امریکا نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی تربیت کے منصوبے ختم کردیئے

رائٹرز  جمعـء 10 اگست 2018
یہ منصوبے گزشتہ ایک دہائی سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط عسکری تعلقات کی بنیاد تھے (فوٹو: فائل)

یہ منصوبے گزشتہ ایک دہائی سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط عسکری تعلقات کی بنیاد تھے (فوٹو: فائل)

 واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے خاموشی کے ساتھ پاکستانی افسران سے قطع تعلق کرتے ہوئے ایسے متعدد باہمی تربیتی اور تعلیمی منصوبوں کو ختم کردیا جو گزشتہ ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط عسکری تعلقات کی بنیاد تھے۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کا قدم پہلے کبھی نہیں اٹھایا گیا تاہم اسے اس سال صدر ٹرمپ کے ان اقدامات کے تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی جانب سے مزید شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کرنے پر امریکی سیکیورٹی مدد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اگرچہ پاک فوج اور پینٹاگون نے براہِ راست اس پر کوئی رائے نہیں دی لیکن دونوں ممالک کے افسران نے ذاتی سطح پر اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ پریشان کن فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ پاکستانی افسران نے اس فیصلے پر خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری لیڈرشپ کی تربیت کےلیے چین اور روس سے رجوع کرسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کےترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام (آئی ایم ای ٹی) کے تحت اس سال 66 پاکستانی افسران کو تربیت فراہم کرنا تھیں اور اب ان مواقع کو ختم کیا جارہا ہے۔ یہ مواقع یا تو استعمال نہیں ہوں گے یا کسی اور ملک کو فراہم کردیئے جائیں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے سابق نمائندہ خصوی، ڈین فیلڈ مین نے اس قدم کو ’ بہت تنگ نظری‘ قرار دیتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مستقبل پر منفی اثرات کی وجہ کہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک نمائندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ آئی ایم ای ٹی منسوخی کی قیمت 24 لاکھ ڈالر ہے اور اس سے مزید دو منصوبے بھی متاثر ہوں گے۔ اب یہ واضح نہیں کہ امریکی اور پاکستانی فوجی حکام آئی ایم ای ٹی سے ماورا رہتے ہوئے کس طرح کے اعلیٰ سطح تعلقات قائم رکھتے ہیں؟

اہم امر یہ ہے کہ پاکستان اور امریکی فوجی تعاون ہمیشہ سے سیاسی دباؤ اور تعلقات سے آزاد رہا ہے۔ پینسلوانیہ میں امریکی فوجی کالج میں 37 پاکستانی فوجی افسران سمیت  ڈی جی آئی ایس آئی بھی پڑھ چکے ہیں لیکن اس سال ان کی فہرست میں ایک بھی پاکستانی فوجی افسر شامل نہیں۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل اپنے ٹویٹ میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور جھوٹ بولتا رہا ہے۔

دوسری جانب سینیٹ میں خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے اس اقدام کو مخالفانہ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسی ہفتے روس اور پاکستان فوجی تربیت کے ایک معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں جس کے تحت پاکستان فوجی افسران روسی اداروں میں تربیت حاصل کریں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔