مایا تہذیب کی زوال پذیری کا سبب کیا تھا؟ سائنس دانوں نے صدیوں پرانا معمّا حل کرلیا!

ندیم سبحان میو  اتوار 12 اگست 2018
مایا اقوام کے صحائف ڈھونڈ ڈھونڈ کر جلائے گئے، ان کی تعمیرات کو نقصان پہنچایا گیا۔ فوٹو: فائل

مایا اقوام کے صحائف ڈھونڈ ڈھونڈ کر جلائے گئے، ان کی تعمیرات کو نقصان پہنچایا گیا۔ فوٹو: فائل

ماہا تہذیب کا شمار دنیا کی قدیم اور متمدن ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے۔ یہ تہذیب تین ہزار سال تک وسطی امریکا میں پھیلی رہی۔ اس خطے میں آج کل میکسیکو، ہونڈوراس، بیلیز اور گوئٹے مالا کے ممالک موجود ہیں۔

ماہرین 600 قبل مسیح کو ان کے عروج کا نقطہ آغاز بتاتے ہیں جو900 عیسوی تک جاری رہا۔ اس دوران مایا قوم نے بڑے علاقوں میں شہری تعمیرات کیں۔ اسی دور میں انہوں نے یادگاری تحریریں چھوڑیں اور اپنی تہذیب اور تمدن کو باقاعدہ ریکارڈ کیا۔

مایا تہذیب میسو امیریکن کی دیگر اقوام سے یوں ممتاز تھی کہ انھوں نے بہت پہلے لکھنا سیکھ لیا تھا۔ ان کا اپنا طرز تحریر تھا۔ اس کے علاوہ ریاضی میں بھی ان کی ترقی حیرت انگیز تھی نہ صرف یہ کہ انھوں نے اعداد لکھنا سیکھ لیے تھے بلکہ یہ صفر کے استعمال سے بھی واقف تھے۔ فلکیات، طبیعیات، جراحت اور زراعت میں ان کی ترقی حیران کن تھی۔ ان کی تہذیبی اور ثقافتی برتری نے اردگرد کی دیگر اقوام کو بھی متاثر کیا۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا حتی کہ ہسپانوی نوآبادکار ان علاقوں میں پہنچے اور مایا تہذیب کو بزور طاقت زوال پذیر ہونے پر مجبور کیا گیا۔

مایا اقوام کے صحائف ڈھونڈ ڈھونڈ کر جلائے گئے، ان کی تعمیرات کو نقصان پہنچایا گیا اور ان کی زبان اور مذہبی رسومات کو شیطانی قرار دیا گیا۔ تاہم تاریخ داں کہتے ہیں کہ ہسپانویوں کی یلغار مایا تہذیب کے ناپید ہوجانے کا سبب نہیں تھی۔ اس تہذیب کے تاریخ کے اوراق میں گُم ہوجانے کی وجوہات کچھ اور تھیں۔

شان دار اہرام اور عبادت گاہیں تعمیر کرنے والی مایا قوم کے زوال کے اسباب جاننے کے لیے ماہرین عشروں سے سرگرم ہیں۔ اس ضمن میں کی گئی تازہ تحقیق کے مطابق مایا تہذیب کو مٹانے کا ’جُرم ‘ ہسپانوی نوآبادکاروں نے نہیں کیا بلکہ یہ شان دار تہذیب 1000ء میں خشک سالی کے ہاتھوں انجام کو پہنچ چکی تھی۔ درحقیقت جب سولھویں صدی میں ہسپانوی حملہ آور اس خطے میں پہنچے تو مایا قوم کے شہر سائیں سائیں کرتے تھے اور وہاں کسی ذی روح کا وجود ڈھونڈے نہیں ملتا تھا۔

قبل ازیں کیے گئے تحقیقی مطالعات میں بیرونی حملہ آوروں، جنگوں، وبائی امراض کو مایا تہذیب کے زوال کا سبب بتایا گیا تھا۔ تاہم کیمبرج اور فلوریڈا یونی ورسٹی کے محققین پر مشتمل ٹیم کے مطابق کئی سال کی محنت شاقہ کے بعد اس نے ٹھوس شواہد حاصل کرلیے ہیں کہ طویل خشک سالی نے اس خطے پر تباہ کُن اثرات مرتب کیے تھے جس کے نتیجے میں بہ تدریج یہ خطہ ویران ہوتا چلاگیا۔ محققین نے یہ رائے میکسیکو میں واقع Chichancanab نامی جھیل سے حاصل کردہ پانی کے نمونوں کا تجزیہ کرنے کے بعد قائم کی ہے۔

پانی کے تجزیے کے دوران سائنس دانوں نے اس میں جپسم کے ہم جا (آئسوٹوپ) کی مقدار کی پیمائش کی۔ چپسم وہ معدن ہے جو جھیلوں میں خشک سالی کے زمانے میں تشکیل پاتی ہے۔ جپسم کی تشکیل کے بعد آبی مالیکیول براہ راست اس کی قلمی ساخت میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یوں اس قلمی ساخت میں ان تمام ہم جا کا ریکارڈ محفوظ ہوجاتا ہے جو اس کی تشکیل کے وقت (پانی میں) موجود تھے۔

کیمبرج یونی ورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم اور ریسرچ ٹیم کے رکن نک ایوانز کہتے ہیں کہ خشک سالی کے زمانے میں جھیلوں سے پانی کی کثیر مقدار آبی بخارات بن کر اڑجاتی ہے، چوں کہ پانی کے ہلکے ہم جا تیزرفتاری سے بخارات میں تبدیل ہوتے ہیں، لہٰذا باقی رہ جانے والا پانی بھاری ہوتا چلا جاتا ہے۔ پانی کے بھاری ہم جا جیسے آکسیجن 18 اور ہائیڈروجن 2 (ڈیوٹریئم) خشک سالی کا پتا دیتے ہیں۔

جھیل میں پائے جانے والے جپسم کی تہوں میں مختلف ہم جا کے تناسب کا تجزیہ کرنے کے بعد محققین یہ انداز کرنے میں کام یاب ہوئے کہ مایا کے زوال کے زمانے میں بارش کی کیا صورت حال تھی۔ دورانِ تحقیق حاصل کردہ ڈیٹا کی مدد سے انھوں نے ایک ماڈل تشکیل دیا۔ اس ماڈل کے ذریعے انھوں نے جانا کہ مایا کے آخری دور میں بارش کی سالانہ مقدار میں 70 فی صد تک کمی آچکی تھی۔ اس کے نتیجے میں مایا قوم کے لیے کھیتی باڑی اور گلہ بانی مشکل تر ہوتی چلی گئی چناں چہ وہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے اور یوں ان کے بسائے گئے شان دار شہر ہمیشہ کے لیے ویران ہوگئے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔