2022 فٹبال ورلڈکپ؛ قطر کی میزبانی پر انگلش میڈیا نے سوال اٹھا دیا

اسپورٹس ڈیسک / خبر ایجنسی  پير 30 جولائ 2018
انگلینڈ کی امیدیں روشن ،خود کو متبادل کے طور پر پیش کردیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

انگلینڈ کی امیدیں روشن ،خود کو متبادل کے طور پر پیش کردیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

لندن: فٹبال ورلڈ کپ 2022 کیلیے قطر کی میزبانی پر انگلش میڈیا نے پھر سوالات اٹھادیے۔

سنڈے ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ قطر نے ورلڈ کپ کی میزبانی پانے کے لیے حریف ممالک امریکا اور آسٹریلیا کی بڈ کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا اور اس مقصد کیلیے خلیجی ملک نے امریکی پبلک ریلیشن فرم کی خدمات حاصل کی تھیں، اس خفیہ مشن کو ’ بلیک آپریشنز‘ کا نام دیا گیا تھا۔

مذکورہ اخبار اس سے قبل 2014 میں بھی قطر پر میزبانی پانے کیلیے ووٹ خریدنے کا الزام بھی عائد کرچکا ہے ، تاہم اس حوالے سے ہونے والی دو برس انکوائری کے بعد قطر کوکلین چٹ دے دی گئی، اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی امریکی وکیل مائیکل گارشیا نے کی تھی۔

نئی رپورٹ میں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میں قائم پبلک ریلیشنز فرم کے علاوہ سی آئی کے سابق ایجنٹس کو منفی پروپیگنڈا کرنے کے عوض رقم کی ادائیگی سے متعلق دستاویزات ان کے ہاتھ لگ گئی ہیں، جو اس سے قبل منظرعام پر نہیں آسکی تھیں،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر نے 2022 فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی پانے کیلیے حریف ممالک آسٹریلیا اور امریکا سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا کیا تھا، 2010 میں قطر نے حیران کن طور پر آسٹریلیا، امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی موجودگی کے باوجود ووٹنگ میں میزبانی کا حق حاصل کرلیا تھا، اسی وقت روس کو بھی 2018 ورلڈ کپ کی میزبانی سونپی گئی تھی۔

گیس کی دولت سے مالامال خلیجی ریاست نے حریف ممالک کی بڈ پر اثرانداز ہونے کیلیے حکمت عملی ترتیب دی تھی، جس کیلیے انفرادی طور پر لوگوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، جس میں بڈ میں شامل ممالک کے عوام کی حمایت کو کمزور کرنے کیلیے جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیاگیا، فیفا قواعد کی رو سے میزبانی کے دعوے دار ملک کو مقامی آبادی کی خاطرخواہ حمایت بھی درکار ہوتی ہے، تاہم منظر عام پر آنے والی امریکی پبلک ریلیشنز فرم کی اس سے متعلق ’ ای میلز‘ میں بتایاگیا ہے کہ قطری بڈ کے ڈپٹی لیڈر علی التواحدی نے مذکورہ فرم سے رابطہ کیا تھا، جنھوں نے اپنے ایجنٹس کیلیے حریف بڈرز کی رائے عامہ کو خراب کرنے کیلیے ’ زہر‘ پھیلایا۔

قطر اور روس کو دسمبر2010 میں ورلڈ کپ کی میزبانی دیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، میزبانی کیلیے ووٹنگ سے قبل میزبانی سے امریکی معیشت کے متاثر ہونے کی رپورٹ تیار کرنے پر ایک امریکی پروفیسر کو 9 ہزار ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔

دوسری جانب قطر کی ورلڈ کپ کی تیاریوں کیلیے قائم سپریم کمیٹی نے جاری کردہ بیان میں انگلش میڈیا کے عائدہ کردہ تمام الزامات کو سختی سے مسترد کردیا، ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اس سے قبل ووٹ خریدے جانے سے متعلق الزامات کی مکمل تحقیقات کرائی اور اس میں اپنی بڈ سے متعلق تمام معلومات حکام کو فراہم کی تھیں، ان تحقیقات کو امریکی اٹارنی مائیکل گارشیا نے مکمل کیا تھا، ہم نے فیفا قواعد پر عمل کرتے ہوئے ورلڈ کپ میزبانی کے عمل میں حصہ لیا اور تمام شرائط پوری کرتے ہوئے میزبانی کا حق حاصل کیا ہے۔

ادھر انگلش فٹبال ایسوسی ایشن اور انگلش بڈ کے چیئرمین لارڈ ٹرائزمین نے کہا کہ فیفا کوقطر کی میزبانی سے متعلق نئے شواہد کی جانب بھی دیکھنا چاہیے، ہوسکتا ہے ہمیں مشکل فیصلہ کرنا پڑے، اگر اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر نے فیفا کے قواعد سے روگردانی کی ہے تو پھر وہ ورلڈ کپ کی میزبانی نہیں کرسکتے، میرے خیال میں ایسی صورت میں فیفا کو دوبارہ انگلینڈ کو میزبانی دینے کے بارے میں سوچنا چاہیے، ہم اس کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔