فضل الرحمن خوش قسمت ہیں انھیں را کا ایجنٹ نہیں کہا گیا، فاروق ستار

کورٹ رپورٹر  اتوار 12 اگست 2018
اشرف نور کی لاپتہ ہونے سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع،مقدمہ علیحدہ کر دیا گیا، سماعت ملتوی۔ فوٹو: فائل

اشرف نور کی لاپتہ ہونے سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع،مقدمہ علیحدہ کر دیا گیا، سماعت ملتوی۔ فوٹو: فائل

کراچی: ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان خوش قسمت ہیں کہ سب کچھ کہنے کے باوجود انہیں را کا ایجنٹ نہیں کہا گیا۔ 

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان مخالف نعروں اورمیڈیا ہاؤس پر حملے اور دہشت گردی کے 2 مقدمات میں ایم کیو ایم لندن کے اشرف نور کی لاپتہ ہونے سے متعلق رپورٹ کے بعد ملزم اشرف نور کے مقدمات دیگر ملزمان سے علیحدہ کردیے۔ آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ عدالت ایم کیو ایم بانی سمیت 8 ملزمان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں مولانا فضل الرحمن خوش قسمت ہیں کہ ایسی بات کرنے کے باوجود انھیں را کا ایجنٹ نہیں کہا گیا۔ اگر خدا نخواستہ یہ بات غلطی سے ہم میں سے کسی نے بھی کی ہوتی تو ہم پہ مہر لگ جاتی۔ کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے روبرو پاکستان مخالف نعروں اور میڈیا ہاؤس پر حملے اور دہشت گردی کے 2 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، عامر خان، رؤف صدیقی، کنور نوید جمیل، شاہد پاشا، قمر منصور سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ تفتیشی افسر نے مقدمات میں ملوث ایم کیو ایم لندن کے رہنما ملزم اشرف نور سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم اشرف نور کے والد نے بیان دیا ہے کہ ان کا بیٹا لاپتہ ہے جس کا مقدمہ بورڈ بیسن تھانے درج ہے۔ عدالت نے رپورٹ منظور کرتے ہوئے سماعت 8 ستمبرتک ملتوی کردی۔ عدالت دونوں مقدمات میں مفرور ملزمان ایم کیو ایم بانی، ذاکر قریشی، محمد جاوید، عارف خان، اکبر راجپوت، اسلم خان آفریدی، عبدالقادر اور رفیع اکبر کو پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خوش قسمت ہیں کہ سب کچھ کہنے کے باوجود انہیں را کا ایجنٹ نہیں کہا گیا۔ الیکش کمیشن کے باہر جو تقریر کی گئی اس میں ایسا نہیں کہنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ غلطی سے ہم میں سے یہ بات ہم میں سے کسی نے کی ہوتی تو ہم پہ یہ مہر لگ جاتی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا 14 اگست ہماری آزادی کا دن ہے اس کی مستند حیثیت ہے۔ ہم محب وطن پاکستانی ہیں اور ہم شایان شان طریقے سے یوم آزادی منائیں گے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ کہنا چاہیے تھا کہ ملک میں جو ناانصافی ہے اس کے لیے ہم اپنی جدوجہد کو تیز کریں گے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے بات چیت ہو سکتی ہے غیر واجبی رابطہ ہے۔ پیپلز پارٹی اور متحدہ کے درمیان صوبے میں حکومت بنانے پر باقاعدہ کوئی بیٹھک یا مکالمہ نہیں ہواضمنی انتخابات میں میرے الیکشن لڑنے کے متعلق فیصلہ رابطہ کمیٹی کرے گی۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔