لیدر اور ٹیکسٹائل کا ٹیکس رعایت کیلیے ایف بی آر کے سسٹم سے منسلک ہونا مشروط

ارشاد انصاری  ہفتہ 11 اگست 2018
اقدام کا بنیادی مقصد لیدر اور ٹیکسٹائل یونٹس کی مقامی سپلائی کی مانیٹرنگ کرنا ہے (فوٹو : فائل)

اقدام کا بنیادی مقصد لیدر اور ٹیکسٹائل یونٹس کی مقامی سپلائی کی مانیٹرنگ کرنا ہے (فوٹو : فائل)

 اسلام آباد:  فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے لیدر اور ٹیکسٹائل سیکٹر کیلیے اشیا کی مقامی مارکیٹ میں سپلائی پر 6 فیصد سیلز ٹیکس کی رعایتی شرح کے اطلاق کو ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے سے مشروط کردیا ہے جو ٹیکس دہندگان و یونٹس ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ منسلک نہیں ہوں گے انہیں 3 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اقدام کا بنیادی مقصد لیدر اور ٹیکسٹائل یونٹس کی مقامی سپلائی کی مانیٹرنگ کرنا ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے گزشتہ روز باضابطہ طور پر سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لیدر اور ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ ٹیکس دہندگان و مینوفیکچررز اور یونٹس کو اپنی تیار کردہ اشیا کی مقامی سپلائی پر 6 فیصد سیلز ٹیکس کی رعایتی شرح کے اطلاق کیلیے اپنے یونٹس اور ٹیکس دہندگان کو ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا جس کیلیے ٹیکسٹائل و لیدر سیکٹر کے ٹیکس دہندگان کو 15 اگست تک خود کو ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ منسلک کرنے سے متعلق رضامندی کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جو یونٹس مذکورہ مدت تک ایف بی آر کو اپنی رضامندی کے بارے میں آگاہ کردیں گے انہیں اشیا کی لوکل سپلائی پر 6 فیصد رعایتی سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کی جائے گی اور جو لوگ ایف بی آر کے سسٹم سے منسلک ہونے کیلیے ایف بی آر کو اپنی رضامندی کے بارے میں آگاہ نہیں کریں گے انہیں اپنی اشیا کی لوکل سپلائی پر 3 فیصد اضافی شرح کے ساتھ 6 فیصد کے بجائے9 فیصد جنرل سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل و لیدر سیکٹر کے جو ٹیکس دہندگان خود کو ایف بی آر کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹ کرنے کیلیے رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود اپنے یونٹس کو عملی طور پر ایف بی آر کے سسٹم کے ساتھ منسلک نہیں کریں گے انہیں بھی 6 فیصد رعایتی سیلز ٹیکس کی سہولت نہیں دی جائے گی۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے آن لائن سسٹم کے ساتھ منسلک نہ ہونے والے لیدر و ٹیکسٹائل ٹیکس و ٹیکس دہندگان کو اشیا کی مقامی سپلائی پر 9 فیصد جنرل سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق یکم جولائی 2018 سے کیا جائے گا۔

دوسری جانب اس بارے میں جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد لیدر اور ٹیکسٹائل یونٹس کی مقامی سپلائی کی مانیٹرنگ کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جو یونٹس ایف بی آر کے اس سسٹم کے ساتھ منسلک ہوں گے وہ اپنی تیار کردہ اشیا کی جو بھی لوکل سپلائی کریں گے اس کی انوائس آن لائن براہ راست ایف بی آر کے پاس آجائے گی جس سے ایف بی آر کو ان یونٹس کی اصل سیل کا ریکارڈ دستیاب ہوگا جس سے ان شعبوں سے مطلوبہ صلاحیت کے مطابق ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔

مذکورہ افسر نے بتایا کہ یہ بین الاقوامی ماڈل ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک میں نافذ ہے جہاں اس طرح کے یونٹس کے سیل پوائنٹس ان کی ٹیکس اتھارٹیز کے آن لائن سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹڈ (منسلک) ہیں اور وہاں کی ٹیکس اتھارٹیز ان سیل پوائنٹس کی انوائسز کی مانیٹرنگ کررہی ہوتی ہیں۔

افسر کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کی سہولت کیلیے دی جانے والی 6 فیصد رعایتی سیلز ٹیکس کی سہولت کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی اور ریونیو بڑھے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔