کراچی کو کچھ مل جائے تو…

ڈاکٹر توصیف احمد خان  ہفتہ 11 اگست 2018
tauceeph@gmail.com

[email protected]

نو نکات کی بنیاد پر متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف متحد ہوگئیں ۔ اب ایم کیو ایم وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت کرے گی، یوں حکومت کی اکثریت حاصل کرنے کی راہ میں ایک رکاوٹ دور ہوگئی مگر فاروق ستار اور فردوس شمیم نقوی دونوں ناراض ہوئے۔ نئی کابینہ میں ایم کیو ایم کو ایک وزارت بھی ملے گی۔ ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری اور تحریک انصاف سندھ کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اس معاہدے پر دستخط کیے ۔

اس معاہدے میں جو نکات شامل ہیں ان میں کراچی آپریشن پر نظر ثانی، ایم کیوایم کی مردم شماری کے نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر عرض داشت کی حمایت، وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی  کے لیے براہِ راست مالیاتی امداد کا پیکیج، سندھ پولیس میں اصلاحات اور بلدیاتی نظام کو بااختیارکرنا شامل ہیں۔ ان میں سے بعض امورکا تعلق سندھ کی حکومت سے ہے مگر وفاق میں قائم ہونے والی حکومت نے ان نکات پر عملدر آمد کی یقین  دہانی کرائی ہے۔

ایم کیو ایم اگست 2016ء سے ایک مخصوص قسم کی صورتحال کا شکار ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد نے تین سال قبل کراچی پریس کلب کے سامنے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی ریاست کے بارے میں منفی ریمارکس دیے تھے۔ اس کے بعد ایم کیو ایم کی قیادت نے اپنے قائد سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور ایم کیو ایم پاکستان قائم ہوئی۔ ایم کیو ایم کے قائد نے لندن سے اپنے گروپ کو چلانا شروع کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب رینجرز، پولیس اور خفیہ ایجنسیاں ایم کیو ایم کی صفوں میں تربیت یافتہ جنگجوؤں کو تلاش کررہی تھیں جس کی بناء پر گرفتاریاں بھی ہوئیں مگر ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر 90  پر آپریشن کے بعد کراچی میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہورہی تھی ۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے قائد کی ماضی کی پالیسیوں سے انحراف کا اعلان کیا اور واضح کیا گیا کہ اب قیادت کسی جرائم کا پس منظر رکھنے والے فرد کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی۔ ایم کیو ایم کا مطالبہ تھا کہ کراچی آپریشن میں پیدا ہونے والی شکایتوں کے ازالے کے لیے نگرانی کی کمیٹی قائم ہونی چاہیے ۔

ایم کیو ایم کے رہنما یہ یاد دلاتے ہیں کہ آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کے بعد آپریشن ضربِ عضب شروع ہوا تو سندھ میں بھی ایپکس کمیٹی قائم ہوئی تھی ۔ اسی وقت اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ آپریشن سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے ایک نگراں کمیٹی قائم ہوگی مگر اس وقت کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے اس تجویزکو اس بنیاد پر رد کیا تھا کہ آپریشن کے کپتان کی موجودگی میں کسی نگراں کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ ایم کیو ایم نے متعدد بار یہ مسئلہ اٹھایا مگر اگست 2016ء میں سندھ میں صورتحال کی تبدیلی کی بناء پر یہ معاملہ پس پشت چلا گیا تھا۔ اب ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کی وفاق میں قائم ہونے والی حکومت کی حمایت کے لیے یہ معاملہ پھر اٹھایا ۔

عمران خان بہت جلد ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونگے اور اپنی مرضی کا وزیر داخلہ مقرر کریں گے ۔ یہ وزیرداخلہ کراچی آپریشن سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے آپریشن کا نگراں ہوگا مگر یہ معاملہ مشروط ہوگا۔ کراچی آپریشن میں سندھ رینجرز نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ رینجرز بری فوج کا ذیلی ادارہ ہے، یوں حتمی طور پر ایم کیو ایم کو کسی قسم کی سہولت کا معاملہ راولپنڈی ہی میں طے ہوگا، اگر نئی حکومت نے ایم کیو ایم کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی اور اداروں کو قائل کیا کہ اس قسم کی رعایت سے جنگجو دوبارہ طاقت حاصل نہیں کرسکیں گے تو اس اہم نکتے پرکوئی پیش رفت ہوسکتی ہے، اگرچہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ سال ہونے والی مردم شماری کے نتائج کو چیلنج کیا تھا اور مشترکہ مفادات کونسل نے کراچی میں مردم شماری کے نتائج کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس فیصلے پر بھی عملدرآمد نہ ہوا ۔ مسلم لیگ کے دوسرے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور ان کے منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے اس معاملے پر خاموشی اختیارکیے رکھی۔

پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے بھی مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے بہت زیادہ دباؤ نہیں ڈالا۔  الیکشن کمیشن نے مردم شماری کے نتائج کے تحت نئی حلقہ بندیاں کیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت پوری انتخابی مہم کے دوران یہ الزام لگاتی رہی کہ یہ حلقہ بندیاں پیپلز پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہیں مگر 25 جولائی کے انتخابات کے نتائج نے ظاہرکیا کہ ان نئی حلقہ بندیوں سے پیپلزپارٹی کو بھی اتنا ہی نقصان ہوا، جتنا ایم کیو ایم کو ہوا۔ پیپلز پارٹی اپنے آبائی حلقے لیاری میں شکست کی ایکہ وجہ اس حلقہ میں شامل وہ علاقے بھی تھے جہاں کے ووٹر پیپلز پارٹی کے حامی نہیں تھے۔ پیپلز پارٹی ضلع ملیر کی ایک نشست جس پر وہ 1970ء سے کامیاب ہوتی رہی بھی ہار گئی۔

اسی طرح ضلع غربی (ویسٹ) کی دو نشستوں پر یہی کچھ ہوا۔ قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے کے ایک اعلیٰ ترین افسر نے صحافیوں کے ایک گروپ کو پیشکش کی تھی کہ ایسے چند سو افرادکو پیش کیا جائے جن کا نام مردم شماری کی فہرستوں میں درج نہیں ہے۔ بہرحال یہ مطالبہ ضرور منظور ہونا چاہیے۔ کراچی میں مردم شماری کے نتائج کا آڈٹ سے وفاقی اداروں کی ساکھ کا تعین ہوجائے گا۔ ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت سے پولیس اصلاحات کا وعدہ لیا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے پختون خواہ میں پولیس کے محکمے میں جامع اصلاحات کی ہیں ۔

جس کی بناء پر کے پی کے پولیس سیاسی مداخلت سے پاک ہوچکی ہے مگر بظاہر یہ صوبائی معاملہ ہے۔ جب تک سندھ حکومت تیار نہیں ہوتی پولیس کے محکمہ میں کسی بھی نوعیت کی اصلاحات ممکن نہیں ہیں۔ تحریک انصاف نے کبھی صوبائی خود مختاری کو اہمیت نہیں دی۔ تحریک انصاف کے قائدین کی خواہش ہوسکتی ہے کہ پارلیمنٹ اس بارے میں قانون سازی کرے مگر تحریک انصاف کی حکومت معمولی اکثریت سے قائم ہوئی۔ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں وفاقی حکومت اقلیت میں ہوگی۔

ایک اور معاملہ بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیارات دینے کا ہے۔ پیپلز پارٹی نے 2018 ء کے انتخابی منشور میں بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کو کوئی اہمیت نہیں دی، یوں اب تو پیپلز پارٹی اخلاقی طور پر بھی اس بات کی پابند نہیں ہے کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات دے۔ اب یہ نکتہ بھی اگلے عام انتخابات تک تشنہ رہے گا۔ اس معاہدے میں ایک اہم ترین نکتہ کراچی کو خصوصی گرانٹ دینے کا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے 8 برسوں میں کراچی کوڑے دان میں تبدیل ہوا، پانی کی نایابی اور پبلک ٹرانسپورٹ کا لاپتہ ہونا عام سی بات بن گئی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسئلے کے حل کے لیے کراچی وسطیٰ میں میٹرو بس پروجیکٹ شروع کیا جو کئی سال گزرنے کے باوجود نامکمل ہے۔

یہ پروجیکٹ کراچی کے لیے محض اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ کراچی کو ایسے 10 منصوبوں کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت نے کئی منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ پہلے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ ان منصوبوں کا اعلان کر کے بھول گئے تھے اور پھر مراد علی شاہ کو مختصر وقت ملا۔ اسی طرح سمندر سے صاف پانی حاصل کر کے کراچی میں پانی کی قلت دور ہوسکتی ہے۔ وفاقی حکومت کوڑے سے بجلی بنانے اور ونڈ انرجی کے پروجیکٹ شروع کر کے لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں مدد حاصل کرسکتی ہے۔ اگرچہ کراچی میں زیر زمین ریل کا منصوبہ شروع ہوجائے تو سفرکی جدید سہولیت کے ساتھ روزگار کے بھی نئے مواقعے حاصل ہوسکتے ہیں مگر یہ سب کچھ وفاقی حکومت کی مالیاتی، صحت اور اس کی پالیسیوں پر منحصر ہے۔

ایم کیو ایم نے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کا نکتہ بھی اس معاہدے میں رکھا ہے۔ مسلم لیگ ن حکومت نے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ منظور کرلیا تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کے ہر ضلع میں یونیورسٹیوں کے قیام پر زور دیا  جائے۔ ایم کیو ایم نے 1988ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت سے اسی طرح کا معاہدہ کیا تھا مگر ایم کیو ایم ایک سال بعد ہی اس معاہدے سے علیحدہ ہوگئی تھی۔  مسلم لیگ ن سے 1992ء اور 1997ء میں بھی اسی طرح کے معاہدے ہوئے مگر یہ سب معاہدے دیرپا ثابت نہیں ہوئے۔

تاریخ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم 1989ء میں جنرل اسلم بیگ کے زیر اثر تھی، یوں پیپلز پارٹی سے علیحدگی ہوئی۔ کچھ صحافیوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ایم کیو ایم کے وزراء کو اختیار دینے پر تیار نہیں تھی مگر مسلم لیگ ن کی دونوں حکومتوں میں کراچی میں ہونے والے آپریشن کی بناء پر ایم کیو ایم کو مسلم لیگ ن سے اتحاد ختم کرنا پڑا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کو مکمل آزادی سے کام کرنے کا موقع دیا تھا۔ 2008ء میں ایم کیو ایم زرداری حکومت کا حصہ بنی اور کراچی شہر میں ٹارگٹ کلنگ بڑھ گئی تھی مگر بلدیاتی اداروں کی حیثیت پر سمجھوتے نہ ہونے کی بناء پر ایم کیو ایم کے وزراء مستعفی ہوئے تھے ، ایم کیو ایم کے گورنر عشرت العباد پیپلز پارٹی کی حکومت میں گورنر رہے۔

انھوں نے مسلم لیگ ن کی حکومت میں بھی گورنر کے فرائض انجام دیے تھے۔ ایم کیو ایم مسلم لیگ ن کی حکومت میں وفاق میں شامل رہی۔ تحریک انصاف نے بھی ایم کیو ایم کو اس کے روایتی حلقوں میں شکست دی ہے۔ تحریک انصاف کی کراچی کی قیادت ایم کیو ایم سے اتحاد کے حق میں نہیں ہے نہ ایم کیو ایم کے بعض رہنما اس پر خوش ہیں۔ ماضی کے واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک کمزور ترین اتحاد ہے مگر اس اتحاد کے طفیل کراچی کوکچھ مل جائے تو یہ جمہوریت کا ثمر ہوگا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔