خورشید اور سہگل

رئیس فاطمہ  اتوار 12 اگست 2018
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

موسیقی کی دنیا بھی عجیب دنیا ہے۔ آپ اداس ہوں، غمگین ہوں ڈپریشن کا شکار ہوں یا بہت خوش ہوں، ہر طرح سے انسانی جذبات سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔ کتاب اور اچھی موسیقی تنہائی کی بہترین ساتھی ہیں ۔کیسا عجیب اتفاق ہے کہ اچھے شاعر، ادیب ، موسیقار،گائیک اور اداکاروں کی ایک بری تعداد جس طرح تقسیم سے پہلے نظر آتی ہے وہ بعد میں نہیں۔

اس وقت ہم بات کریں گے موسیقی کی دنیا کی۔ زہرہ بائی انبالے والی، ثریا اور امیر بائی کرناٹکی کے بعد ایک اور مدھر آواز جو مجھے بہت پسند ہے وہ ہے خورشیدکی، جس کے گائے ہوئے دلکش نغمے آج بھی موسیقی کے شائقین کو متاثرکرتے ہیں۔ ضیا محی الدین شوکے ایک پروگرام میں کرکٹر فضل محمود اور خورشید دونوں مدعو تھے اور فضل محمود کی فرمائش پر خورشید نے دوگیت سنا کر محفل کو لوٹ لیا تھا۔ ایک گیت تھا:

پنچھی باورا ‘ چاند سے پریت لگائے

اور دوسرا تھا ۔۔۔۔گھٹا گھنگھور گھور مور مچائے شور مورے سجن آجا

خورشید کا اصل نام ارشاد بیگم تھا وہ 14 اپریل 1914ء میں لاہور پنجاب (برٹش انڈیا) میں پیدا ہوئیں۔ خورشید، مشہور اداکارہ میناکماری کی بڑی سوتیلی بہن تھیں اور ماسٹر علی بخش کی بیٹی تھیں ۔ ماسٹر علی بخش اس لحاظ سے بہت خوش قسمت تھے کہ ان کی بیٹیاں بہت خوبصورت اور ذہین تھیں، میناکماری جن کا اصل نام مہ جبیں تھا بے مثال اداکارہ تھیں، فلم ’’پاکیزہ‘‘ ان کی ایک لازوال فلم ہے، لیکن وہ گلوکارہ نہ تھیں، البتہ شاعری سے شغف تھا ۔ ان کے برعکس خورشید اداکاری اورگلوکاری دونوں میں پرفیکٹ تھیں اور اپنے لافانی گیتوں کی وجہ سے مشہور تھیں ۔ 30 سے زیادہ فلموں میں کام کیا جن میں ’’تان سین‘‘ اور ’’بھگت سورداس‘‘۔ ’’شادی‘‘ اور ’’آگے بڑھو‘‘ بہت مقبول ہوئیں۔ خاص طور سے سہگل کے ساتھ ’’تان سین‘‘ اپنے وقت کی بہترین فلم تھی جو 1943ء میں بنی تھی۔ سہگل بھی اداکار کے ساتھ گلوکار بھی تھے۔ اسی لیے ان دونوں کی فلموں کی کامیابی میں ان کی اداکاری کے ساتھ گلوکاری کا بھی بہت دخل تھا۔

’’مرزا صاحباں‘‘ اور ’’لیلیٰ مجنوں‘‘ بھی خورشید کی بہت کامیاب فلمیں تھیں، خورشید پلے بیک سنگر بھی تھیں۔ ان کی شادی لالہ یعقوب سے ہوئی جو ان کے منیجر تھے۔ تین بچوں کی ماں تھیں۔ خورشید ہندی سینما کے بانیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ 1930ء تا1940ء خورشید کی زندگی کا تابناک دور تھا۔ خورشید کے عروج کا زمانہ وہ تھا جب وہ لاہور سے بمبئی (ممبئی) شفٹ ہوئیں اور رنجیت مووی ٹون سے منسلک ہوئیں۔ انھوں نے کے۔ایل سہگل، موتی لال اور دیگر ہیروز کے ساتھ کام کیا۔ 1948ء میں خورشید نے پاکستان ہجرت کی اور آخر دم تک یہیں رہیں۔ 18 اپریل 2001ء میں کراچی میں انتقال ہوا۔ خورشید نے 1956ء تک اداکاری اورگلوکاری سے ناتا جوڑے رکھا۔ خورشید نے یوں تو بے شمار گیت گائے لیکن کچھ گیت ایسے ہیں جو ناقابل فراموش ہیں۔ دوگیتوں کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے۔ یہ دو گیت خورشید کے کیریئرکے سپرہٹ گیت ہیں، ان کے علاوہ:

(1)۔ مدھر مدھرگا رے منوا مدھر مدھر گا

(2)۔دل کی دھڑکن بنالیا ان کو

(3)۔لو برکھا برسن لاگے

(4)۔نیناں باورے

(5)۔برسو رے کالے بادلوا برسو رے۔ جیسے مورے نیناں برسیں

(6)۔دکھیا جیارا روئے نیناں

(7)۔مورے بالاپن کے ساتھی بھول جیؤ نا (سہگل اور خورشید)

خورشید اور سہگل کی جوڑی فلمی دنیا میں بہت مقبول تھی، دونوں گلوکار بھی تھے اور اداکار بھی اور پلے بیک سنگر بھی۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ خورشید کا ذکر ہو اور کندن لال سہگل کو فراموش کردیا جائے جو اپنے زمانے کا پہلا سپر اسٹار تھا۔ بے پناہ مقبولیت کا حامل یہ اداکار اور گلوکار اپنی منفرد آواز اور ایکٹنگ کی وجہ سے کبھی بھلایا نہ جاسکے گا۔ سہگل 11 اپریل 1904ء میں جموں کشمیر میں پیدا ہوئے۔ سہگل کی شہرت اورکرشماتی شخصیت آج بھی لوگوں کو انسپائر کرتی ہے۔ سدا بہارگیتوں کے بادشاہ کی آواز کی کاپی کرنے کی کوشش کشور، مکیش اور سی۔ایچ آتما نے کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ سہگل نے بہت چھوٹی عمر سے گانا شروع کردیا تھا۔ ان کے والد مہاراجا پرتاب سنگھ کے دربار سے وابستہ تھے۔ بارہ سال کی عمر میں سہگل نے مہاراجا کے دربار میں میرا بائی کا بھجن سنا کر داد وصول کی۔

مہا راجا نے تعریف بھی کی اور حوصلہ افزائی بھی کی کہ سہگل کا مستقبل بہت روشن ہے، لیکن ان کے والد کو اس بات کا بہت افسوس تھا کہ ان کا بیٹا اسکول کو خیرباد کہہ کر موسیقی کی دنیا میں گم ہوگیا ہے۔ تیرہ سال کی عمر میں اچانک سہگل کی آوازکچھ خراب ہوگئی جس سے ان کی والدہ بہت پریشان ہوئیں۔ کچھ عرصے تک سہگل نے گانا چھوڑ دیا۔ پھر ان کی والدہ انھیں ایک صوفی بزرگ پیر سلمان کے پاس لے گئیں انھوں نے کہا کہ سہگل ریاض کرنا نہ چھوڑے۔ توجہ اور محنت سے ریاض کرے اللہ خیر کرے گا۔سہگل نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم کسی سے حاصل نہیں کی، ان کا اپنا انداز تھا جو بہت مقبول ہوا، البتہ گائیکی میں انھوں نے استاد فیاض خان، پہاڑی سانیال اور پنکج ملک سے فیض اٹھایا۔

سہگل پنجاب ریلوے میں ٹائم کیپر تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک کمپنی کے سیلز مین بھی تھے، ان کا گانا اب تک نجی محفلوں اور دوستوں تک محدود تھا۔ اتفاق سے ہندوستان ریکارڈنگ کمپنی کے ایک سیلز مین نے سہگل کی آواز سنی تو فوری طور پر انھیں کمپنی سے ایک کانٹریکٹ دلوادیا۔ اس کانٹریکٹ کے بعد سہگل کو فلموں سے آفرز آئیں اور انھوں نے پیچھے مڑکر نہ دیکھا۔ ایک کے بعد ایک فلمیں انھیں ملنے لگیں۔ 1935ء میں ’’دیوداس‘‘ بنی جس نے کامیابی کے ریکارڈ توڑ دیے، سہگل نے دیوداس کا رول بہت خوبی سے نبھایا۔ سہگل نے فلمی گیتوں کے علاوہ غزل، دادرا، بندش، خیال، بھجن اور مختلف راگوں میں گیت گائے۔

اردو کے علاوہ، ہندی، بنگالی، پشتو، تامل اور پنجابی زبان میں بھی گانے گائے، ان کی آواز اور گائیکی کا انداز قدرت کا ایک انمول تحفہ تھی۔ مزاج میں بہت انکسار تھا۔ 1940ء میں ناقابل فراموش فلم بھگت سورداس اور 1943ء میں تان سین بنی دونوں فلموں میں ان کی ہیروئن خورشید تھیں۔ ان کے علاوہ ’’شاہ جہاں‘‘ اور ’’پروانہ‘‘ بھی ان کے کیریئر کی یادگار فلمیں تھیں۔ پندرہ سال کے فلمی کیریئر میں سہگل نے 30 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ جو سہگل کے ناقابل فراموش گیتوں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، سہگل کی آواز میں ایک دکھ اور غم انگیزی کا احساس ملتا ہے۔ اسی لیے ان کے گیت دل کو چھو لیتے ہیں۔

(1)۔غم دیے مستقل‘ کتنا نازک تھا دل

(2)۔جب دل ہی ٹوٹ گیا ‘ ہم جی کے کیا کرینگے

(3)۔بالم آئے بسو مورے من میں

(4)۔ بابل مورا نیہر چھوٹو ہی جائے

(5)۔دیا جلا جگ مگ جگ مگ دیا جلا

(6)۔چاہ برباد کرے گی ہمیں معلوم نہ تھا

(7)۔زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں

صرف 42 سال کی عمر میں سہگل نے 18 جنوری 1947ء کو یہ دنیا چھوڑ دی۔ شاہ جہاں اور پروانہ ان کی زندگی کی آخری فلمیں تھیں، جن کی موسیقی نوشاد علی نے دی تھی۔ وفات کو 70 برس گزر جانے کے باوجود سہگل آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ سہگل کی آواز انسانوں کو ماضی کے دھندلکوں میں لے جاتی ہے اور اداس کردیتی ہے۔ تنہائی ہو اور سہگل کی آواز ہو تو انسان کو کسی ساتھی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ سہگل کی آواز یقینا لافانی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔