قومی وحدت کی علامت

عبدالقادر حسن  بدھ 1 اگست 2018
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

انتقال اقتدار مکمل ہونے جا رہا ہے، گزشتہ دو حکومتیں اپنی معینہ مدت پوری کرکے اختتام پذیر ہو ئیں بلکہ یہ کہا جائے تو کسی حد تک درست ہو گا کہ گزشتہ حکومتوں کے اختتام کے ساتھ ان کی پارٹیاں بھی عوام میں اپنی مقبولیت کھو بیٹھیں اور پانچ سالہ اقتدار کے باوجود انتخابات میں کوئی قابل ذکر کار کردگی دکھانے میں ناکام رہیں۔ پنجاب میں نواز لیگ نے دس سالہ اقتدار کے باعث اچھا مقابلہ کیا اور اب وہ ایک تگڑی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔مولانا فضل الرحمٰن کے اس اصرار کے باوجود کہ اپوزیشن کے اراکین اسمبلی میں حلف نہ اٹھائیں، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے حلف اٹھانے کا جمہوری فیصلہ کیا اور حکومت کو مضبوط اپوزیشن دینے ارادہ ظاہر کیا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن اس اسمبلی میں موجود نہیں ہوں گے، اس سے پہلے وہ ہر حکومت کے اتحادی رہے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں سوشل میڈیا پر طرح طرح کے لطیفے پڑھنے کو مل رہے ہیں ۔ مرزا غالب سے معذرت کے ساتھ۔

گو ہاتھ میں سیٹ نہیں خواہش اقتدار میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے

لیکن یہ ساغر و مینا عمران کے کھلاڑیوں نے ان کے آگے سے اٹھا دیا ہے اور وہ اپنی آبائی سیٹوں سے ہار گئے۔

الیکشن کے بعد قومی اسمبلی میںاپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی تعداد بھی تقریباً اتنی ہی ہو گی جتنی کہ حکومتی اراکین کی تعداد کیونکہ یہ بات نظر آرہی ہے کہ عمران خان سادہ اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔ پیپلز پارٹی کے بعد تحریک انصاف وہ واحد جماعت بن کر سامنے آئی ہے جو اپنے آپ کو قومی پارٹی کہلا سکتی ہے۔ تحریک انصاف میںملک کے چاروں صوبوں کی نمایندگی موجود ہے، حیران کن طور پر کراچی سے تحریک انصاف کی کامیابی ایک اچھی خبر ہے جس کا قوم کو ایک مدت سے انتظار تھا کیونکہ کراچی میں گروہی سیاست کو فروغ دے کر ایک ہی جماعت کو عوام پر مسلط کر دیا گیا اور روشنیوں کا شہر تاریکیوں میں ڈوب گیا،اب تحریک انصاف کی روشن خیال قیادت کے ہوتے ہوئے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ کراچی کی روشنیاں بحال ہو جائیں گی۔

کراچی جو کہ کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن اس کو ایم کیو ایم نے لیاری تک محدود کر دیا اور اب جو نتائج لیاری سے آئے ہیں وہ بدلتے پاکستان کے نتائج ہیں، عوام نے اب یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ جماندروں سیاستدانوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور نئی قیادت سامنے لانا چاہتے ہیں، اسی وجہ سے تحریک انصاف سندھ سے قومی اسمبلی کے ساتھ صوبائی اسمبلی کے لیے بھی اپنا حصہ وصول کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کی نمایندگی موجود ہے اور خیبر پختونخواہ جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے پٹھان بھائی الیکشن میں ہر دفعہ نئی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں انھوں نے بھی دوبارہ تحریک انصاف کو ووٹ دے کر اس بات کو تقویت دی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کچھ ایسے کام تو خیبر پختونخواہ میں کیے ہیں جس کی وجہ سے وہ دوبارہ دوتہائی اکثر یت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

عمران خان کا بدلتے اور نئے پاکستان کا تصور ملک بھر میں قبول کیا گیا ہے، ان کی پاکستانیوں کو جگانے کی خواہش پوری ہو گئی ہے ،قوم ان کی آواز پر جاگ چکی ہے اور اب عوام ان کے اقتدار کا انتظار کر رہے ہیں ۔عوام نے جس طرح عمران خان کو ووٹ دیے ہیں میں یہ کالم عوام کی تعریف میں لکھنا چاہتا ہوں کہ بیچ میں بار بار ان کے نو منتخب لیڈر کا ذکر آگیا ۔ دراصل عمران خان اور ان کے ووٹر اس قدر گڈ مڈ ہو گئے ہیں کہ ایک کے ذکر میں سے دوسرے کا ذکر نکل آتا ہے۔

عمران اپنے بے پناہ چاہنے والوں کی امیدوں کا آخری سہارا ہے اس کے کندھے پر ملک کا بوجھ ایک ایسے وقت پر آن پڑا ہے جب ملک کی معاشی حالت انتہائی دگرگوں ہو چکی ہے، عالمی ساہوکار ہمیں مکمل طور پر اپنے شکنجے میں جکڑ چکے ہیں، ہماری ادائیگیوں کا توازن بگڑ چکا ہے، روپے کی قدروقیمت اپنی بے قدری کی انتہا پر ہے ۔ ملک کے بڑے ادارے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں بلکہ سسک سسک کر چل رہے ہیں، ملک میں کاروبار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، کوئی نئی صنعت نہیں لگ رہی اور جو چل رہی تھیں وہ گزشتہ حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے بند ہو گئی ہیں، اب ملک میں صرف ٹریڈنگ ہو رہی ہے جس کے سہارے پاکستان جیسا ملک چلانا ممکن نہیں ۔ ہمیں ملک میں کاروبار اور صنعتیں چاہئیں تا کہ ملک کاپہیہ چلے ۔

کاروبار کے ماہر لوگ تو پاکستان اسٹیل جیسی نعمت کو بگاڑ میں ہی چھوڑ کر چلے گئے حالانکہ وہ چاہتے تو اسٹیل مل دوبارہ سے ملک کی ضروریات پورا کرنے کے لیے چلائی جا سکتی تھی کیونکہ ان میں یہ صلاحیت تھی اور اسٹیل مل چلانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا لیکن معلوم نہیں انھوںنے اس کی طرف توجہ کیوں نہیں دی۔ کاروباری لوگوںکی حکومت کے بار بار مزے لوٹنے کے بعد اب ہم ایک ایسے سیاستدان کے سپر دہو گئے ہیں جو سیاستدان نہیں ہیں بلکہ ایک سادہ مزاج کے انسان ہیں جو کرکٹ کھیلنے کے بعد فلاحی کاموں میں کامیاب رہے، انھوں نے قوم سے اپنے فلاحی کاموں کے لیے چندہ اکٹھا کیا اور اس کا درست استعمال کر کے یہ ثابت کیا کہ عوام کا پیسہ ان کی فلاح پر لگایا جا سکتا ہے ورنہ اس سے پہلے ملک سنوارنے کے نام پر جو عوام نے اپنی جمع پونجی سرکاری خزانے میں جمع کرائی تھی اس کا ابھی تک کچھ اتا پتا معلوم نہیں ہو سکا کہ قوم کے سرمائے سے کس کس کا قرض اتار ا گیا کیونکہ وہ سرمایہ تو قرض اتارو ملک سنوارو کے نام پر عوام سے جمع کیا گیا تھا۔

عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف قومی وحدت کی علامت بن کر اقتدار میں آرہی ہے، چاروں صوبوں میں نمایندگی نے تحریک انصاف کو چار چاند لگا دیے ہیں اور یہ چاند عوام کی وجہ سے لگے ہیں ۔ تحریک انصاف اور اس کے لیڈر پر بھاری ذمے داری ہے کہ وہ قوم کی توقعات کے مطابق ایسی حکومت کرے جس میں عوام کے لیے آسانیاں ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔