آزادی

جاوید قاضی  ہفتہ 11 اگست 2018
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

ہم اور ہمارے اجداد، ہماری تاریخ اور ہمارا ورثہ۔ ہم کون ہیں اور ہم کیا ہیں، ہماری ڈگرکیا ہے؟ ہمیں جانا کہاں ہے اور ہم جا کہاں رہے ہیں؟ مشکل تو یہ ہے کہ تاریخ پر اجارہ داری قائم ہو جاتی ہے اور اس سے ہٹ کر بات نہیں کی جا سکتی اور پھر یوں ہوتا ہے کہ تاریخ پر گرد کی تہیں جم جاتی ہیں، تاریخ مفادات کے تابع ہو جاتی ہے۔ اس کی تشریح میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔تاریخ مسخ ہوجاتی ہے، اس کے سلسلے ٹوٹ جاتے ہیں۔ تاریخ پھر اس کتاب کی مانند ہوجاتی ہے جس کے ورق ہوا کے جھونکوں میں اڑ جاتے ہیں۔کتنا مشکل ہوتا ہے پھر ان کو سمیٹنا اور پھر سے ترتیب دینا اور سنوارنا۔

ایسا آساں نہیں لہو رونا

دل میں طاقت جگر میں حال کہاں

ا ب چودہ اگست قریب ہے اور میرے چھوٹے بیٹے کا 23 واں جنم دن بھی ہے۔ ہمیشہ بھول جاتا ہوں اس بار میں نہیں بھولنا چاہتا۔ پھر خیال آیا کہ اس چودہ اگست کو ہماری آزادی کی بھی 71 ویں سالگرہ ہے۔ مجھے پل بھرکو ٹھہرنا پڑا، سوچنا پڑا، کون سی سالگرہ بڑی ہے بیٹے کی یا اس آزادی کی جو چودہ اگست کو ہمیں ملی تھی۔ میرا بھی ایک بچپن تھا۔ ریڈیو والا بچپن، بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن والا بچپن۔ جب قائد اعظم کی تقاریر نشر ہوتی تھیں، ان کے ویڈیوکلپ دکھائے جاتے تھے، ملی نغمے گونجتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے آزادی کس سے پائی۔

ہندو سوچ سے یا انگریز سامراج سے؟ پھر یہ کڑیاں بہت دور تک ملتی ہیں۔ 1857ء کی سول نافرمانی کی جنگ کی کڑیاں کھلنے لگتی ہیں۔ ابھی مرزا غالبؔ حیات تھے، ان کے سامنے تھا وہ منظرنامہ، بہادرشاہ ظفرکو دلی بدرکرکے رنگون (ینگون) بھیجا گیا ان کے دو بیٹوں کو پھانسی دی گئی۔ ہم مسلمانان ہند تھے جو اس تحریک کا ہر اول دستہ تھے اور پھرکیا ہوا کہ وہ مسلمانان ہند ساٹھ سال بعد کسی اور منزل پرکھڑے تھے، متحدہ ہندوستان کے ایجنڈے سے ہٹ چکے تھے۔ وہ ہندوستان جہاں انھوں نے صدیوں تک حکومت کی۔ ایک تہذیب کو جنم دیا، ایک تاریخ کو بنایا اور ثقافت کواپنایا۔ انھوں نے ہندوستان کو ہندوستان بنایا۔ شاہکار ہندوستان جس کو نادر شاہ درانی لوٹ کر چلتا بنا۔آخر مذہب کیوں اور مذہب کے نام پر یلغارکیوں۔ وہ یلغار جو بھی تھی حملہ آور تھی۔ اس سر زمین پر پہلے حملہ آور آریاء تھے۔ یہ حملہ آور جس راستے سے آئے آج کا پاکستان اسی سر زمین پر ہے۔

یہ وادی مہران اسی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے جو برصغیر کے اندر رہتے ہوئے بھی ایک جداگانہ تشخص رکھتی تھی۔ یہ دریائے سندھ تھا جو سکندر اعظم کے دلی جانے کے بیچ میں ڈھال بن کرکھڑا ہوا تھا۔ یونان جوکوئی اتنی دوری پر نہ تھا یہ ترکی کے ساتھ جڑا ہوا تھا اور ترکی جس کا اثر پورے سینٹرل ایشیا پر نظر آتا تھا۔ یہ وہی یونان تھا جو سلطنت عثمانیہ کے زیر اثر بھی رہا۔ ثمرقند، بخارا اور قندھار یہ سب وادی مہران سے جڑے ہوئے تھے۔ ایک قدیم تہذیب ہے جس پر میرا وطن، ہڑپہ، موئن جو دڑو ہے۔ایک عظیم تہذیب جس پر میرا یہ وطن موجود ہے جس کو دنیا Indus Civilization کے نام سے جانتی تھی۔

ہم چودہ اگست کی ملی ہوئی آزادی کو صرف اس پس منظر تک محدود نہیں کر سکتے جو صرف آج سے 71 سال پہلے ملی تھی۔ہمیں چودہ اگست کی اس آزادی کو ہزاروں سال کی تاریخ پر مشتمل انڈس سولائیزیشن سے جوڑنا ہوگا۔اس کا وارث بننا ہوگا۔ ہم سنسکرت کو بھی اپنی زبان سمجھتے ہیں،کیونکہ یہ زبان بھی اسی وادی مہران کی زمین پر پھلی پھولی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں اور اپنے آپ کو مذہب کی پہچان دیتے ہیں۔ ہندو کوئی مذہب نہیں۔اس مذہب کے اندر طرح طرح کے قصے، عقیدے مختلف زمانوں کی کہانیاں اور قدریں موجود ہیں۔ اس مذہب کے اندر بھی ایک خدا کو ماننے کی تحریک چلی اور ان کے پاس مختلف دیویاں اور مورتیاں ہیں پوجنے کے لیے۔

رومی اپنی شاعری میں دو ملکوں کو جانتا ہے ایک ہند اور دوسرا سندھ۔ یہ تھے قدیم تہذیب کے اعتبار سے دو ملک جن پر برصغیر مبنی تھا۔ سندھ کے معانی وادی مہران۔ اور یہ وہی وادی مہران ہے جس پر آج کا پورا پاکستان مشتمل ہے۔ تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ برصغیر کے اب بھی دو ہی بڑے ملک ہیں۔ ایک ہندوستان اور دوسرا پاکستان۔ یہ اور بات ہے کہ اس ہند اور سندھ میں کوئی ٹکراؤ نہ تھا، جو آج ہندوستان اور پاکستان میں ہے ۔ ہم ایک ہوکر جب بٹوارے پرآئے وہ اور مقام تھا پھربٹوارے سے جو تضادات ابھرے خود دنیا ہی بدل گئی اور آج کی دنیا تو بہت ہی مختلف ہے، پھر آیندہ دس سال میں اس دنیا نے پھر ایک نئی ترتیب اور انگڑائی لینی ہے۔ ریاستیں ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائیں گی۔کمپنیاں حکمرانی کریں گی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح تو نہیں شاید لیکن کچھ اور طرز ہوگی۔جس طرح آج فیس بک بحیثیت کمپنی آپ کے لاشعور میں بیٹھ گئی ہے، جیسے کہ واٹس ایپ اور دوسرے سوشل میڈیا کے ذرایع ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکے ہیں ۔ جیسے کریم اور اوبر نے ٹیکسی بزنس میں انقلاب برپا کیا ہے صرف یہی نہیں ہوٹلنگ بھی لوگوںکے گھروں تک پہنچ چکی ہے۔ ایسا سوچیے کہ ریاست کا کلاسک تصورکیا تھا بلکہ اب توماڈرن تصور بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ریاست پوسٹ ماڈرن تصور میں جنم لے رہی ہے۔ گلوبل ولیج کی آشنائیاں اور سرکشیاں بھی دیکھنے کی چیز ہیں۔

ہمیں چودہ اگست کو ملی ہوئی آزادی کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا نہ کہ مودی کے نظریے سے ۔جس نے ہندوستان میں باقی ماندہ مسلمانوں کی تاریخ کے نقوش کو مٹانا شروع کردیا ہے۔اس وقت ہندوستان میں جو مسلمانوں کی حالت ہے وہ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ہمارے قائداعظم نے علیحدہ وطن کی بات کرکے دانش مندی کا فیصلہ کیا تھا اور جس کی بنیاد مذہب پرستی قطعأً نہ تھی بلکہ یہ جنگ اس اقلیت کی جنگ تھی جس نے ہندوستان پر صدیوں تک راج کیا تھا۔ قائد اعظم نے جب ہندوستان کی سیاست میں قدم رکھا تو ان کے پاس متحدہ ہندوستان کا نظریہ تھا اور دو حقیقتوں کو جوڑکرایک ساتھ چلنے کا خیال تھا، مگر اس سیاست میں آنے کے بعد ان کے سامنے نئے حقائق نے جنم لیا۔ بالآخر 1935ء میں انھوں نے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا ان ہی علاقوں میں جہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔ یہی تھا وادی مہران اور دوسری طرف بنگال۔

جب ہم نے آزادی پائی اسی دن اسی transanction سے ہندوستان نے بھی آزادی حاصل کی۔ ہندوستان کو انگریزوں سے پہلے اکبر اعظم نے جوڑا تھا اور پھر جب مغل سلطنت کمزور ہوئی تو پھر ہندوستان واپس اسی ڈھانچے میں چلا گیا جو اکبر اعظم سے پہلے تھا۔

اس برصغیرکو انگریز سامراج نے اپنی حکومت کی خاطر ایک ہندوستان میں تبدیل کیا اور پھر جب انگریزگیا تو ہندوستان دو ملکوں میں تبدیل ہوا۔ ہم نے چودہ اگست کو ہندوستان سے آزادی نہیں پائی تھی۔ ہم نے چودہ اگست کو دراصل انگریز سامراج کی غلامی سے نجات پائی تھی۔

ہمیں دوبارہ وہی مقام ملا جہاں سے ہماری پانچ ہزار سال کی تاریخ کی شروعات ہوئی تھی۔ ہم وادی مہران کے وارث ہیں۔ ہم ہڑپہ اور موئن جو دڑو کے وارث ہیں۔ ہم ایک قدیم تہذیب کے وارث ہیں۔ آج جب چودہ اگست قریب آئی تو مجھے یہ احساس ہوا کہ میںاس دھرتی کا بیٹا ہوں اور میرا بیٹا بھی اسی دھرتی کا بیٹا ہے۔ ہمیں تاریخ کی بنیادوں میں جانا ہوگا، اسے پہچاننا ہوگا اور اس لڑائی کو لڑنا ہوگا ان لوگوں سے، مفروضوں سے اور خیالوں سے جواس تاریخ اوراس کی تہذیب کو مسخ کرنا چاہتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔