کینیڈا میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات

ایڈیٹوریل  اتوار 12 اگست 2018
ایک ایسا ملک جہاں کا کلچر پرتشدد روایات سے پاک ہو، وہاں ایسے واقعات کا جنم لینا تشویشناک امر ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ایک ایسا ملک جہاں کا کلچر پرتشدد روایات سے پاک ہو، وہاں ایسے واقعات کا جنم لینا تشویشناک امر ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

کینیڈا جو کچھ عرصہ پہلے تک ایک پرسکون اور پرامن ملک تھا، اب وہاں بھی پرتشدد واقعات نے جنم لینا شروع کیا ہے، یکے بعد دیگرے حالیہ مہینوں میں کینیڈا میں بڑے پیمانے پر کئی پرتشدد واقعات اشارہ دے رہے ہیں کہ کینیڈا کو اس وقت کئی محاذوں پر اندرونی و بیرونی خطرات لاحق ہیں، خصوصاً عالمی سیاست میں ہونے والے مخاصمانہ رویے کینیڈا کے امن کے درپے ہیں۔

جمعہ کو کینیڈا کے ایک چھوٹے شہر ٹورنٹو میں فائرنگ کے واقعات میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں دو پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ نیو برونزوک کے کیپیٹل فریڈرکٹن کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے تقریباً 20 سے زائد گن شوٹس کی آواز سنی جب کہ پولیس نے ابتدائی طور پر شہر کے ایک بڑے حصہ کو ہنگامی طور پر بند کرنے اور شہریوں کو اپنی رہائش اور کاروبار کے اندر رہنے کا حکم دیا۔

فریڈرکٹن کے میئر مائیک اوبرائن نے ٹویٹ کیا ہے کہ ہمارے دل اپنے دو بہادر پولیس افسروں کے قتل پر ٹوٹ گئے ہیں۔ کینیڈا کی تاریخ میں وہاں کے شہریوں کے لیے یہ بات عجب ہے کیونکہ اس سے پیشتر کبھی بھی اس قسم کے واقعات کا سامنا نہیں ہوا، نہ ہی کینیڈین پولیس پر اس طرح کے حملے ہوئے۔ کئی شہریوں نے اپنے تاثرات میں بتایا کہ انھوں نے پہلی بار کینیڈا میں ایسا اندوہناک واقعہ دیکھا ہے۔

واضح رہے کہ برونزک کے صوبہ میں 2016ء میں قتل و غارت گری کے 11 واقعات پیش آئے تھے۔ گزشتہ ماہ ٹورنٹو ہی میں ایک شخص نے ہجوم پر گن فائر کرکے دو افراد کو قتل اور 13 کو زخمی کر دیا تھا جب کہ اس سے پیشتر اپریل میں بھی ایک شخص نے اپنی وین بس اسٹاپ پر موجود لوگوں پر چڑھا کر دس افراد کو قتل کر دیا تھا، اس سے قبل 2014ء میں مونٹون، نیو برونزک میں فائرنگ سے تین پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

حکام نے بتایا ہے کہ اس معاملے میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے اور اس کے شدید زخموں کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے، تاحال گرفتار شخص اور اس کے مقصد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ لیکن کینیڈین حکومت کو ان معاملات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ایک ایسا ملک جہاں کا کلچر پرتشدد روایات سے پاک ہو، وہاں ایسے واقعات کا جنم لینا تشویشناک امر ہے۔ دوسری جانب کینیڈا کو دیگر ریاستوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور تاثرات کے اظہار کے وقت محتاط رہنا چاہیے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔