاتا ہے تو اسے دوسری مختلف تعظیمات کے علاوہ گارڈ آف آنر پیش کیا جاتا ہے، خواہ وہ اپنے ملک کے اندر اور باہر عوام کا کتنا ہی ناپسندیدہ رہا ہو یہی حال ملک کے اندر کا ہے۔ حکمران خواہ کتنا ہی ناپسندیدہ اور بدنام ہو ہر ملک کا فرض ہے کہ وہ اپنے سرکاری مہمان کی عزت کرے، عزت کا ایک عمومی سمبل گارڈ آف آنر ہے، اگر حکمران مرحوم ہوجاتا ہے تو آنے والے مہمان اس کی قبر پر پھول کے گلدستے رکھتے ہیں اور اس کے مردہ جسم کو بھی گارڈ آف آنر پیش کرتے ہیں۔

یہ دستور اور رواج صدیوں سے رائج ہے اور اگر دنیا کا دانشور مفکر، ادیب، شاعر اور عالم طبقہ اس نا منصفانہ رواج کے خلاف آواز اٹھائے اور اسے تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے تو یہ شاہی اور غیر عاقلانہ رواج اسی طرح جاری رہے گا، چور لٹیرے ڈاکو مہمان بنتے رہیں گے اور جو لوگ ساری زندگی انسانیت کی بالادستی کے لیے لڑتے رہے گمنام اور لاوارث بنے رہیںگے۔

آج مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے کا خیال اس لیے آیا کہ دنیا کے بدنام ترین حکمران جہاں بھی جاتے ہیں ان کی خدمت میں گارڈ آف آنر پیش کیا جاتا ہے، جب کہ میڈیا ان کی ’’نیک نامیوں‘‘ اور کارناموں سے بھرا رہتا ہے۔ چونکہ یہ ریاستی پروٹوکول کا معاملہ ہے اس لیے اس پر تنقید نہیں کی جاسکتی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کا باشعور اور حساس انسان ان رسم و رواج کو کب تک اور کیوں برداشت کرتا رہے گا؟

دنیا میں بڑے بڑے مدبرین گزرے ہیں، دنیا میں بڑے بڑے دانشور گزرے ہیں، دنیا میں بڑے بڑے مفکرین گزرے ہیں، ان کے انتقال کے بعد بھی انھیں یاد رکھا جاتا ہے کیونکہ ان کی دانش، ان کے تدبر، ان کی اعلیٰ فکر اور آفاقی وژن کی پبلسٹی ہوتی ہے اور لابیاں ان کی زبردست لابنگ کرتی ہیں، انسانیت کی خدمت اور انسانیت کا اعلیٰ معیار اور آفاقی فکر کسی طبقے کی میراث نہیں، میرے عالم میں میرے دوستوں میں، ایسے ایسے آفاقی وژن رکھنے والے گزرے ہیں اور اب بھی حیات ہیں جن کی فکر، جن کی آفاقیت، جن کا تدبر، جن کی عوامی خدمات ایسی ہیں کہ ان کی قبروں پر روز گلاب چڑھانے چاہئیں، جن کی قبروں پر روز موم بتیاں جلائی جانی چاہئیں لیکن یہ فخرِ انسانیت زندگی میں بھی گمنام رہے، موت کے بعد بھی بے ننگ و نام رہے، ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ انسانوں کے درمیان تفریق اور امتیازات پیدا کردیے گئے ہیں۔

میرے جاننے والے عظیم لیکن گمنام لوگوں میں سے چند ایک کا ذکر کروںگا جنھوں نے اپنی ساری زندگی عوام کے حقوق کی جدوجہد میں گزاری، حتیٰ کہ شادی تک نہ کی، ان میں سے ایک کا نام محمد زبیر ہے۔ زبیر متحدہ ہندوستان ہی میں ٹریڈ یونین لیڈر رہے، ہندوستان میں مزدور جدوجہد کی ہر لڑائی میں وہ شامل رہے، جب پاکستان آئے تو یہاں بھی ان کی پہلی ترجیح مزدور اور ٹریڈ یونین رہی، اس عظیم انسان نے اپنی زندگی کا نصف کے قریب حصہ جیل میں عام قیدی کی طرح گزارا، وہ جیل کے باہر جیسا مزدوروں میں مقبول تھا اسی طرح جیل کے اندر قیدیوں میں مقبول رہا، جس نے مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں نصف کے لگ بھگ زندگی جیل میں گزاری، جس نے مزدوروں کے حقوق دلانے کے جنون میں شادی تک نہیں کی، اس کے شب و روز، اس کی زندگی، اس کی موت پر غور کریں تو اس غیر منصفانہ امتیازی سماج پر تھوکنے کو دل چاہتا ہے۔

وہ ایک کچی بستی کے ایک کمرے کے محل میں رہتا تھا، دل کا مریض تھا، اسی مرض نے اس کی جان لی، نہ اس کا علاج لندن میں ہوا، نہ امریکا میں، اس کی کچی بستی کے ایک ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا، جب اس کا انتقال ہوا تو دوستوں نے اس کچی آبادی کے ایک قبرستان میں اسے سپرد خاک کیا۔ اب اس کی قبر کہاں ہے کسی کو اس کا پتا نہیں، کیونکہ کوئی اس کا خیال کرنے والا نہ تھا۔ کیا یہ شخص گارڈ آف آنر کا حق دار نہیں۔ ترقی پسند دوستوں میں حسن عابدی ایک تعلیم یافتہ دوست تھے، فیض اور سبط کی رہنمائی میں ایک رسالہ لیل و نہار نکلتا تھا جس کے مدیر حسن عابدی تھے، اس رسالے کی مجلس ادارت میں ہم بھی شامل تھے۔ حسن عابدی، حسن ناصر کی زیر زمین زندگی میں ان کے مددگار تھے، ساری زندگی ترقی پسند ادب کی آبیاری میں گزار دی۔کیا وہ گارڈ آف آنر کے حق دار نہیں؟

قوالوں، گلوکاروں، اداکاروں کی زندگی اور موت دونوں ہی شاندار رہتی ہیں، ان کی برادری آج برتھ ڈے اور برسی پر پروقار تقریبات کرتی ہے، چند نامور ادیبوں اور شاعروں کے علاوہ سیکڑوں ایسے ادیب شاعر دانشور مدبر ہیں جن کی عوام کو نہ تاریخ پیدائش معلوم ہے نہ برسی کی تاریخ معلوم۔ یہ غنیمت ہے کہ چند غیر معمولی شہرت حاصل کرنے والوں کی برتھ ڈے اور برسی کا اہتمام کم ازکم میڈیا پر کیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے عوامی حقوق کی جدوجہد میں زندگی گزاردی اور اسی جد وجہد میں جان دے دی، انھیں یاد کرنے والا کون ہے؟ کیا یہ انسانیت کشی اور احسان فراموشی نہیں۔ مزدوروں، کسانوں، غریبوں کے لیے زندگی بھر جدوجہد کرنے والوں اور گمنام مرنے والوں کی ایک فہرست بننا چاہیے اور ان میں زیادہ خدمات انجام دینے والوں کے اعزاز میں انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا جانا چاہیے، گارڈ آف آنر کے حقیقی معنوں میں یہی حق دار ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔