رواں سال؛ مختلف مقامات سے 34 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملیں

کاشف ہاشمی  اتوار 12 اگست 2018
پولیس کی مجرمانہ خاموشی سے نومولودبچوں کی لاشیں پھینکنے کے واقعات بڑھ گئے۔ فوٹو: فائل

پولیس کی مجرمانہ خاموشی سے نومولودبچوں کی لاشیں پھینکنے کے واقعات بڑھ گئے۔ فوٹو: فائل

کراچی: ملک کے سب سے بڑے شہرکراچی میں پولیس کی مجرمانہ خاموشی کے باعث نوزائیدہ بچوں کی پے در پے لاشیں پھینکنے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا۔

نومولود بچوں کی لاشوں کے حوالے سے قانون موجود ہونے کے باوجود پولیس مقدمات درج کرنے کے بجائے174کی کارروائی کرکے جان چھڑانے لگی جس کے باعث شہر میں غیر قانونی طور پر میٹرینٹی ہومز،دائیوں کا کام کرنے والی خواتین تاحال سرگرم ہیں جس کے نتیجے میں اب تک رواں سال میں شہر کے مختلف مقامات سے34 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں مل چکی ہیں جنھیں پیدا ہوتے ہی بے دردی سے قتل کرکے لاشیں مختلف علاقوں میں پھینک دی گئی تھیں۔

پولیس کو یقین ہے کہ ایسے واقعات غیر شادی شدہ جوڑوں کی بے راہ روی کے باعث رونما ہوتے ہیں جس میں مقامی طور پر میٹرنٹی ہومز کی آڑ میں غیر قانونی طورپر کام کرنے والی مافیا کے لوگ محلوں میں دائی کاکام کرنے والی خواتین اور گھروں میں کام کرنے والی خواتین بھی ملوث ہیں اب تک ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس میں پولیس نے نوزائیدہ بچوں کے قتل میں ملوث جوڑے یا زچگی کرانے والی کسی دائی یا کسی میٹرنٹی ہوم کے خلاف کارروائی کی ہو۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جن علاقوں سے ایسی لاشیں ملتی ہیں ان علاقوں کی دائیوں اور میٹرنٹی ہوم سے متعلقہ پولیس رابطے کرتی ہے اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی جاتی جس کا سبب مبینہ طور پر رشوت ہی ہوسکتا ہے ،پولیس نے اب یہ روش اختیار کرلی ہے کہ ایسے کسی بھی واقعے کے جائے وقوع پر پہنچ کر پولیس نوزائیدہ بچے کی لاش اسپتال پہنچاتی ہے اور میڈیکل کرا کر مقدمہ درج کرنے کے بجائے 174کی کارروائی کرکے معاملہ ہی ختم کردیتی ہے۔

سابقہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے دور میں کراچی پولیس کی جانب سے نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملنے کا نوٹس لیا گیا تھا اور اس حوالے سے ان واقعات میں چند ایف آئی آر ہی درج ہوئیں لیکن واقعات کی تفتیش اور جانچ پڑتال میں پولیس کی عدم دلچسپی نظر آئی جس کی وجہ سے نوزائیدہ بچوںکی لاشیں پھینکنے میں ملوث سفاک ملزمان کا تاحال سراغ نہیں لگ سکا جس کے باعث ایسی واقعات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

شہر کے مختلف مقامات سے رواں سال کے ماہ جنوری اور فروری میں سب سے زیادہ نوزائیدہ19بچوں کی لاشیں ملی تھیں،ماہ مارچ میں 5، ماہ اپریل میں 4،ماہ مئی میں خوش قسمتی کوئی لاش نہیں ملی، ماہ جون میں 3،ماہ جولائی میں ایک اور ماہ اگست میں 2 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملی ہے ،نوزائیدہ بچوں کی لاشیں پھینکنے کے حوالے سے تھانہ شاہراہ فیصل، تھانہ کلفٹن اور تھانہ بریگیڈ میں قانون کے مطابق 3مقدمات درج کیے گئے تھے تاہم وہ بھی 174کی کارروائی کی طرح ہی سرد خانے نذر کی کردیے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نومولود بچوں کی لاشوں کے حوالے سے پولیس کارروائی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر عمل میں لائی جاتی ہے، میڈیکل رپورٹ میں ہی یہ تعین ہوتا ہے کہ نومولود مکمل بچہ تھا یا وہ ابھی پری میچیور تھا اگر میڈیکل رپورٹ وہ بچہ مکمل نہیں بتایا جاتا تو قتل کا مقدمہ درج نہیں کیاجاتا ،البتہ اس معاملے کی پولیس کارروائی ہوتی ہے تاہم اب تک ایسا کوئی واقعہ ماضی قریب میں سامنے نہیں آیا جس میں ایسے کسی واقعے کے ملزمان گرفتار کیے گئے ہوں۔

دوسری جانب ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ایدھی فائونڈیشن سمیت دیگر فلاحی ادارے اپنے طور پر کام کررہے ہیں جس کے باعثٖ ان بچوں میں سے کچھ بچوں کی جان بچ جاتی ہے اور وہ ایسے اداروں کے حوالے کردیے جاتے ہیں یا خاموشی سے اداروں کے باہر جھولوں میں یا آس پاس چھوڑ جاتے ہیں ،اس سلسلے میں شہریوں اور متعلقہ فلاحی اداروں کے ذمے داروں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس قانون کے مطابق ایسے واقعات میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے تو ان معصوموں کے قتل کا سلسلہ تھم سکتا ہے اور واضح کمی ہوسکتی ہے تاہم پولیس کی مجرمانہ خاموشی کے باعث شہر کراچی میں معصوم بچوں کا قتل عام جاری ہے۔

اس سلسلے میں کراچی پولیس کے سینئرتفتیشی افسران نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ ان واقعات کے پیچھے کئی اسباب ہے جن کے سدباب کا سندھ حکومت کے پاس اب تک کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، ایسے واقعات میں عموما دیکھا گیا ہے کہ میٹرنٹی ہومز و اسپتالوں کا عملہ ملوث ہوتا ہے،علاقائی سطح پر مقامی دائیوں کا اہم کردار بھی ہوتا ہے جو ایسے معاملات کو راز داری میں رکھتے ہوئے بھاری معاوضے کے عوض حمل ضائع کرانے اور نوزائیدہ بچوں کو ٹھکانے لگانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔

تفتیش کاروں کے مطابق ان واقعات کو تقویت دینے میں سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے جس کی مختلف سائیٹس پر عریانی اور فحاشی کے حوالے سے ہر قسم کا مواد موجود ہوتا ہے جو نوجوان نسل کے ہاتھوں میں اسمارٹ فونز کی صورت میں موجود ہے ،پولیس افسران کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ محکمہ ہیلتھ کے افسران کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا پولیس اور محکمہ ہیلتھ کے کوآرڈینیشن سے ایسے معاملات میں کمی آسکتی ہے۔

بے راہ روی کے واقعات روکنے کے لیے آگاہی کی ضرورت ہے،ضیا اعوان

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے ضیا اعوان ایڈووکیٹ کا کہنا کہ معاشرے میں جنسی تعلقات کے حوالے سے شعوری آگاہی نہ ہونے اور اسقاط حمل کے حوالے سے قانون سازی نہ ہونے کے باعث غلط تعلقات رکھنے والے مرد اور خواتین کی بے راہ روی پر مبنی تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معصوم بچوں کے قتل کے واقعات بڑھنے لگے ہیں جس کو روکنے کے لیے میڈیا ، سول سوسائٹی، این جی اوز اور دیگر اداروں کی جانب سے معاشرے میں آگاہی مہم کی ضرورت ہے جس کے تحت وہ نوجوان نسل کو جنسی تعلقات کے نتائج اور ان کے نقصانات سے آگاہی دی جاسکتی ہے اور معاشرے میں شعوری آگاہی کے ساتھ ساتھ ایسے عمل میں احتیاط کی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے بھی شعوری آگاہی لازم ہے۔

ایڈوکیٹ ضیا اعوان کا کہنا تھا کہ آجکل کے نوجوان نسل کو اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ وہ آپسی رضامندی سے جو عمل کرتے ہے اس کے نتیجے میں ایک معصوم جان وجود میں آتی ہے اور اگر اسے قتل کردیا جاتاہے تو وہ اس سے بھی بڑا گناہ ہے جو ناجائز کی بناء پر ہوتا ہے۔

ایڈووکیٹ ضیاء اعوان کے مطابق ایسے معاملات کو روکنے کے لیے عوام کو ان معصوم جانوں کی حفاظت کے لیے سب سے پہلے بیڑا ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی نے اٹھایا تھا اور معاشرے میں آگاہی دینے کے لئے اپنے ادارے کے باہر جھولے بھی لگائے جس کو دیکھ کر دیگر فلاحی اداروں نے اپنے طورپر اقدامات کیے تاہم اس سلسلے میں پولیس کے رویے اور نظام میں موجود خامیوں کے باعث ایسے واقعات پر کوئی کارروائی نہ ہونا بھی ایسے واقعات کو فروغ دیتا ہے۔

پولیس اہم کیسوں میں بھی ڈی این اے نہیں کرواتی تو ایسے لاوارث معصوم بچوں کے لئے ڈی این اے کیو ں کروائے اگر پولیس ایسے واقعات میں ڈی این اے کروائے تو اس سے بھی ثابت ہوسکتا ہے مگر اس کے لئے دوسرے ملکوں کی طرح ہمارے ملک میں بھی شہریوں کا ایسا میڈیکل ریکارڈ ہونا چاہیے جس سے یہ میچ کرکے معلوم کیا جاسکے کہ نوزائیدہ بچہ کس کا ہے ہمارے ملک میں ڈی این اے کا کوئی موثر سسٹم موجود نہیں ہے۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پولیس کا رویا دوستانہ نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہے اور اگر کوئی شہری پولیس کو نوزائیدہ بچے کی اطلاع دی تو پولیس اس شہری کو ذہنی ،جسمانی اورمالی معاملات میں پریشان کردیتی ہے جس کی وجہ سے شہری پولیس کو اطلاع دینے سے گھبراتا ہے۔

انھوں نے بتایاکہ نوزائیدہ بچوں کے معاملات پر حکومت کو موثر نظام بنانا چاہیے اس گناہ کو روکنے کے لئے سوشل میڈیا و دیگر وسائل کے ذریعے عوام میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے اس کام میں ملوث افراد اپنے ایک گناہ کو چھپانے کے لئے دوسرا بڑا گناہ نوزائیدہ بچوں کو قتل کرکے پھینک دیتے ہے انھوں نے کہا دنیا میں ایسے سے بہت سے لوگ ہے جو بے اولاد ہے وہ بچہ گود لینے کے لئے فلاحی اداروں وغیرہ میں تلاش کرتے ہیں، نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنے کے بجائے ان کو جھولے میں ڈال دیں تاکہ بے اولاد افراد انکی پروش کرسکے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔