پاک امریکا تعلقات میں بڑھتی سرد مہری

ایڈیٹوریل  اتوار 12 اگست 2018
امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی پاکستان نے امریکا کا بھر پور ساتھ دیا۔ فوٹو: فائل

امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی پاکستان نے امریکا کا بھر پور ساتھ دیا۔ فوٹو: فائل

امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ ماضی میں بھی آتے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی کہانی پڑھی جائے تو یہ ہر قسم کے نشیب وفراز سے بھری پڑی ہے لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے تعلقات برقرار رہے ہیں۔

قیام پاکستان کے چند برس بعد ہی امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات قائم ہوگئے تھے، اور یہ تمام تر مشکل حالات کے باوجود آج تک قائم ہیں۔ اس عرصے میں بہت سے ایسے موڑ آئے جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوئے لیکن کچھ عرصے بعد ہی پھر بحال ہو جاتے رہے ہیں۔

سردجنگ کے دور میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف دونوں ملکوں نے متحد ہو کر جدوجہد کی جس کے نتیجے میں افغانستان سے سوویت فوجیں واپس چلی گئیں اور بعد میں سوویت یونین تحلیل ہو گیا، سردجنگ کا خاتمہ ہو گیا اور دنیا میں نئی صف بندیوں کا آغاز ہوا، اس دوران ہی نائن الیون کا واقعہ ہوا، امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی پاکستان نے امریکا کا بھر پور ساتھ دیا۔

پاکستانی فوج آج بھی دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہے لیکن اس دوران امریکا اور پاکستان کے تعلقات کے درمیان تعلقات میں سردمہری بھی آتی رہی۔ امریکا کے پالیسی سازوں کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہونا شروع ہوا، افغانستان پر برسراقتدار گروہ بھی امریکا کے قریب ہوا،افغانوں کا ایک گروہ مسلسل پاکستان کے بارے میں زہر اگلتا رہا ہے۔ یوں پاکستان اور امریکا کے درمیان غلط فہمیاں اور تلخیاں بڑھنے لگیں، امریکا ڈومور کا مطالبہ بڑھانے لگا، صدرڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد پاک امریکا تعلقات میں مزید الجھاؤ پیدا ہونے لگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت گیر اور جارحانہ پالیسی کا آغاز کیا۔

اب تازہ خبر کے مطابق امریکا نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی تربیت کے منصوبے ختم کر دیے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ نے خاموشی کے ساتھ پاکستانی حکام سے قطع تعلق کرتے ہوئے ایسے متعدد باہمی تربیتی اور تعلیمی منصوبوں کو ختم کردیا جو گزشتہ ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط عسکری تعلقات کی بنیاد تھے۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کا قدم پہلے کبھی نہیں اٹھایا گیا تاہم اسے اس سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان اقدامات کے تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے جس میں انھوں نے پاکستان کی جانب سے مزید شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کرنے پر امریکی سیکیورٹی مدد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خبر میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے عسکری حکام نے براہ راست اس پر کوئی رائے نہیں دی لیکن دونوں ممالک کے افسروں نے ذاتی سطح پر اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ پریشان کن فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

امریکا او رپاکستان کے درمیان تعلقات میں جو گراوٹ آ رہی ہے، وہ مسلسل بڑھ رہی ہے، دونوں ملکوں کے پالیسی سازوں کو اس صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے اور باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے کوئی میکنزم بنانا چاہیے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام (آئی ایم ای ٹی) کے تحت اس سال 66 پاکستانی افسروں کو تربیت فراہم کرنا تھی۔ اب ان مواقع کو ختم کیا جارہا ہے۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ یہ مواقع یا تو استعمال نہیں ہوں گے یا کسی اور ملک کو فراہم کردیے جائیں گے۔ ادھر پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکا کے سابق نمائندہ خصوصی، ڈین فیلڈ مین نے اس قدم کو ’ بہت تنگ نظری‘ قرار دیتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مستقبل پر منفی اثرات کی وجہ کہا ہے۔ اہم امر یہ ہے کہ پاکستان اور امریکی فوجی تعاون ہمیشہ سے سیاسی دباؤ اور تعلقات سے آزاد رہا ہے۔

صدر ٹرمپ انتظامیہ جس قسم کی پالیسیاں اختیار کر رہی ہے اس سے امریکا کے روایتی دوستوں میں ناراضی اور بے چینی بڑھنا فطری امر ہے۔ امریکی انتظامیہ کو جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا میں کوئی بھی پالیسی اپنانے سے پہلے زمینی حقائق کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری سنجیدگی سے لڑی ہے لیکن بھارت اور افغانستان کے حکمران اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے امریکا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کر رہے ہیں۔

اس صورت حال میں پاکستان کو بھی مناسب لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ روس اور چین کے آپشن پر غور کیا جانا چاہیے۔ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات سے کسی صورت روگردانی نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو امریکا میں بھی اپنی لابنگ بہتر کرنی چاہیے تاکہ امریکا کی جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے بارے میں پالیسی میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔