تحریک انصاف اتنے مسٹر کلین کہاں سے لائے؟

مزمل سہروردی  ہفتہ 11 اگست 2018
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان اس وقت حکومت سازی کے ایک پیچیدہ عمل سے گزر رہے ہیں۔ کس کو کیا بنانا ہے۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔کے پی کی وزارت اعلیٰ، پنجاب کی وزارت اعلیٰ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔ وفاقی صوبائی وزارتوں کے مسائل تو ابھی آنے ہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف نے کرپشن کے ایشو پر انتخابی مہم چلائی ہے۔ کرپشن ہی ان کا بڑا ایشو ہے۔ اور وہ خود بھی اسی میں پھنس گئے ہیں۔ مخالفین پر اعتراض کرتے کرتے آج وہ خود اس پوزیشن میں پھنس گئے ہیں کہ وہ جو بھی نام سامنے لاتے ہیں اس پر اعتراض سامنے آجاتا ہے۔

اوپر سے سونے پر سہاگہ عمران خان نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ تمام مسٹر کلین سامنے لائیں گے۔ میں تو اس اعلان پر بھی حیران تھا کہ وہ کہاں سے لائیں گے اتنے سارے مسٹر کلین۔ کہاں ہیں ان کی جماعت میں اتنے سارے مسٹر کلین۔ کل ہی کی بات ہے کہ انتخابات سے قبل تحریک انصاف نے اپنی جماعت میں ایک بڑی سیاسی ڈرائی کلین فیکٹری لگائی تھے۔ سب نیب زدگان کو خوش آمدید کہا تھا۔ انھیں گلے لگایا تھا۔

سیاسی منڈی کو جیتنے والے گھوڑوں کی منڈی کہہ کر وہ سب سے بڑے خریدار بن گئے تھے ۔ انھیں تو جیت چاہیے تھی چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑی۔ انھوں نے ہر جماعت سے ہر رنگ نسل کا جیتنے والا گھوڑا تحریک انصاف کے اصطبل میں جمع کر لیا۔ یہ کہنا غلط ہی نہ ہو گا کہ انھوں نے کسی مسٹر کلین کو ٹکٹ ہی نہیں دیا تھا۔ تو اب مسٹر کلین کہاں سے آئے گا۔ وہ خود کہتے تھے کہ میں نے الیکٹ ایبلز کوٹکٹ دیے ہیں۔ میں نے ان کو ٹکٹ دیے ہیں جنھیں جیتنے کا گر آتا ہے۔ اس لیے وہی سب جیت کر آگئے ہیں۔ اب ان میں مسٹر کلین ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

اس کے ساتھ اہم پر کشش عہدوں کے لیے تحریک انصاف کے طاقتور ترین دھڑوں میں رسہ کشی بھی عروج پر نظر آرہی ہے۔ ہر کوئی اپنے لیے دوسرے کی ٹانگ کھینچتا نظر آرہا ہے۔ ایک طرف تو آزاد ارکان کو جیتنے کا بازار گرم ہے اور دوسری طرف تحریک انصاف میں پر کشش عہدوں کے لیے بازار گرم ہے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

اسی صورتحال نے ابھی تک عمران خان کو اہم عہدوں پر نامزدگیوں سے روکا ہوا ہے۔ کے پی کی وزارت اعلیٰ کو ہی لے لیں۔ کے پی کو اب تحریک انصاف کی ہوم گراؤنڈ کا درجہ حاصل ہے۔ وہاں تو پانچ سال حکومت رہی ہے۔  مسائل سب سے زیادہ ہیں ۔ سب سے پہلے تو پرویز خٹک ہی دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے خواہاں تھے۔انھوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ تقریباً بغاوت کر ہی دی۔

ہم خیال ارکان کا اجلاس بھی بلا لیا۔ لیکن دوسری طرف عمران خان عاطف خان کو وزیر اعلیٰ بنانے پر بضد تھے۔ عاطف کے بارے میں عمومی رائے بھی اچھی ہی آرہی تھی۔ سب کہہ رہے تھے کہ اچھی چوائس ہو گا۔ لیکن وہ پرویز خٹک کو قابل قبول نہیں تھا۔ پرویز خٹک نجی محفلوں میں کھلم کھلا کہہ رہے تھے کہ وہ کبھی بھی عاطف کو کے پی کا وزیر اعلیٰ نہیں بننے دیں گے۔ ان کے مخالف دھڑے کو وزارت اعلیٰ مل جائے یہ قبول نہیں۔دوسری طرف پرویز خٹک کی مخالف لابی بھی انھیں صوبے سے نکالنے پر بضد تھی اور عمران خان بھی پرویز خٹک کو نکالنے پر آمادہ تھے۔ وہ اندر سے گزشتہ پانچ سال پرویز خٹک سے تنگ ہی تھے۔ اور اب آیندہ پانچ سال تنگ نہیں ہونا چاہتے تھے۔

بالا ٓخر عمران خان نے آدھی اپنی منوا لی۔ اور آدھی پرویز خٹک کی مان لی۔ انھوں نے پرویز خٹک کو مرکز میں رکھنے کی ضد منوا لی اور اگلا وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی مرضی کا ہوگا یہ مان لیا۔ اس طرح عاطف جن کی وزارت اعلیٰ کا تقریباً اعلان ہو چکا تھا۔ ان کا نام ڈراپ ہو گیا اور محمود خان کو وزیر اعلیٰ نامزد کر  دیا گیا۔ محمود خان پرویز خٹک کی لابی کے آدمی ہیں۔ ان پر بطور وزیر الزامات رہے ہیں۔ان پر الزام تھا کہ انھوں نے بطور وزیر اپنے سرکاری فنڈز اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کر لیے تھے۔ بعد میں معاملہ حل کر لیا گیا۔ کسی اور پر ملبہ ڈال دیا گیا۔ انھیں وزارت سے نکالا بھی گیا اور دوبارہ رکھ بھی لیا گیا۔ آپ انھیں مکمل طور پر مسٹر کلین نہیں کہہ سکتے۔

اسی طرح پنجاب کی وزارت کا معاملہ بھی دیکھ لیں۔ انتخابات سے قبل ویسے تو کافی امیدوار میدان میں تھے لیکن دو بڑے امیدواران شاہ محمود قریشی اور علیم خان کے درمیان کانٹے دار مقابلہ تھا۔ شاہ محمود قریشی بھی تحریک انصاف کی اندرونی سازشوں کا ہی شکار ہو گئے۔ کہانی تو یہی سامنے آرہی ہے کہ انھیں صوبائی اسمبلی کی نشست ہروانے کے لیے تحریک انصاف کی اندر کی لابی نے بہت کام دکھایا ہے۔ وہ کیا ہارے دوڑ سے ہی باہر ہوگئے۔ انھوں نے دوبارہ دوڑ میں آنے کی بہت کوشش کی لیکن جنہوں نے پہلے انتخاب ہروانے کے لیے اتنی محنت کی وہ دوبارہ دوڑ میں کیسے شامل ہونے دیتے۔ اب علیم خان ہی بڑے امیدوار تھے۔

لیکن ان کا راستہ بھی باہر سے کسی نے نہیں روکا ۔ ان کے خلاف بھی اندر سے ہی سازشیں شروع ہوگئیں۔ انھیں نیب کا کیا نوٹس آیا۔ انھیں مسٹر کلین کا امیج ہی کھا گیا ۔ بس ایک شور مچ گیا کہ وہ مسٹر کلین کے امیج پر پورا نہیں اترتے۔ اگر انھیں وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا تو تحریک انصاف کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ جیسے شاہ محمود کو بھی تحریک انصاف ہی کھا گئی تھی اسی طرح علیم خان کو بھی تحریک انصاف خود ہی کھا گئی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ لڑتے لڑتے ہو گئی گم ایک کی چونچ ایک کی دم۔ دونوں ہی آؤٹ ہو گئے۔ فواد چوہدری بہت سمجھدار انسان ہیں۔ انھوں نے جب اتنے خراب حالات دیکھے تو وہ علیم خان کے حق میں دستبردار ہوگئے حالانکہ تب تک علیم خان بھی خطرہ میں تھے۔

علیم خان کے بعد بہت سے نام مارکیٹ میں آئے۔ لیکن نام آتے بھی گئے جاتے بھی گئے۔ ایک رائے بنتی گئی کہ تحریک انصاف کے پاس پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے کوئی موزوں نام نہیں ہے۔ کچھ جونیئر ہیں۔ کچھ پر داغ ہیں۔ کچھ قابل قبول نہیں ہیں۔پھر چکوال سے راجہ یاسر کا نام آگیا۔ نیا نام تھا۔ لیکن ابھی نام سامنے ہی آیا تھا کہ ساتھ ہی ان کے خلاف ڈرگ کورٹ کا فیصلہ بھی مارکیٹ میں آگیا۔

انھیں تو عدالت نے تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہوئی ہے۔ ان کی اپیل ابھی زیر سماعت ہے ۔ وہ بری نہیں ہوئے لیکن سزا معطل ہے۔ اب وہ مسٹر کلین کیسے ہو گئے۔ ان سے بہتر تو علیم خان ہیں جن کو ابھی تک کوئی سزا نہیں ہوئی۔ الزام ہی ہیں۔ اسی قسم کے الزامات باقی سب پر بھی سامنے آرہے ہیں۔ کوئی مسٹر کلین سامنے ہی نہیں آرہا۔ ابھی تک تو وزارتوں کے اعلان ہونا باقی ہیں۔ صرف وزیر خزانہ کا اعلان ہوا ہے۔ لیکن اسد عمر کے کیریئر کے حوالہ سے بھی بہت سے باتیں سامنے آرہی ہیں۔

یہی صورتحال اتحادیوں کے حوالہ سے بھی درپیش ہے۔ عمران خان سب کے بارے میں ہی سب کچھ کہہ چکے ہیں کہ وہ جس کو بھی لیں گے اس کے حوالہ سے ان کے منفی ریمارکس مارکیٹ موجود ہیں۔ لیکن ہمیں عمران خان کے مسئلہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب انھوں نے مسٹر کلین کو ٹکٹ ہی نہیں دیے تھے  تو اب مسٹر کلین کہاں سے لے آئیں۔ جو لوگ موجود ہیں۔ جو جیت کر آئے ہیں انھیں ہی اقتدار بانٹا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا آئین و قانون انھیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ تمام جیتنے والوں کو نظر انداز کر کے گھر سے سارے مسٹر کلین لے آئیں اور انھیں اہم عہدے دے دیں۔

اسی لیے جب عمران خان ڈرائی کلین فیکٹری لگا رہے تھے۔ جیتنے والے گھوڑوں کی منڈی سے خریداری کر رہے تھے۔ نیب زدگان کی لوٹ سیل گا رہے تھے تو ہم کہہ رہے تھے کہ اس طرح تو تبدیلی نہیں آسکتی۔ جو فوج عمران خان جمع کر رہے ہیں اس سے کرپشن کے خلاف نہیں حق میں ہی لڑائی لڑی جا سکتی ہے۔ اتنا کمزور مینڈیٹ۔ کمزور بیساکھیوں پر کھڑی حکومت۔ اتحادیوں کی من مانی شرائط۔ آزاد کی منڈی۔ اوپر سے ہر عہدے کے لیے مسٹر کلین کی تلاش۔ دیوانے کا خواب ہی نظر آتا ہے۔اسی لیے فردوس نقوی کو زبان بندی کے لیے کہہ دیا گیا ہے کیونکہ ابھی حق گوئی کا وقت نہیں ہے۔ یہ اقتدار سمیٹنے کا وقت ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔