پھر یاد تری آئی

سردار قریشی  ہفتہ 11 اگست 2018
sardarqureshi1944@gmail.com

[email protected]

50ء کے عشرے میں جب بھائی جان مرحوم (سعید جان قریشی) نور محمد ہائی اسکول حیدرآباد میں زیر تعلیم تھے، میں کبھی چھٹیوں میں گھومنے توکبھی کوئی امتحان دینے، جس کا سینٹر وہاں پڑتا، ان کے پاس آکر ٹھہرتا تھا۔ وہ پہلے مسلم ہاسٹل کے شمالی بلاک میں اوپرکی منزل پر اپنے روم میٹ رمضان لوند کے ساتھ رہتے تھے جس کے دونوں اطراف زینے ہوا کرتے تھے، مغربی سمت کے زینے سے چڑھو تو عقب میں سندھ کے کلہوڑا حکمرانوں کے قبے (مقبرے ) نظر آتے تھے، جب کہ مشرقی زینے سے ملحق ہیڈ ماسٹر بالادی صاحب کا بنگلہ تھا جس کے ساتھ وسیع وعریض رقبے پر پھیلے ہوئے، ہاسٹل کی بیرونی دیوارکے اس طرف ہیر آباد کا پر رونق علاقہ تھا، جو اس زمانے میں شہرکا پوش علاقہ شمار ہوتا تھا۔ پکے قلعے کی طرح یہاں بھی قبل از تقسیم متمول ہندوؤں کے عالیشان مکانات ہوا کرتے تھے جو اب میروں، پیروں اور وڈیروں کے قبضے میں تھے۔

ان کی دسترس سے بچ جانے والے باقی مکانات ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کے حصے میں آئے جن میں کچھ خالی گھروں میں تو وہ اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت خود ہی آباد ہوگئے تھے اورکچھ بہت دیر سے ایوبی دور میں محکمہ بحالیات و آبادکاری کے ذریعے انھیں الاٹ کیے گئے ۔ ہاسٹل کا مین گیٹ رات کو ٹھیک 9 بجے بند کردیا جاتا تھا جس کے بالکل ساتھ اندرکی طرف ہاسٹل کی خوبصورت مسجد تھی اور اس سے ملحق ڈائننگ ہال تھا جہاں ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ ایک ساتھ یا باری باری ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ کرکھانا کھایا کرتے تھے۔

بالادی صاحب اگرچہ بہت سخت منتظم مشہور تھے لیکن بھائی جان کی پی آر اتنی اچھی تھی کہ ہم جب سینما میں فلم کا آخری شو دیکھ کر لوٹتے جو رات کو 12بجے ختم ہوتا تھا، توگیٹ کیپر چپکے سے گیٹ کھول کر ہمیں اندر آنے دیتا۔ یہی نہیں ڈائننگ ہال کا انچارج ہمارے لیے کھانا بھی بچاکر رکھتا تھا جو ہم لاکر اپنے کمرے میں کھایا کرتے تھے، ہاسٹل میں طلبہ کے علاوہ باہرکے کسی آدمی کو ٹھہرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن مجھے کبھی کسی نے نہ تو منع کیا نہ ہی روکا ٹوکا۔ بالادی صاحب نے کافی تعداد میں دیسی مرغیاں پال رکھی تھیں جو رات کو ان کے بنگلے کی دیوار پر اس طرف جہاں لڑکے والی بال کھیلا کرتے تھے اور ہر وقت نیٹ بندھی رہتی ، بیٹھی سو رہی ہوتی تھیں۔

بھائی جان کے روم میٹ رمضان کو مرغیاں پکڑنے میں اتنی مہارت حاصل تھی کہ وہ انھیں چوں بھی نہیں کرنے دیتا تھا، اکثر رات کے آخری پہر میں واردات کی جاتی، ہاسٹل کے کمرے ہی میں مرغی ذبح کی اور پکائی جاتی تھی جب کہ اس کے پر اور آنتیں وغیرہ کاغذ کے تھیلے میں بھرکر قبوں کی طرف باہر پھینکے جاتے جو وہاں موجود آوارہ کتے اور بلے اسی وقت چٹ کر جاتے۔ صبح انسپیکشن کے بہانے کمروں کی تلاشی لی جاتی لیکن مرغیاں چرانے اور کھانے والوں کا کبھی پتہ نہ لگایا جا سکا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، ان دنوں میں ایک بار مڈل اسینڈرڈ اسکالرشپ تو دوسر ی مرتبہ ورنیکیولر فائنل کا امتحان دینے حیدرآباد گیا تھا۔ یہ 1958ء کی بات ہے جب میں نے ایلیمینٹری گریڈ ڈرائنگ کا بھی امتحان دیا تھا مگر اس کا سینٹر حیدرآباد کے بجائے ٹنڈو باگو کے مدرسہ ہائی اسکول میں پڑا تھا۔ بھائی جان نے بھی اسی سال سندھ یونیورسٹی سے میٹرک پاس کی تھی۔

اسکول کی تعلیم مکمل ہوجانے کے بعد وہ چونکہ ہاسٹل میں مزید قیام کرنے کے مجاز نہیں تھے اس لیے اپنے روم میٹ کے ساتھ قریبی بیراج کالونی میں کوارٹرکرائے پر لے کر اس میں رہنے لگے۔ دو ایک بار میرا وہاں بھی جانا ہوا تھا، بھائی جان کے دوستوں رب نواز اور ڈاکٹر نیاز سے میں پہلی بار وہیں ملا تھا۔ رب نواز خود تو میونسپل کمیٹی میں چنگی منشی تھا اور ایک بار لوٹ مارکے دوران ڈاکوؤں کے ہاتھوں مرتے مرتے بچا تھا مگر اس کے بڑے بھائی کا کھاہی روڈ پر الفاروق کے نام سے اپنا سیکنڈری اسکول تھا جو بطور ہیڈ ماسٹر وہ خود چلاتے تھے۔ نیاز وٹرنری ڈاکٹر تھے اور ان کی پوسٹنگ سانگھڑ میں تھی،ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر ظہور ہیرآباد میں واقع جانوروں کے سرکاری اسپتال کے انچارج تھے۔

انھوں نے برسوں ہمارے شہر ٹنڈو غلام علی میں بھی خدمات انجام دی تھیں، ابا کے دوستوں میں سے تھے، شاید انھی کے کہنے پہ کبھی کبھار بھائی جان کی خبرگیری کے لیے چکر لگایا کرتے تھے، بھائی جان کا بھی ان کے گھر آنا جانا تھا، وہیں ان کی ڈاکٹر نیاز سے ملاقات ہوئی تھی جو بعد میں گہری دوستی میں بدل گئی۔ میں جب بھی بھائی جان کے پاس حیدرآباد آتا وہ مجھے فیرنی کھلانے اور فلم دکھانے کا خاص طور پر اہتمام کرتے، فیرنی کسٹرڈ جیسی مگر دہی کی طرح ڈھیلی ڈھیلی جمائی جاتی تھی اور بڑے مزے کی ہوتی تھی۔ ہیرآباد ہی میں ایک مارواڑی کے ہوٹل کی فیرنی بہت مشہور تھی، ہم بھی وہیں فیرنی کھانے آتے تھے۔ بھائی جان کے ساتھ سینما میں دیکھی ہوئی ایک فلم ’’بیداری‘‘ اور اس کا گانا ’’یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران، اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان‘‘ مجھے ابھی تک یاد ہیں۔

مجھے بھائی جان کے ساتھ تلک چاڑی کے چرچ میں اتوارکی ایک سروس میں اپنی شرکت بھی یاد ہے جس کے لیے انھوں نے مجھے اندر داخل ہونے سے پہلے خاصا طویل لیکچر دیا تھا کہ یہ ان لوگوں کی ایک طرح کی نماز ہوتی ہے، فرق اتنا ہے کہ ہم مسجد میں باجماعت یا اکیلے کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہیں جب کہ ان کی نماز بینچ پر بیٹھ کر پادری کا بیان سننے تک محدود ہوتی ہے اور ہماری نماز کی طرح یہ لوگ رکوع اور سجدہ وغیرہ نہیں کرتے۔ پھر جب ہم کھچا کھچ بھرے ہوئے ہال میں داخل ہوئے تو ہمیں جس بینچ پر بیٹھنے کی جگہ ملی وہاں بھائی جان کے ساتھ ایک خوبصورت کرسچین لڑکی چپک کر بیٹھی ہوئی تھی، تب مجھے سمجھ میں آیا کہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی عبادتگاہ میں جاکر یہ دیکھنا کیوں ضروری تھا کہ وہ لوگ کیسے عبادت کرتے ہیں۔

اگرچہ وہ مجھ سے عمر میں صرف چھ سال ہی بڑے تھے لیکن ان کی بات نہ ماننا یا کسی بات پر ان سے اختلاف کرنا مارکھانے کو دعوت دینا تھا کیونکہ وہ زبان سے زیادہ ہاتھ سے کام لینے کے قائل تھے، چھوٹوں کو اختلاف کا جمہوری حق بالکل نہیں دیتے تھے، صرف اپنے سے بڑوں اور زیادہ طاقتوروں کی مخالفت برداشت کرتے تھے۔ پتہ نہیں کیوں لیکن 1998ء میں جب ہم تینوں بھائی عمرے کی سعادت حاصل کرنے سعودیہ گئے تھے، مجھے نوجوانی کے زمانے کا وہ واقعہ بے اختیار یاد آیا اور میں نے بھائی جان سے پوچھا کہ اگرکوئی کرسچین محض یہ دیکھنے کے لیے کہ ہم لوگ عمرہ کیسے کرتے ہیں حرم شریف میں داخل ہوکر طواف کرنے لگے تو کیسا لگے گا،انھوں نے کوئی جواب تو نہیں دیا لیکن مجھے لگا جیسے وہ میرا مطلب سمجھ گئے تھے۔

اسی طرح بیراج کالونی کے اس کوارٹر میں اپنی ایک رات کی نظر بندی بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے، بھائی جان اور ان کے دوست رمضان، رب نواز اور ڈاکٹر نیاز رات کے کھانے کے بعد اس وقت تک کھسر پھسر کرتے رہے جب تک میں سو نہیں گیا، پھر جب میری آنکھ کھلی تو وہ چاروں غائب تھے اورکمرہ باہر سے بند تھا، میں نے کافی دیر ان کا انتظارکیا اور پانی پی کر دوبارہ سوگیا۔

صبح کو ہم نے ساتھ ناشتہ کیا جو یہ لوگ لے کر آئے تھے، ڈاکٹر نیاز نے اداکاری کرتے ہوئے مجھے کہا یار تم تو گھوڑے بیچ کر سوتے ہو، باہر اتنا شور مچا لیکن تم ہلے تک نہیں، کچھ لوگوں کا جھگڑا ہو گیا تھا، پولیس آئی تھی، ہمیں بھی ان کے ساتھ تھانے جانا پڑگیا۔ دو تین دن ہی گزرے تھے کہ بھائی جان اور ان کے دوستوں میں کسی بات پر بحث چھڑگئی تب رب نوازکی زبانی پتہ چلا کہ وہ لوگ اْس رات مجھے بند کرکے ناچ گانوں کا کوئی ثقافتی پروگرام دیکھنے گئے تھے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔