نئی حکومت کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 30 جولائ 2018
درست پالیسیاں بناکرمسائل سے نمٹا جاسکتا ہے؛ سیاسی، اقتصادی و دفاعی ماہرین کا ایکسپریس فورم میں اظہارِ خیال۔ فوٹو: ایکسپریس

درست پالیسیاں بناکرمسائل سے نمٹا جاسکتا ہے؛ سیاسی، اقتصادی و دفاعی ماہرین کا ایکسپریس فورم میں اظہارِ خیال۔ فوٹو: ایکسپریس

25 جولائی کو عام انتخابات کے بعد اب حکومت سازی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف 116، پاکستان مسلم لیگ (ن) 64، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز 43، آزاد امیدوار 13، ایم ایم ایم اے 12، ایم کیو ایم پاکستان 6‘ پاکستان مسلم لیگ (ق) اور بلوچستان عوامی پارٹی4‘4 ‘بلوچستان نیشنل پارٹی3 اور جی ڈی اے نے2 نشستیں حاصل کی ہیں۔

واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف مختلف جماعتوں و آزاد امیدواروں کو ملا کر حکومت بنائے گی ۔ آئندہ حکومت سے عوام کی توقعات کیا ہیں؟ حکومت کو کون سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا؟ ان سے کیسے نمٹا جائے گا؟ کیس حد تک کامیابی ہوگی؟ اس طرح کے بے شمار سوالات عوام کے ذہنوں میں گردش کررہے ہیں جبکہ دنیا کی نظریں بھی پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔

اس اہم پیشرفت کو دیکھتے ہوئے ’’نئی حکومت کو درپیش چیلنجز اور عوامی توقعات‘‘ کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی، اقتصادی اور دفاعی ماہرین کو مدعو کیا گیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

 ڈاکٹر اعجاز بٹ (سیاسی تجزیہ نگار)

حالیہ انتخابات پاکستانی تاریخ کے بہترین اور شفاف انتخابات تھے،انتخابی عمل انتہائی ہموار طریقے سے چلتا رہا جس پر فافن اور یورپی یونین نے بھی اعتماد کا اظہار کیا لیکن الیکشن کمیشن کا سسٹم فیل ہونے کی وجہ سے ہارنے والی سیاسی جماعتوں کو دھاندلی کا شور مچانے کا موقع مل گیا ہے۔ لوگ عمران خان کے تبدیلی کے نعرے سے متاثر ہوکر نکلے،جن میں بڑی تعداد نوجوانوں اورپہلی مرتبہ ووٹ کاسٹ کرنے والوں کی تھی۔ عمران خان کی وکٹری اسپیچ متاثر کن اور بہترین تھی جس میں نواجونوں کے لیے روزگار، تعلیم ودیگر مسائل کا احاطہ کیا گیا۔ نئی حکومت کو بہت بڑے چیلنجز کا سامنا کرناپڑے گا، معیشت تباہ حال ہے، بیرونی سرمایہ دار سرماریہ کاری کیلئے تیار نہیں، اوورسیز پاکستانی بھی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں جبکہ لوگ ٹیکس دینے کو تیار نہیں ہیں لہٰذا عمران خان کو گڈ گورننس کی مثال قائم کرنا ہوگی۔ پی ٹی آئی مرکز اور خیبر پختونخوا میں با آسانی حکومت بنالے گی، اسے پنجاب میں بھی حکومت بنانی چاہیے بصورت دیگر تبدیلی کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے، اس کے لیے صرف سرکاری ملازمتیں ہی نہیں ہیں بلکہ انٹرپرینیورشپ کے ذریعے انہیں آگے لایا جائے۔ عمران خان نے ’’سٹیٹس کو‘‘ کے خاتمے کا جو نعرہ بلند کیا اسے عوام میںپذیرائی ملی، اب اگر وہ وزیراعظم ہاؤ س میں نہیں رہتے، گورنرہاؤسز کو بھی خالی کروادیتے ہیں تو یہ اچھا اقدام ہوگا اور اس کا اثر نیچے تک جائے گا۔ عمران خان نے خیبرپختونخوا میں اچھے کام کیے، گورننس ، پولیس، تعلیمی ادارے، ہسپتال بہتر کیے، یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخواکے عوام نے اپنی تاریخ کے برعکس تحریک انصاف کو دوسری مرتبہ منتخب کیا۔ عمران خان کے لیے سسٹم کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنا بہت بڑا چیلنج ہوگا، انہیں ر بیوروکریسی میں ایماندار لوگوں کو آگے لانا ہوگا۔ آئندہ 100دن انتہائی اہم ہیں جن میں معلوم ہوجائے گا کہ حکومت کیا کرے گی اور اس کا مستقبل کیا ہوگا،اگر حکومت نے ابتدائی مہینوں میں ہی بنیادی تبدیلیاں کرکے طریقہ کار وضع کردیا تو پھر اپوزیشن اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔ عمران خان کو اب کسی مصلحت میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ وہ خود کو رول ماڈل کے طور پر پیش کریں، اس کے لیے اگر انہیں اپنوں کی قربانی بھی دینا پڑتی ہے تو ضرور دیں لیکن سسٹم کو شفاف کریں، اداروں کو مضبوط کریں اور گڈ گورننس کی مثال قائم کریں۔

جنرل (ر) زاہد مبشر شیخ (دفاعی تجزیہ نگار)

گزشتہ حکومت نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا، اس کی خرابیوں کی وجہ سے اب نئی حکومت کو چیلنجز سے بھرپور ملک ملے گا جس میںمعاشی، سیاسی، سماجی و سفارتی چیلنجز سرفہرست ہیں۔ پاکستان کو عالمی سطح پر مسائل درپیش ہیں، آئندہ آنے والی حکومت کو سفارتی محاذ پر بہت محنت کرنا پڑے گی۔ عمران خان کی نیت صاف ہے، ان کی وکٹری اسپیچ اچھی تھی جو غریب عوام سے شروع ہوئی اور انہی پر ہی ختم ہوئی، انہوں نے اپنی تقریر میں خارجہ پالیسی کے خدوخال بیان کیے، نوجوانوں کیلئے روزگار، تعلیم و دیگر حوالے سے بھی بات کی غرضیکہ ہر چیز کا احاطہ کیا۔ عمران خان سادہ شلوار قمیض پہن کر آ ئے اور انہوں نے وزیراعظم ہاؤس و گورنر ہاؤسز کو بھی ختم کرنے کی بات کی، مجھے امید ہے کہ اب پاکستان کے بہتر دن شروع ہونے والے ہیں اور ہم مثبت سمت پر چل پڑے ہیں۔ انتخابات پرلگائے جانے والے الزامات پر یورپی یونین کے مبصرین وایشین وفد نے کلین چٹ دے دی ہے جس سے ثابت ہوگیا کہ دھاندلی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ عوام نے دانش کا مظاہرہ کرکے ملک کو نقصان پہنچانے والے تمام لوگوں کو رد کردیا۔ جو طاقتیں ملک کے خلاف کام کررہی ہیں وہ فوج اور عوام میں تعصب پیدا کرکے کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ پاک فوج کے ہوتے ہوئے وہ یہاں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ مجھے بلوچستان کے لوگوں کی بہادری پر رشک آتا ہے کہ اس مرتبہ وہ جس طرح ووٹ دینے نکلے، ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ کرپٹ حکمرانوں پر اللہ کی پکڑ ہوئی ہے ورنہ ان کے خلاف کارروائی آسان کام نہیں تھا۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی بات کی اور امن کا پیغام دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت ایسا نہیں چاہتا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی اس حوالے سے کوشش کی مگر بھارت اپنی بات سے مکر جاتا ہے۔ نئی حکومت کے لیے ہر طرح کے چیلنجز موجود ہیں، عمران خان نے مدینہ جیسی ریاست بنانے کے عزم کیا ہے لہٰذا اب انہیں اداروں کو مضبوط بنانے، معاشی، معاشرتی و دیگر مسائل کے حل کے لیے پالیسیاں بناکر تندہی سے کام کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر قیس اسلم (ماہر معاشیات)

نئی حکومت کے لیے ادائیگیوں کے توازن میں خسارہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ 40بلین کا تجارتی خسارہ ہے جس میں کمی کے لیے سرمایہ داروں کو مراعات دینا پڑیں گی اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ممبر ہونے کی وجہ سے ہم درآمد پر پابندی نہیں لگاسکتے مگرکل قیمت کا 35 فیصد سیلز ٹیکس لگایا جاسکتا ہے لہٰذا جب قیمت بڑھے گی تو ڈیمانڈ میں کمی آجائے گی۔ ہم بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتے ہیں، اس میں کمی کیلئے ہمیں مقامی وسائل سے بجلی پیدا کرنا ہوگی۔ خوردنی تیل کی درآمد بھی بہت زیادہ ہے،ہمیں سورج مکھی و مکئی کا تیل وغیرہ پیدا کرکے اس میں کمی لاناہوگی۔ اوورسیز پاکستانی 50 بلین پاکستان بھیجتے ہیں جس میں سے 19بلین بینکوں جبکہ 31 بلین ہنڈی کے ذریعے آتا ہے، اس میں بہتری کیلئے بینکنگ ریفارمز اور پیسہ بھیجنے والوں کو مراعات دینی چاہئیں۔ نئی حکومت کے لیے دوسرا چیلنج مالیاتی خسارہ ہے، مالی وسائل کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے وسائل ضائع ہوئے جبکہ40 فیصد قرض اتارنے میں چلا جاتاہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ پارٹنر ممالک کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور ان سے 5سال کے لیے کچھ رعایت لے لی جائے اس سے تقریباََ 50 فیصد پیسہ بچایا جاسکتا ہے۔ سرکاری اداروں کے سربراہان و بڑے افسران ایک بلین ڈالر کھا رہے ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ سربراہان کو تبدیل اور احتساب کیا جائے کہ انہیں اتنی تنخواہ کیوں مل رہی ہے۔ آئی ایم ایف، پی آئی اے، سٹیل ملز، ریلوے و دیگر ادارے بیچے کیلئے دباؤ ڈالے گا، حکومت کو چاہیے کہ بیچنے کے بجائے ان اداروںمیں ریفارمز کے ذریعے بہتری لائے ، اس سے ایک بلین ڈالر بچت ہوگی۔ تحریک انصاف کو نوجوانوں و خواتین کی بڑی تعداد نے ووٹ دیا ہے، انہیں امید ہے عمران خان ان کے بہتر مستقبل کے لیے کام کریں گے لہٰذا تحریک انصاف کو غربت کے خاتمے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے بہت زیادہ کام کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ نظام تعلیم کو مضبوط کرنا ہوگا، ٹیکنیکل ٹریننگ کو تعلیم کا لازمی حصہ بنانا ہوگا تاکہ طلبہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔ سی پیک کے ساتھ ساتھ چھوٹی صنعتوں کا جال بچھایا جائے، بیرونی سرمایہ داروں اور اوورسیز پاکستانیوں کویہاں سرمایہ کاری کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں اورنئی مارکیٹیں تلاش کی جائیں، اس سے نہ صرف معاشی ترقی ہوگی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ پورپ، برطانیہ، برکس، چین، روس و دنیا کے دیگر بڑے ممالک ہمارے ساتھ چلنے کو تیار ہیں،انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ ٹیکس سکیم کو از سر نو دیکھنا ہوگا اور عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے منافع پر ٹیکس لیا جائے۔ بڑے ڈیمز میں مسائل زیادہ ہیں ،صوبائی سطح پر بھی ڈیمز بنائیں جائیں تاکہ پانی کے مسئلے سے نمٹا جاسکے۔ ہم نوجوانوں پر مشتمل دنیا کی چھٹی بڑی آبادی ہیں لہٰذا ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے اور انہیں سفیر بناکر دنیا بھر میں بھیجنا چاہیے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت کے بعد لوگوں نے تحریک انصاف کو اتنی پذیرائی دی ہے لہٰذا انہیں پیپلز پارٹی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے اور اپنے وعدوں کی تکمیل کے لیے بھرپور طریقے سے کام کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر زمرد اعوان (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، ایف سی کالج یونیورسٹی)

ملکی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ نواز شریف کے جیل میں ہونے کی وجہ سے ملک کی ایک بڑی جماعت نے بغیر سربراہ کے الیکشن لڑا۔ عوام نے تحریک انصاف کے کرپشن کے خاتمے کے نعرے کو عزت دی اور بڑے بڑے برج الٹ دیے۔ الیکشن کمیشن کی پری پول تیاری بہترین تھی، الیکشن صاف و شفاف ہوئے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام اداروں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب گلے سڑے نظام کو کسی بھی مصلحت کے تحت سپورٹ نہیں کرنا۔ 2013ء کے مقابلے میں تحریک انصاف نے زیادہ لوگوں کو متحرک کیا کیونکہ عمران خان نے سیاسی کلچر کی تبدیلی و انسانی ترقی پر بات کی جسے قوم نے پذیرائی دی۔ حالیہ انتخابات سے1970ء کے انتخابات کی یاد تازہ ہوگئی ہے، تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک جماعت کا سربراہ 5 حلقوں سے الیکشن لڑا اور پانچوں ہی جیت گیا۔ اب تحریک انصاف کے لیے پہلا چیلنج تمام صوبوں و مرکز میں حکومت بنانا ہے۔ مرکز میں تو باآسانی بن جائے گی تاہم پنجاب میں حمزہ شہباز مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ انتخابی نتائج کے لحاظ سے تحریک انصاف وفاق کی جماعت کے طور پر ابھری ہے جو پہلے صرف ایک صوبے تک محدود تھی اور اس نے لاہور اور کراچی میں بڑے ڈینٹ ڈالے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے مسلم لیگ (ن) اپنی ہار تسلیم کرچکی ہے اور اب اسے یہ بھی معلوم ہوگیا ہے کہ تحت لاہور بھی چھن جائے گا۔ نئی حکومت کو جن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا ان میں معاشی و سماجی دو بڑے چیلنجز ہیں۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ہم 9 بدترین ممالک کی فہرست میں شامل ہیں،اس کے علاوہ انسانی ترقی کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔عمران خان نے ہیومن ڈویلپمنٹ کی بات کی ہے جو بہترین ہے۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ چین سے رہنمائی لیں گے کہ کس طرح اس نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا اور کرپشن کا خاتمہ کیا۔ سی پیک کے حوالے سے  خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا مگر انہوں نے واضح کر دیا کہ یہ ملکی ترقی کا منصوبہ ہے لہٰذا جاری رہے گا۔ انہوں نے افغانستان و دیگر ممالک سے تعلقات کی بات کی۔ امریکا کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات، مشرق وسطیٰ، سعودی عرب، ایران و دیگر ممالک کی بات کی اور ثالثی کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔ عمران خان کے حوالے سے بھارت نے جس طرح کا طرز عمل اختیار کیا، انہوں نے اس پر بھی اپنا ردعمل دیا کہ وہ جنوبی ایشیاء میں امن چاہتے ہیں جو کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں لہٰذااسے ڈائیلاگ سے حل کیا جائے۔ عمران خان کی تقریر سے نیشنل پالیسی واضح ہوگئی ہے کہ اب ملک کس سمت میں چلے گا۔ دھاندلی کے حوالے سے عمران خان کی پوزیشن واضح ہے، انہوں نے اس کی تحقیقات میں تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے جو خوش آئند ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔