سورج کے اسرار جاننے کے لیے امریکی خلائی جہاز روانہ

ایڈیٹوریل  اتوار 12 اگست 2018
دی پارکر سولر پروب اپنے مشن میں شمسی طوفانوں کے بارے میں زیادہ قابل اعتبار معلومات فراہم کرے گا۔  فوٹو: سوشل میڈیا

دی پارکر سولر پروب اپنے مشن میں شمسی طوفانوں کے بارے میں زیادہ قابل اعتبار معلومات فراہم کرے گا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ناسا نے ڈیڑھ ارب ڈالر کی لاگت سے ایک ایسا خلائی جہاز تیار کیا ہے جو کرہ ارض اور دیگر سیاروں کو تیز ترین روشنی مہیا کرنے والے ستارے سورج اور اس کے قریبی ماحول کا گہرائی اور تفصیل سے سائنسی جائزہ لے سکے گا۔ سورج صرف روشنی ہی نہیں، بڑی شدید گرمی اور حدت بھی فراہم کرتا ہے۔

سورج کی جانب جو خلائی جہاز بھیجا گیا ہے اس کا حجم ایک عام موٹرکار کے برابر ہے۔ ڈیلٹا 4 ’’دی پارکر سولر پروب‘‘ نامی اس خلائی جہاز کو فلوریڈا کے خلائی مرکز کیپ کارنیوال سے چھوڑا گیا ہے۔ خلائی تحقیقات کے امریکی ادارے ناسا کے مطابق اس راکٹ کی موسمی پیش گوئی ٹیک آف کے لیے 70 فیصد موافق تھی۔ تاریخ میں پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی خلائی جہاز سورج کے اس قدر نزدیک پہنچے گا جتنا پارکر سولر پروب نامی خلائی جہاز پہنچے گا۔

سورج کے اردگرد کی غیر معمولی فضا کو اصطلاحاً کرونا (Corona) کہا جاتا ہے۔ نیا خلائی جہاز اس کے رازوں کو کھوجنے کی کوشش کرے گا۔ کرونا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ سورج کی سطح سے بھی 300 گنا زیادہ گرم ہے۔ دی پارکر سولر پروب اپنے مشن میں شمسی طوفانوں کے بارے میں زیادہ قابل اعتبار معلومات فراہم کرے گا۔ یونیورسٹی آف مشی گن کے پروفیسر جسٹن کیسپر نے جو دی پارکر سولر پروب پروگرام کے پروجیکٹ سائنٹسٹ بھی ہیں، کہا ہے کہ اس خلائی جہاز کو الٹرا پاور فل ہیٹ شیلڈ کے ذریعے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

یہ حفاظتی شیلڈ خلائی جہاز کو ہمارے شمسی نظام کے وسطی علاقے میں تحفظ فراہم کرے گی۔ کسی ملک کا سائنسی تحقیق میں مسلسل آگے بڑھتے چلے جانے کی مثال دیکھنی ہو تو پارکر سولر پروب کی مثال سامنے رکھی جا سکتی ہے۔ سابق سوویت یونین نے سپوتنک نامی خلائی جہاز خلاء میں بھیجا تھا جس سے روسی خلاباز یوری گیگرین کو عالمی شہرت نصیب ہوئی مگر امریکا نے جواب میں چاند پر لینڈ کرنے والی پہلی خلائی پرواز بھیج دی۔ اس کے بعد مزید خلائی مہمیں طے کیں اور اب ایک بظاہر ناممکن نظر آنے والی مہم سورج کی تسخیر کے لیے روانہ کی گئی ہے۔

پاکستان اور دنیا کے دیگر ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کے پالیسی سازوں کو اوسط سطح کی ذہنیت سے نکل کر اعلیٰ اذہان کی طرف سفر کرنے کے لیے امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی سائنسی ترقی کا مشاہدہ کرنا چاہیے تاکہ پسماندہ معاشرے بھی ترقی کے سفر کا آغاز کر سکیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔