ملک میں دماغی امراض کے شکار افراد کی تعداد 2 کروڑ ہو گئی، ماہرین طب

اسٹاف رپورٹر  اتوار 12 اگست 2018
سردرد ،رعشہ ،یادداشت، آدھے سر کا درد اور دیگر دماغی و اعصابی امراض کے علاج کے لیے ناکافی طبی سہولتیں میسر ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

سردرد ،رعشہ ،یادداشت، آدھے سر کا درد اور دیگر دماغی و اعصابی امراض کے علاج کے لیے ناکافی طبی سہولتیں میسر ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

کراچی: پاکستان میں گزشتہ 10 سال کے دوران دماغی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جب کہ اس وقت ملک میں 2کروڑ افراد دماغی امراض کا شکار ہیں۔

اعصابی امراض کے ماہرین نے نیورولوجی اویئر نیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے تحت جناح اسپتال میں منعقدہ دو روزہ ’’نیورولوجی ٹرانسفارمیشن ان پاکستان‘‘ کانفرنس سے خطاب کیا، نیورو لوجسٹ ڈاکٹر محمد واسع، نیورولوجی اویئر نیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے سیکریٹری ڈاکٹر عبد المالک، جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی، پروفیسر شوکت علی ڈاکٹر، سلیم بریچ، پروفیسر عالم ابراہیم صدیقی، ڈاکٹر ٹیپو سلطان، ڈاکٹر اقبال آفریدی، پروفیسر اختر شیریں، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی، ڈاکٹر فاروق راٹھور، ڈاکٹر سرور صدیقی اور دیگر نے کہا کہ صرف 6 اسپتالوں میں اسٹروک یونٹ قائم ہے، دماغی صحت ہر گزرتے دن کے ساتھ مسئلہ بنتا جارہا ہے، پاکستان میں 50لاکھ افراد ڈس ایبلٹی کا شکار ہیں، اس وقت پورے پاکستان میں 200 نیورولوجسٹ ہیں جو آبادی اور بیماریوں کی شرح کے حساب سے تشویشناک ہے تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ چند سالوں میں نیورو لوجی کے شعبے سے وابستہ افراد نے آگہی ،علاج اور اس شعبے کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے کہاکہ پاکستان کے بڑے شہروں میں تو اس حوالے سے بڑی سہولتیں موجود ہیں لیکن دیہی علاقوں میں یہ سہولتیں نہ ہونے کے برابرہیں جس کی وجہ سے امراض اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو باعث تشویش ہے۔

ماہرین اعصاب نے کہاکہ مرگی، سردرد، رعشہ، یاد داشت، آدھے سرکا درد اور دیگر دماغی و اعصابی امراض کے متعلق مناسب آگہی اور علاج نہ ہونے اس شعبے میں دستیاب طبی سہولتیں ناکافی ہیں جس کی وجہ حکومت اور پبلک سیکٹر کی عدم توجہ ہے جس کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ملک کے پسماندہ اور دیہی علاقوں میں اس حوالے سے امراض کی بحالی کے مراکز قائم ہونے چاہیں، اس کے علاوہ اس شعبے کو بہتر بنانے کے لیے نیورو لوجی کے شعبے میں مزید لوگوں کو ٹریننگ ورکشاپ کے ذریعے اس شعبے میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں پیشنٹ ویلفیئر کے حوالے سے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے جن میں مریضوں کے لیے آگاہی سیشن ،مفت دوائیں اور فری کلینکس کے ذریعے اس شعبے میں بہتری کے امکانات پیدا کر سکتا ہے،ماہرین اعصاب نے کہاکہ مرگی ،سردرد ،رعشہ ،یادداشت،آدھے سرکا درد اور دیگر دماغی و اعصابی امراض کے متعلق مناسب آگہی اور علاج نہ ہونے اس شعبے میں دستیاب سہولتیں ناکافی ہیں جس کی وجہ حکومت اور پبلک سیکٹر کی عدم توجہ ہے جس کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ملک کے پسماندہ اور دیہی علاقوں میں اس حوالے سے امراض کی بحالی کے مراکز قائم ہونے چاہیں، اس کے علاوہ اس شعبے کو بہتر بنانے کے لیے نیورو لوجی کے شعبے میں مزید لوگوں کو ٹریننگ اور ورکشاپ کے ذریعے اس شعبے میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

پیشنٹ ویلفیئر کے حوالے سے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے جن میں مریضوں کے لیے آگاہی سیشن ،مفت دوائیں اور فری کلینکس کے ذریعے اس شعبے میں بہتری کے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔