حفیظ کا ’’غائبانہ‘‘ احتجاج

سلیم خالق  ہفتہ 11 اگست 2018
بدقسمتی سے مجھے تو حالات حفیظ کیلیے اتنے اچھے نہیں لگ رہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

بدقسمتی سے مجھے تو حالات حفیظ کیلیے اتنے اچھے نہیں لگ رہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

چند برس پہلے کی بات ہے، مجھے پتا چلا کہ شاہد آفریدی پشاور زلمی کے مالک سے ناراض اور فرنچائز کو چھوڑ رہے ہیں، میں نے ذرائع کے حوالے سے خبر شائع کر دی، اگلے دن شور مچ گیا،آفریدی کا میرے پاس فون آیا اور کہنے لگے ’’اس خبر کے بعد مجھ پر بڑا دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ تردید کروں‘‘ میں نے پوچھا کیا یہ بات غلط ہے تو ان کا جواب تھا ’’نہیں، واقعی معاملات اچھے نہیں چل رہے، مگر بعض لوگ چاہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے‘‘ اب میرا اگلا جملہ تھا کہ ’’ تمہیں تردید کرنا ہو توکردو،مگر اس سے میری ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور تم بھی جانتے ہو خبر غلط نہیں تھی‘‘ یہ سن کر آفریدی کہنے لگے، ’’آپ کی عزت میری عزت ہے، میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کروںگا‘‘، بعد میں ایسا ہی ہوا، پھر کچھ عرصے بعد آفریدی نے پشاور زلمی کو خیرباد کہہ دیا، یوں میری خبر سچ ثابت ہو گئی۔ آفریدی ایسے ہی ہیں۔

حق بات کرتے ہوئے نہیں ڈرتے اور خود سامنے آکر فائٹ کرتے ہیں، بدقسمتی سے حفیظ کے معاملے میں مجھے یہ بات نظر نہیں آئی، ان کے ساتھ واقعی زمبابوے میں ناانصافی ہوئی، میں نے خود کپتان سرفراز احمد اور چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی سے یہ بات کہی،اگر انھیں ون ڈے اسکواڈ میں رکھا تھا تو کھلانا چاہیے تھا، کسی سینئر کھلاڑی کو پوری سیریز میں باہر بٹھانا اس کی توہین تھی، پھر سینٹرل کنٹریکٹ میں وہ اے سے بی کیٹیگری میں آئے تو’’قریبی ذرائع‘‘ سے خبریں سامنے آئیں کہ حفیظ ناخوش ہیں اور شاید ریٹائر ہوجائیں، ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ وہ قریبی ذرائع کون تھے، پھر جب چیئرمین پی سی بی کا یہ بیان آیا کہ ’’ کسی کی بلیک میلنگ میں آ کر سینٹرل کنٹریکٹ میں تبدیلی نہیں کریں گے‘‘ تو حفیظ کی ٹون بھی بدل گئی، اب انھوں نے میڈیا کو ہی جھوٹا قرار دے دیا اور ٹویٹ کر دی کہ انھیں تو کسی بھی کیٹیگری میں رکھیں کوئی اعتراض ہی نہیں بس وہ ملک کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں، یہی بات تھی۔

جس کی وجہ سے ان کے ’’غائبانہ احتجاج‘‘ کا کسی نے نوٹس نہ لیا، ماضی میں یونس خان کے ساتھ جب بورڈ نے ایسی ہی ناانصافی کی تو اپنا کیس لڑنے وہ خود سامنے آئے، ’’قریبی ذرائع‘‘ سے مدد نہیں لی، اسی لیے حکام بھی دباؤ میں آ کر فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے، یہاں حفیظ نے ’’صاف چھپتے نہیں سامنے آتے نہیں‘‘ والا کام کیا، پھر اپنے’’دوستوں‘‘ کو ایک طرح سے غلط بھی کہہ دیا، یہ بالکل درست بات ہے کہ حفیظ کو اگر سینٹرل کنٹریکٹ دیا تو اے کیٹیگری میں رکھنا چاہیے تھا، ماضی میں بورڈ نے خود ہی فیصلہ کیا تھا کہ سابق و موجودہ کپتان اسی کیٹیگری میں ہوں گے، مگر حفیظ کے معاملے میں اس کا اطلاق نہیں ہوا،اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ پی سی بی کے فیوچرپلانز میں شامل نہیں، پانچوں ون ڈے میچز نہ کھلا کر اور اب سینٹرل کنٹریکٹ میں تنزلی سے انھیں پیغام دیا جا رہا ہے کہ ’’ آپ کی ہمیں ضرورت نہیں گھر چلے جائیں‘‘ مگر حیران کن طور پر حفیظ نوشتہ دیوار نہیں پڑھ رہے، یقیناً پاکستانی ٹیم کی نمائندگی بہت بڑا اعزاز ہے۔

ہمارے ملک میں ویسے بھی روایت نہیں کہ کسی سینئر کو باعزت طریقے سے رخصت کیا جائے، حفیظ کی خواہش ہوگی کہ اچھا پرفارم کر کے خوشگوار یادوں کے ساتھ ریٹائر ہوں مگر افسوس مکی آرتھر کا ایسا کوئی ارادہ نہیں لگتا، اگر ایشیا کپ کیلیے انھیں اسکواڈ میں شامل کیا گیا تو مجھے بڑی حیرت ہوگی، نوجوان کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی نے حفیظ جیسے سینئرز کی اہمیت ختم کر دی ہے،کوچ اور چیف سلیکٹر بھی ینگسٹرز کو ترجیح دیتے ہیں، ایسے میں باعزت رخصتی کا موقع دینے کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا، بڑھتی عمر بھی ان کی راہ میں حائل ہے، میں حفیظ کی بہت عزت کرتا ہوں، وہ اچھے کرکٹر ہیں اور کبھی کسی منفی سرگرمی میں ان کا نام سامنے نہیں آیا بلکہ عامر کی واپسی پر انھوں نے اسٹینڈ بھی لیا تھا، یہ اور بات ہے کہ بعد میں پیچھے ہٹ گئے تھے، مگر ہمیں زمینی حقائق بھی دیکھنے چاہئیں، آل راؤنڈر کیلیے مناسب یہی ہے کہ کپتان اور کوچ سے ایک بار پھر دوٹوک بات کریں، پوچھیں کہ وہ ان کے منصوبوں میں شامل ہیں یا نہیں، چیئرمین پی سی بی سے بھی ملاقات کا وقت لیں، پھر اپنے آپشنز پر غور کریں، آپ کی ملک کیلیے بڑی خدمات ہیں۔

پوری سیریز باہر بیٹھتے یا بی کیٹیگری میں سینٹرل کنٹریکٹ پاتے دیکھنا ہمیں اچھا نہیں لگتا، اگر قومی ٹیم کو ضرورت نہیں تو ٹی ٹوئنٹی لیگز میں تو حفیظ کی اب بھی خاصی ڈیمانڈ ہے، ان میں شرکت کریں، یا پھر فیصلہ کر لیں کہ آپ کو مزید انٹرنیشنل نہیں کھیلنا ، مگر اس کیلیے اپنی جنگ خود لڑیں، دوسروں کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کے بعد منہ دوسری طرف پھیرنے سے دوستوں کی تعداد مزید کم ہو جائے گی، کھل کر سامنے آئیں میڈیا سے بات کریں اور یہ ثابت کریں کہ واقعی آپ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے،شاہد آفریدی اور یونس خان کی پھر بات کروں گا، ان جیسے پلیئرز نتائج کی پروا کیے بغیر ڈنکے کی چوٹ پر بات کیا کرتے تھے، اسی لیے کئی بار سرخرو بھی ہوئے،آپ کو بھی لگتا ہے کہ صحیح ہیں تو اپنے حق کیلیے سامنے آ کر لڑیں۔ ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر ’’ قریبی ذرائع ‘‘ یہ کہیں گے کہ حفیظ ریٹائر ہونے والے ہیں تو اس سے ٹیم یا بورڈ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ تو پہلے ہی واضح کر چکے کہ ان کی ضرورت نہیں ہے۔

ہاں اگر حفیظ سامنے آ کر خود کہے کہ میرے ساتھ ناانصافی ہوئی اور پاکستان بھر کے شائقین کرکٹ ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو چاہے مکی آرتھر، انضمام الحق یا نجم سیٹھی کتنا بھی زور لگا لیں انھیں کھیلنے سے نہیں روک سکتے، مگر پہلے وہ خود تو فیصلہ کر لیں کرنا کیا ہے، بدقسمتی سے مجھے تو حالات حفیظ کیلیے اتنے اچھے نہیں لگ رہے، اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے بارے میں فیصلہ کر لیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ انھیں بھی ریٹائرمنٹ کے اعلان کا موقع ہی نہ ملے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔