آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

ظہیر اختر بیدری  ہفتہ 11 اگست 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

پاکستان اب دس سالہ مالیاتی غارت گری سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، یہ امکان اس لیے پیدا ہوا ہے کہ ملک کی ایک مڈل کلاس جماعت 70 سال بعد اقتدار میں آرہی ہے اور پرعزم ہے کہ وہ ملک کو 10 سالہ مالیاتی غارت گری سے نجات دلائے گی۔ اس سے پہلے کہ ہم ممکنہ نئی حکومت کی کارکردگی پر نظر ڈالیں پچھلے دس سالہ دور حکومت کے دوران کیا کچھ ہوا اس پر ایک نظر ڈالنا چاہتے ہیں۔

پچھلی حکومت 2013 میں الیکشن جیت کر اقتدار میں آئی۔ اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی دھاندلی کا غلغلہ اس زور سے بلند ہوا کہ اس غلغلے میں وہ سیاست دان اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے اس طرفداری کا نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک انصاف اکیلی دھاندلیوں کا رونا روتی رہی اور حکمران جماعت تحریک انصاف کو نو لفٹ کرا کر اپنے ایجنڈے پر کام کرتی رہی۔

اب یہ بات کوئی سیکریٹ نہیں کہ اس دس سالہ دور میں وہ لوٹ مار ہوئی کہ ملک ساری دنیا میں بدنام ہوکر رہ گیا کچھ حلقوں کی جانب سے اس مالیاتی غارت گری کے خلاف رسمی سی حرف شکایت بلند ہوتی رہی لیکن اقتدار کے نشے میں مست حکومتی اشرافیہ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوا اور وہ بے خوف خطر اپنے کام میں مصروف رہی، ہماری اپوزیشن میں نامی گرامی جمہوریت پسند اور ایماندار لوگ موجود تھے لیکن کسی نے دھاندلی کا کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا۔ اکیلی تحریک انصاف چیختی چلاتی رہی لیکن مالیاتی غارت گری کی مصروفیت میں کسی نے تحریک انصاف کے احتجاج کا کوئی نوٹس نہ لیا۔

اگر پاناما لیکس کا شور نہ اٹھتا تو 10 سالہ مالیاتی غارت گری پر کسی کی نظر نہ جاتی لیکن بھلا ہو پاناما لیکس کا اس کے انکشافات کی وجہ سے ساری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اشرافیہ کی اربوں روپوں کی کرپشن کی داستانیں منظر عام پر آنے لگیں۔ بات ملک کے وزیراعظم اور ان کے خاندان تک پہنچ گئی اور وزیراعظم، ان کی صاحبزادی ، دو صاحبزادوں پر اربوں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگتے گئے۔

بات نیب اور اعلیٰ عدلیہ تک پہنچ گئی۔ نواز شریف کے دو صاحبزادوں کو اندازہ تھا کہ کرپشن کی آگ کی لپیٹ ان تک پہنچے گی سو دونوں نور نظر لندن میں مقیم اس لیے ہوگئے کہ ان کے پاس لندن یعنی برطانیہ کے دہری شہریت تھی اور سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے پہلے سے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ کرپشن کے بڑے بڑے کرداروں کو کسی طرح تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔

سو میاں صاحب کے دونوں صاحبزادے پاکستان کے قانون کی پہنچ سے دور ہیں۔ بلاشبہ دونوں بیٹے اپنے کیے کی سزا سے بچے رہے لیکن یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ بیٹے بچے رہے اور باپ بیٹی اور داماد پکڑ میں آگئے ادھر میاں صاحب کی اہلیہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوگئیں اور اسپتال میں ایڈمٹ ہوگئیں ۔ قانون اور انصاف اپنی جگہ لیکن انسانی قدریں بھی بڑی اہمیت رکھتی ہیں یہ بات بڑے افسوس کی ہے کہ میاں صاحب مستقل اپنی بیوی کی تیمار داری کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ہماری دعا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کو اﷲ صحت دے۔

کرپشن کے حوالے سے میاں صاحب اکیلے ہی بدنام نہیں ہو رہے بلکہ ریاستی مشینری کے تقریباً سارے کل پرزے اربوں کی ناقابل یقین کرپشن میں ملوث نظر آرہے ہیں، کئی ایک نیب کی گرفت میں آگئے ہیں اور کئی ایک نیب کے ریڈار پر ہیں۔ میں حیرت سے سوچ رہا ہوں کہ دولت اس قدر پرکشش کیوں ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ خود بھی اس کی گرفت میں آجاتا ہے۔ اس دنیا کے سب سے بڑے سوال کا جب میں جواب تلاش کرتاہوں تو دنیا کے اربوں غریب انسانوں کا قاتل سرمایہ دارانہ نظام میرے سامنے آجاتا ہے۔ کرپشن کے خلاف دنیا بھرکی عدالتیں کرپشن کا ارتکاب کرنے والوں کو تو سزائیں دیتی ہیں لیکن کرپشن پر مجبورکرنے والا سرمایہ دارانہ نظام صرف دن دونی رات چوگنی ترقی کررہا ہے بلکہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اس نظام نے انسان کو حیران بناکر رکھ دیا ہے۔

بات چلی تھی تحریک انصاف اور اس کے سربراہ عمران خان کی عوام نے ان کو منتخب کیا ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام میں جمہوریت سمیت کوئی ادارہ ایسا نہیں جوکرپشن سے پاک ہو دولت کی کرشمہ سازی ہے کہ خلوص اور ایمانداری دھکے کھاتے رہتے ہیں، یہی عمران خان کے ساتھ ہورہاہے۔ عمران انسان ہے فرشتہ نہیں اس میں بھی خوبیاں خرابیاں ہوسکتی ہیں لیکن ایک بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ماضی کی تمام حکومتوں کے مقابلے میں عمران حکومت اس ملک کے 21 کروڑ عوام کو اوپر لانے اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردے گی لیکن جمہوریت کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے والے مقدس لوگ اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ عمران حکومت نہ بناسکے لیکن عمران جمہوریت جاریہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تادم تحریر حکومت بنانے کے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے ۔

اس نظام میں ایمانداری اور خلوص کے لیے کوئی جگہ نہیں کام چلانے کے لیے قدم قدم پر کمپرومائزکرنا پڑتا ہے۔ عمران خان کو حیرت ہے کہ عوام نے اتنے ووٹ نہیں دیے کہ وہ اکیلا اپنی حکومت بناسکے، اس لیے اسے مجبور ہونا پڑا ہے کہ وہ آزاد ارکان سے تعاون حاصل کرے۔ اس نظام میں ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے عمران کو بھی آزاد ارکان کے تعاون کی کسی نہ کسی شکل میں قیمت ادا کرنا ہوگا۔

اس نازک صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن عمران حکومت کو ناکام بنانے کے لیے سو سو جتن کررہی ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر احتجاج، پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کا پروگرام بن چکا ہے جس کا واحد مقصد حکومت کو کام سے روکنا ہے اور اپوزیشن یہ کام اس لیے ضروری سمجھتی ہے کہ اگر عمران کو موقع دیا گیا تو وہ عوامی بھلائی کے کام کرکے عوام کے دل جیت لے گا۔ اگر ایسا ہوا تو سمجھ لو پارلیمنٹ سے ہمیشہ کے لیے اشرافیہ کا بوریا بستر گول ہوجائے گا اور اشرافیہ ایسی صورتحال کو قبول کرنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں ۔ دیکھیے آگے کیا ہوتا ہے؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔