جو چپ رہیں تو ملامت کرے ضمیر ہمیں

شاہد سردار  اتوار 12 اگست 2018

یہ حقیقت سب کو ملحوظ رکھنی چاہیے کہ عدلیہ، احتسابی نظام سمیت تمام ریاستی ادارے بھی ہمارے ملک اور قوم کا حصہ ہیں اور پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں، سیاسی شخصیات اور عوامی رہنما بھی ۔ ملک کے لیے ادارے بھی ضروری ہیں اور سیاسی و جمہوری نظام اور سیاست دان بھی ۔ اداروں کا استحکام بھی ملک کے لیے ناگزیر ہے اور آئین میں طے کردہ سیاسی و جمہوری نظام کی مضبوطی اور تسلسل بھی فلاح و بہتری کا لازمی تقاضا ہے۔

دنیا کے تمام مہذب ملکوں کی طرح ہمارے ملک میں بھی سیاسی نظام اور ریاستی اداروں کا ساتھ ساتھ چلنا ہی قومی ترقی اور خوشحالی کا واحد راستہ ہے اور اس حقیقت سے بھی مفر ممکن نہیں کہ دنیا میں صرف وہی قومیں سرخ رو ہوئیں اورکوئی مقام و مرتبہ پایا جنھوں نے اجتماعی سوچ کے ساتھ اپنے مسائل کا ادراک کیا اور پھر اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت متفق و متحد ہوکر اپنے مسائل حل کیے۔ دوسروں کی اعانت سے چلنے والی معیشت کبھی مستحکم نہیں ہو پاتی، البتہ اپنی مدد آپ کے تحت ترقی وخوشحالی کی بے شمار مثالیں ہیں، جن میں نمایاں ترین چین کی ہے۔

پاکستان میں اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی آگاہی کا سفر شروع ہوچکا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اب اسلام کا قلعہ ان حماقتوں سے اجتناب کرے گا جن کی پرورش اس نے اپنے ذمے لی ہوئی تھی اور اب دنیا میں وہ ایک نارمل قوم کی طرح رہنا سیکھے گا ۔ حالیہ قومی انتخابات جن حالات کے تحت ہوئے اور بعض بڑی سیاسی پارٹیوں کو جس طرح احتساب کے نام پر قوم کے سامنے آنا پڑا اس سے تو یہی تاثر ملا کہ جمہوریت نے خار زاروں کا سامنا کرتے ہوئے گلوں میں رنگ بھر دیے ہیں یا باد سموم کا رخ بدل کر باد نو بہار کو تحریک بخشی ہے۔

خدا کرے اس بار منتخب ہونے والی حکومت اور اس کے تمام حساس اور بڑے ادارے راست گوئی کی راہ کو اپنائیں اور یوں جمہوریت سرسبز و شاداب رہے۔ کیونکہ ’’باوردی صدر‘‘ کے طویل دور حکمرانی اور تین بار وزارت عظمیٰ اور پانچ بار وزارت اعلیٰ پر عیش کرنیوالے شریف برادران اور پانچ سال پورے کرنیوالے زرداری نہ ہی وطن عزیز میں رہنے والوں کو پینے کا پانی دے سکے، نہ ہی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کراسکے، نہ ہی صحت و تعلیم اور حقوق انسانی کی پاسداری کرانے میں کامیاب ہو پائے حد تو یہ ملک کا گند (کچرا) تک نہ اٹھوا سکے۔

اپنی اپنی باریاں پوری کرکے مال بنانے یا کمانے والے حکمران اڈیالہ کے طہارت خانوں اور بیرکوں کی بدحالی کا رونا رونے میں مصروف رہے۔ انھوں نے کبھی ان عام انسانوں کے بارے میں نہیں سوچا جنھیں جانوروں سے بھی زیادہ بدتر طریقے سے ان جیلوں میں رکھا جاتا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج جہاں 600 پوائنٹ نیچے گیا وہیں ڈالر مزید مہنگا اور ہمارا روپیہ مزید سستا ہوا اور ملک 600 ارب کا مزید مقروض ہوا، ہمارے ہاں ڈیم بنانے کے لیے چندہ مانگا جا رہا ہے جب کہ دنیا 46 ہزار سے زائد ڈیم بناچکی ہے جن میں چین کے 22 ہزار اور بھارت کے 4 ہزار ڈیم بھی شامل ہیں۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ ملک کے خزانوں کو ناجائز طریقے سے استعمال کرنیوالے حکمرانوں کے خفیہ خزانوں سے رقم نکلوا کر بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کی جاتی اور پانی، بجلی، گیس، پٹرول، صحت، تعلیم اور بے روزگاری اور مہنگائی کے عفریتوں کا خاتمہ ان حرام کے پیسوں سے کردیا جاتا۔ ہمارے حکمرانوں کے اثاثے دنیا پر ظاہر ہوچکے اور ہمارے عوام کی لاچارگی اور بدحالی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں رہی۔ عبرت کا مقام یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ ملک کے بڑے بڑے بقراط، ارسطو اور افلاطونی ذہن رکھنے والے اپنی منشا و مرضی سے اپنے بچوں جتنے یا ان سے چھوٹے بلاول، مریم اور حمزہ کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے پائے گئے۔ واقعی انسانوں کے قد ہمارے ہاں گھٹ گئے اور ان کے سائے بڑھ گئے ہیں۔

بہرکیف نومنتخب قیادت کی طرف پھر سے دیکھا جا رہا ہے، اس لیے بھی کہ بے چارے عوام کے پاس کوئی دوسرا آپشن جو نہیں ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بیمار ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پرکھڑا کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے، اس وقت پاکستان خوشحالی کی عالمی درجہ بندی میں 86 ویں نمبر پر ہے، جب کہ نسبتاً غریب ملک سمجھا جانے والا بنگلہ دیش کا نمبر 66 واں ہے، اس وقت 6 کروڑ سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ان حالات میں نئی حکومت کو ٹیکس اصلاحات کے علاوہ بھی بہت سے مثبت اقدامات اٹھانا ہوں گے اور پھر ایک اسٹاک ایکسچینج ہی کیا ملک کی مجموعی معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے تمام شعبوں میں بہت کچھ کرنے کی گنجائش ہے،کیونکہ پی آئی اے سمیت سرکاری سرپرستی میں چلنے والے لگ بھگ دو سو ادارے مکمل طور پر خسارے میں چلے گئے ہیں اور وطن عزیز کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے جس سے لامحالہ آنیوالے وقت میں قومی خزانے پر بوجھ پڑنے کا قوی اندیشہ ہے۔

یہ صورتحال بلاشبہ تشویشناک ہے کہ دو چار نہیں لگ بھگ دو سو قومی ادارے خسارے میں چل رہے ہیں۔ ہماری معیشت تو پہلے ہی ناتوانی کا شکار ہے اس پر اگر ایسی افتاد پڑتی ہے تو اندیشہ ہے کہ اس کی نبضیں ڈوبتی چلی جائیں گی۔ قومی اداروں کی یہ صورتحال ہماری کوتاہی، غفلت اور بے جا سیاسی مداخلت کا شاخسانہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے مثال اسٹیل مل، پی آئی اے اور ریلوے ہیں۔

ہمارے ہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اداروں کی نجکاری سے معاشی بدحالی اور انتشار کے خدشات پیدا ہوجاتے ہیں لیکن اگر اس راہ پر نہ چلیں تو خسارہ قوم پر بوجھ بن جاتا ہے۔ اس سلسلے میں نئی حکومت کو ایک جامع حکمت عملی کے تحت ایسے ادارے جو مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں ایک شفاف عمل کے ذریعے ایسے لوگوں کے حوالے کرنا ہوں گے جو انھیں بطریق احسن چلانے اور منافعے میں لانے کی اہلیت رکھتے ہوں، اہم اداروں کے قلم دانوں کی بندربانٹ سے خزانے پر پڑنے والا بوجھ ہمیں قرضوں کی دلدل میں مزید دھنسا دے گا۔

ہمارے سیاستدانوں، حکمرانوں یا ارباب اختیار کو اب ہوش مندی سے یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ قرآن مجید نے حب جاہ اور حب مال کو فتنہ قرار دیا ہے جو بالآخر تذلیل ہی کا باعث بنتا ہے۔ یہ ایک طرح کی آزمائش ہوتی ہے، اگر انسان اقتدار اور دولت کو رضائے الٰہی اور خدمت کے لیے استعمال کرے تو وہ سرخ رو ہوگا ورنہ عبرت کی مثال بن جائے گا، ہر فیصلہ ہمارا ہوتا ہے جس میں قدرت دخل نہیں دیتی۔ ہم سب کو یہ بات اپنے پلے باندھ لینی چاہیے کہ خواہش، آرزو، ہوس اور شہوت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔

خواہش جائز طریقوں سے پوری کی جاتی ہے، ہوس جائز طریقوں کی پامالی سے تسکین پاتی ہے اور شہوت وہ آگ ہے جو نہ صرف ناجائز اور ظالمانہ طریقوں سے بھی مطمئن نہیں ہوتی بلکہ انسان اس کی تسکین کے لیے ہمیشہ ہوس کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ ہمارے مطالعے اور مشاہدے کے مطابق ہوس اقتدار عام طور پر ہوس مال کو جنم دیتی ہے اور پھر یہ ہوس تکبر کو پروان چڑھاتی ہے۔ یہ دنیا عارضی اور فانی ہے اور زندگی اور دنیا دونوں عبرت کا مقام اور عبرت کی جگہ ہیں بشرطیکہ ہم آنکھیں کھلی رکھیں اورغوروفکرکی عادت ڈالیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔