بہتر مستقبل کے امکان

اکرام سہگل  ہفتہ 11 اگست 2018

میدانِ سیاست میں برسوں ناکام رہنے والے عمران خان کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، اس حوالے سے پاکستان میں گارجین کے سابق نمایندے ڈکلین واش سب سے آگے رہے۔ 31اگست 2005کو اپنے مضمون میں وہ عمران کا مذاق اڑانے پر اتر آئے اور لکھا : ’’اس قابل رحم سیاست داں نے 1996میں اپنی سیاست کا آغاز کیا اور اس وقت سے اس کے خیالات اور متعلقین کا حال برسات میں پھسلتے اور ڈگمگاتے رکشے جیسا ہے۔‘‘

جی چاہتا ہے کہ اپنے دوست ڈکلین کو کہوں کہ وہ آکر اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے ملکی سیاست میں کیا مقام حاصل کیا ہے کہ اس کے دوست نہیں بعض شدید مخالفین بھی اس کی مقبولیت کے قائل ہیں۔ اپنے ناپختہ خیالات کو تحریر کی زینت بنانا کسی کو زیب نہیں دیتا۔ متناسب نمایندگی کو بنیاد بنایا جائے تو پی ٹی آئی کو جو ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد ووٹ ملے ہیں، وہ اسے حاصل ہونے والی نشستوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔

25جولائی کے انتخابات میں کامیابی کے بعداگلے  روز عمران خان نے اپنی تقریر میں معیشت، گورننس میں اصلاحات اور خارجہ پالیسی میں اپنی ترجیحات کا جو ابتدائی نقشہ پیش کیا، اسے بالخصوص سوشل میڈیا پر بے پناہ پذیرائی ملی۔ ایک ہنگامہ خیز انتخابی عمل سے گزرنے کے بعد پُر اطمینان انداز میں کی جانے والی اس گفتگو میں مؤثر نظام حکومت کے تمام پہلوؤں پر بات کی گئی۔ اس تقریر نے پارٹی منشور میں کیے گئے وعدوں کو مزید بلند سطح تک پہنچا دیا ہے۔ عمران خان نے عوامی بہبود، قانون کے مساوی نفاذ، انصاف اور تعلیم کے لیے عزم کا اظہار کیا اور پس ماندہ طبقات کو روزگار اور بنیادی ضروریات فراہم کرنے کا وعدہ دہرایا۔

عمران خان نے اپنی تقریر میں بلوچستان کے عوام کو درپیش مشکلات کا تذکرہ کیا اور سنگین خطرات کے باوجود اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے بلند حوصلے کے مظاہرے پر انھیں سراہا۔ مسلسل نظر انداز کیے جانے والے اس صوبے کے عوام کو عمران خان کی تقریر سے ایک نئی امید ملے گی۔ قومی اتحاد کی بات کرکے کرکٹر نے صحیح معنوں میں اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کیا۔ حزب مخالف کی جانب سے لگائے جانے والے انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحیققات کی پیش کش کرکے انھوں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا۔

اس کے باوجود کہ ان کی ذات کو نشانہ بنایا گیا اور پورے سیاسی کیرئیر میں مسلسل ان کی کردار کُشی کی گئی لیکن عمران خان نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے حریفوں کے خلاف سیاسی انتقام کا کوئی اقدام نہیں کریں گے۔ قومی رہنما نے عوام پاکستان کو متحد کرنے، غریبوں کے لیے پالیسی سازی اور گھروں میں کام کرنے والوں کو بھی ان کے حقوق دینے کی بات کی۔ عمران خان شکست تسلیم نہ کرنے کی علامت ہیں اور اپنے مقاصد کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اسی لیے عمران خان نے سیاسی انتقام سے اجتناب کا جو وعدہ کیا ہے اس پر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے، ان کا ماضی بتاتا ہے کہ وہ اپنے قول کے پکے ہیں۔

ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر نچلی ترین سطح پر ہیں، اس وقت تجارتی خسارے کی وجہ سے یہ ذخائر مسلسل دباؤ کا شکار ہیں اسی لیے آئی ایم ایف جانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ مستقبل کے وزیر خزانہ اسد عمر کے مطابق اس وقت 10سے 15ارب ڈالر کے بیل آؤٹ کی ضرورت ہے۔ چین سے دو ارب ڈالر کے قرضوں کی افواہیں ابھی تک گردش میں ہیں۔ نئی حکومت کو اس بحران سے نکلنے کی راہیں تلاش کرنا پڑیں گی۔ عمران خان نے واضح طور پر ٹیکس چوری کے خاتمے، پڑوسیوں سے اقتصادی تعلقات میں بہتری اور پاکستانی معیشت پر بوجھ بننے والے غیر فعال اداروں میں اصلاحات کا عندیہ دیا ہے۔ ان اعلانات سے عوام کے مسائل میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

پاکستان میں وباء کی طرح پھیلے ہوئے کرپشن کے کینسر سے حکومت، پولیس، بیوروکریسی وغیرہ سبھی متاثر ہیں جس کے باعث کاروباری سرگرمیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ عمران خان نے نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو حقیقی طور پر آزاد و خودمختار بنانے کا وعدہ کیا ہے، نیب کے ہاتھ مضبوط کرنے سے احتساب یقینی ہوجائے گا۔ بدقسمتی سے، گزشتہ حکومت کا من چاہا احتساب ہوا اور یہ عمل غیر جانب دارانہ انداز میں آگے نہیں بڑھ سکا۔ رواں برس اپریل میں عمران خان نے اپنے قریبی مشیروں کی رائے کے خلاف سینیٹ انتخابات میں ووٹ فروخت کرنے والے 20ارکان  کوپارٹی سے نکال کر سیاست میں سنسنی پھیلا دی تھی۔ احتساب بہت بڑا چیلنج ہے، عمران خان کو جو صحیح ہے وہی کرنا ہوگا، انھیں احتسابی عمل کو مؤثر بناتے ہوئے قومی سطح پر بدعنوانی کے خاتمے کا سنہری موقع ملا ہے۔

سرکاری اخراجات میں کمی کا وعدہ کرتے ہوئے عمران خان نے عالی شان وزیر اعظم ہاؤس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا:’’ مجھے یہاں رہتے ہوئے شرم آئے گی۔‘‘ عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس میں قیام نہ کرنے کا  فیصلہ کیا ہے جس سے سالانہ 1.85ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ چاروں صوبوںکے گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤسز کی نشاندہی کرکے ان محروم و مفلس طبقات کے جذبات کی ترجمانی کی ہے، سرکاری عہدے داروں کا شاہانہ انداز زندگی جن کے زخم کریدتا ہے۔ شاید جونیجو حکومت کے سوا کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ جونیجو نے سادگی اپنا کر بیوروکریسی کو اپنا دشمن بنا لیا اور بالآخر نااہلی اور معاشی جمود کا جواز بنا کر جنرل ضیاء الحق نے اس حکومت کو چلتا کیا۔

مصالحانہ انداز میں عمران خان نے بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی بات کی، دوستانہ تعلقات اور امن کے لیے بھارت کی جانب سے ایک قدم کے جواب میں دو قدم آگے بڑھنے کی پیش کش کی اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد کے لیے بہتر تجارتی تعلقات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مودی نے اس کا مثبت جواب دیتے ہوئے  عمران خان کو مبارک باد کا ٹیلی فون کیا۔ مصالحت کی پیش کش کے باوجود عمران خانہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو نہیں بھولے اور مسائل کے حل کے لیے دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کی تجویز دی۔ عمران خان کے پیغام کا نچوڑ یہ تھا کہ وہ خطے میں امن کے لیے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکا کی سرپرستی کی وجہ سے بھارت خطے میں اپنی چودھراہٹ کے خواب سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔

عمران خان چین کی تیز رفتار ترقی کے قائل ہیں اسی لیے انھوں نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف اقدامات کرکے 70کروڑ افراد کو غربت سے نجات دلانے کے چینی ماڈل سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف نے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعاون میں اضافے کے لیے ’’پاک چین تعاون یونٹ‘‘ بنانے کا قدم بھی اٹھایا ہے، دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا جس کا مقصد ہے۔وہ چین کے  تجربے کی مدد سے سی پیک منصوبے کو وسعت دینے کے خواہش مند ہیں۔

گزشتہ حکومت نے ’’پاکستان وژن 2025‘‘کے تحت ملکی وسائل کی مدد سے پائیدار ترقی کے لیے جو اہداف متعین کیے تھے، عدم دل چسپی اور لالچ کے باعث، وہ کسی بھی شعبے میں مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ عمران خان کے پیشرو وعدوں کے اور اہداف کے اعلان میں محتاط نہیں رہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی موروثی سیاست کو شکست دینے کے بعد، ماضی کے برعکس ممکنہ ’’مشروط‘‘ وزیر اعظم سے کئی امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں۔ پاکستانی کے عوام کی امنگوں کا بوجھ ان کے کاندھوں پر ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد عمران کی پہلی تقریر سے بہتر مستقبل کے آثار ضرور ظاہر ہوئے ہیں۔

(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔