امریکا، سودی قرضے اور نئی حکومت کو درپیش چیلنج

عنایت کابلگرامی  ہفتہ 11 اگست 2018
بیرونی قرضوں کی وجہ سے ملک کا ہر ایک فرد بشمول ایک دن کے بچے کے، ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

بیرونی قرضوں کی وجہ سے ملک کا ہر ایک فرد بشمول ایک دن کے بچے کے، ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

پاکستان کو آزاد ہوئے 71 واں سال ہونے کو ہے، امریکا اور اس کے حواری روز اول سے ہی امریکا کو پاکستان کا اتحادی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان سے لے کر اب کی بار بننے والے وزیراعظم تک سب کے اتحادی تھے اور ہیں۔ جبکہ مزید کہنا ہے کہ امریکا نے بلاشبہ پاکستان کو امدادی قرضے دیے اور عالمی بینک و دیگر عالمی اداروں کو پاکستان کے ساتھ مالی تعاون پر راضی کیا۔

مگر امریکا اور اس کے کہنے پر قرض دینے والے ممالک اور ان کی ایجنسیوں کی بدنیتی ان سے بڑھ کر خود پاکستانی حکمرانوں کی ذاتی اغراض، مفاد پرستی، نااہلی اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے ملنے والی امدادی اور قرضوں کی رقم پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی اس میں سے ایک بڑا حصہ ہڑپ کرلیا جاتا ہے، باقی بچی ہوئی رقم کو لیے گئے مقاصد میں خرچ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان رقوم سے کوئی بڑا اقتصادی معاملہ حل کیا جاتا ہے۔ جیسے یہ رقم پاکستان پہنچتی ہے یہاں کی بندر بانٹ کے بعد باقی رقم لیے گئے قرضوں کی سود میں چلی جاتی ہیں۔

پاکستان شاید دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو حاصل شدہ قرضوں کی سود ادا کرنے کےلیے مزید قرضہ لیتا ہے، پاکستانی قوم شاید اس بات سے بے خبر ہے کہ پاکستان کی کئی تاریخی عمارتیں، ہوائی اڈے، شاہرا ہیں تک غیر ملکی قرضوں میں گروی رکھی جا چکی ہیں، ان قرضوں کی وجہ سے ملک کا ہر ایک فرد بشمول ایک دن کے بچے کے، ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے۔

ایک طرف ملک دن بہ دن غیر ملکی اور عالمی اداروں کے قرضوں میں ڈوبتا جا رہا ہے، تو دوسری طرف حکومت کے حصول کےلیے پاکستانی سیاسی جماعتوں کے رہنما ان ہی غیرملکی اداروں اور امریکا کو یہ پیشکش کر رہے ہیں کہ اگر ہمیں اقتدار دیا جائے تو ہم امریکا کو پاکستانی ایٹمی اثاثوں تک رسائی دے سکتے ہیں۔ ایک مذہبی جماعت کے رہنما کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے بھی امریکا کو پیشکش کی کہ اگر مجھے وزیراعظم بنادیا جائے اور اس مسند پر فائز ہونے کا موقع دیا جائے تو میں پاکستان اور افغانستان سے طالبان کا صفایا کرا دونگا، جبکہ ان کی اسی پیشکش کو بنیاد بنا کر عالمی اداروں نے ان کو اور ان کے گروپ کو طالبان سے تعلقات اور قریبی مفاہت کا الزام لگا دیا؛ جن کی بنا پر ان کو حالیہ الیکشن میں آؤٹ کیا گیا۔

پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا پر اپنی بالادستی قائم کرنے کےلیے امریکا و دیگر مغربی طاقتیں ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں اور اسی کوشش میں وہ پاکستان کو ہر وقت دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ پاکستان کی ہر کمزوری کا بھرپور فائدہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں۔ سابقہ حکومت کے اختتام کے ساتھ پاکستان بیرونی قرضوں میں اس بری طرح جکڑا ہوا ہے کہ آنے والی نئی حکومت کو سود کی قسطیں ادا کرنے کےلیے بھی سود پر ہی نیا قرضہ حاصل کرنا ہوگا؛ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں ہے نئی حکومت کے پاس۔ بس یہی وہ کمزوری ہے جس کا فائدہ امریکا اور اس کے اتحادی اٹھایئں گے۔

پاکستان کے خالی خزانے کو دیکھ کر امریکا بہادر یہ آس لگائے بیٹھا ہے کہ کب پاکستان آئی ایم ایف کوسمری بھیجتا ہے کہ ہمیں قرضہ دو۔ جیسے ہی پاکستان آئی ایم ایف سے قرضے کی مانگ کرے گا، امریکا کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ سخت ترین شرائط کے ساتھ پاکستان پر ایسا کاری وار کرے کہ پاکستان اقتصادی طور پر آئندہ اٹھ نہ سکے، یوں وہ پاکستان پر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کروانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

پاکستان کے متوقع وزیر خزانہ اسد عمر نے کچھ دنوں قبل ایک بیان میں کہا کہ پاکستان قرضہ حاصل نہیں کرے گا، بلکہ خود اپنے وسائل و دیگر ذرائع سے اقتصادی بحران پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔ ان کا یہ بیان خوش آئند ہے، مگر ایسا ممکن نظر نہیں آتا، کیوںکہ اس نظام کوسمجھنے کےلیے اسد عمر صاحب کو کم و بیش ایک سال لگے گا۔ اتنے میں عالمی دباؤ کے نتیجے میں پاکستانی حکومت قرضہ لینے پر مجبور ہوجائے گی ۔

اس وقت پاکستان کو شدید مالی پریشانی کا سامنا ہے۔ ایک طرف بیرونی قرضوں کی قسطیں پوری ہورہی ہیں تو دوسری جانب ترقیاتی کاموں پر بھی بھاری بجٹ صرف ہوا ہے جنہیں پایائے تکمیل تک پہنچانے کےلیے بھی مزید بھاری رقم درکار ہے۔ اس کےلیے یا تو سود پر مزید قرضہ لینا ہوگا، جس کی طاق میں امریکا بیٹھا ہوا ہے، کہ کب یہ آئیں اور ان کی کمزریوں کا فائد اٹھایا جائے۔

یا پھر پاکستان کی لوٹی ہوئی رقم جو غیر ملکی بینکوں میں پڑی ہوئی ہے اس کو جلد از جلد قومی خزانے واپس لانا ہوگا۔ اس کےلیے موثر قانون بنایا جائے، فوج و عدلیہ سے بھی مدد لی جائے، یہ دونوں ادارے اس وقت ملک میں مقبول بھی ہیں اور اپنے کام میں کامیاب بھی، جس طریقے سے انہوں نے عام دہشت گردی کو قابو کیا، اسی طرح یہ معاشی دہشت گردوں کو بھی لگام ڈالنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

ایک طرف امریکا پاکستان کی نئی حکومت سے اچھے تعلقات چاہتا ہے، دوسری طرف آئی ایم ایف کو دھمکی دی ہے کہ پاکستان کو نئے قرضے ہماری شرائط کے بغیر ادا نہیں کرے، کیوں کہ ان قرضوں سے پاکستان چین کے قرضے ادا کرے گا، جو امریکا کبھی نہیں چاہے گا۔

مالی مسائل، دہشت گردی کے مسائل آبی مسائل پڑوسیوں سے تعلقات اور دیگر کئی ساری پریشانیوں میں نئی حکومت شروع سے ہی جکڑے گی، لیکن اگر یہ حکومت تحریک انصاف کی بنی تو مسلم لیگ (ن) بھی ان کے گلے کی وہ ہڈی بن جائیگی کہ اس کو یہ نہ نگل سکے گی نہ ہی اگل سکے گی۔ (ن) لیگ اپنے بدلے سود سمیت لے گی، یہاں بھی تبصرہ سود ہے۔

’’امریکا، سودی قرضے اور نئی حکومت کو درپیش چیلنج‘‘ میں سے سب سے اہم مسائل ہیں، جسے نئی حکومت کیسے قابوکرتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔