71واں یوم آزادی اور کھیلوں کی بربادی

میاں اصغر سلیمی  اتوار 12 اگست 2018
بہتری کیلئے عمران خان اسپورٹس حلقوں کی امیدوں کا مرکز۔ فوٹو: فائل

بہتری کیلئے عمران خان اسپورٹس حلقوں کی امیدوں کا مرکز۔ فوٹو: فائل

کہتے ہیں کہ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی، قوم پاکستان کا 71 واں یوم آزادی ٹھیک ایک دن بعد منائے گی۔

جشن آزادی کے ان سات عشروں میں پاکستان نے جہاں مختلف شعبوں میں دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا وہاں سپورٹس سے وابستہ شخصیات بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر ملک وقوم کی نیک نامی کی بات آئی تو ہاکی، کرکٹ، سکواش سمیت دوسرے کھیلوں سے وابستہ کھلاڑی پیش پیش رہے، بلکہ ایک وقت تو ایسا تھا کہ انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کی اصل پہچان ہمارے کھلاڑی بنے۔

14 اگست 1947ء کو پاکستان بنا تو ہمارے قومی پلیئرز نے آغاز ہی میں کھیلوں کے میدانوں میں اپنی برتری قائم کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب 1994ء میں پاکستان کو بیک وقت چار کھیلوں ہاکی، کرکٹ، سکواش اور سنوکر میں ورلڈچیمپئن بننے کا اعزاز حاصل ہو گیا۔

پاکستان میں کھیلوں کی تاریخ کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں نے محدود وسائل کے باوجود ایسے ایسے کارنامے سر انجام دیئے کہ دنیا دنگ رہ گئی، پاکستانی کھلاڑیوں کی عالمی مقابلوں میں شرکت ہی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی، ہاکی کے بارے میں تو دنیا یہ تک کہتی نظر آئی کہ اگر ہاکی سیکھنی ہے تو پاکستان جاؤ، قومی کھیل میں گرین شرٹس شرٹس نے کم و بیش50برس تک راج کیا۔

1948 ء میں پہلی مرتبہ علی سردار شاہ دارا کی قیا دت میں اولمپکس گیمز میں حصہ لینے والی پاکستان ہاکی ٹیم نے بین الاقوامی ہاکی میں اپنی آمد کے محض چار سال بعد 1952 ء میں پہلی مرتبہ ایشین گیمز میں سلور میڈل حاصل کر کے ایشیائی ہاکی پر اپنی حکمرانی قائم کی، پاکستان نے پہلی مرتبہ 1958ء میں ٹوکیو ایشین گیمز میں گولڈ میڈ ل جیتا، تین مرتبہ 1960ء کے روم اولمپکس، 1968ء کے میکسیکو اولمپکس اور 1984ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں چیمپئن بننے کا شرف حاصل ہوا جس وقت پاکستان نے جکارتہ ایشین گیمز 1962ء گولڈ میڈل جیتی تو پاکستان نے ہاکی کا گرینڈ سلام مکمل کر لیا اور پاکستانی ٹیم یہ اعزاز حاصل کرنے والی دنیا کی پہلی ہاکی ٹیم بن گئی۔

اسی طرح پاکستان کو بارسلونا میں 1971ء میں ہونے والے افتتاحی ورلڈکپ، 1978ء میں بیونس آئرس میں منعقدہ تیسرے ورلڈکپ، 1982ء میں ممبئی میں ہونے والے چوتھے ورلڈکپ اور 1994ء میں سڈنی میں شیڈول ساتویں ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹس جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے تاہم گزشتہ24 برسوں سے پاکستانی ٹیم نہ صرف عالمی میڈلز سے محروم ہے بلکہ گرین شرٹس کو تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ 2014ء اور اولمپکس2016ء میں شرکت سے بھی محروم ہونا پڑا، حال ہی میں ہالینڈ میں شیڈول ایف آئی ایچ چیمپئنز ٹرافی کے دوران گرین شرٹس چھ ملکوں کے ایونٹس میں آخری نمبر پر رہی۔

ہاکی کی طرح کرکٹ میں بھی پاکستانی کھلاڑی کسی سے پیچھے نہیں رہے ہیں اور پاکستان کو اب تک ون ڈے اور ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کے ساتھ چیمپئنز ٹرافی جیتنے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے، 1952ء میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیم کا درجہ ملنے کے بعد سے پاکستان کا شمار ہمیشہ سے ہی دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا رہا ہے۔ پاکستان ٹیسٹ کھیلنے والا دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ہر ملک کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیابیاں حاصل کیں۔1952ء میں بھارت کی سرزمین پر پاکستان نے اپنے پہلے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی تو اس وقت دنیا میں کسی کو یقین نہیںآتا تھا کہ ایک نو وارد کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی۔

پاکستان کرکٹ کو صحیح معنوں میں عروج 1970ء کی دہائی میں حاصل ہوا، 1970ء کی دہائی میں محدود اوورز کی کرکٹ کا آغاز ہوا تو پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ کی طرح یہاں بھی اپنی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھا، 1975ء میں کرکٹ کا پہلا ورلڈکپ انگلینڈ میں ہوا جہاں پاکستانی ٹیم آخری لمحات میں سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوئی۔ اس کے بعد 1979ء، 1983 اور 1987ء کے ورلڈکپ کرکٹ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں شکست کا شکار ہوئی۔

1987ء کے ورلڈکپ کے بعد پاکستانی ٹیم1992ء میں عمران خان کی قیادت میں آسٹریلیا پہنچی، پاکستان کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا، ابتدائی میچوں میں شکست کے بعد یوں لگ رہا تھا جیسے پاکستان اس مرتبہ بھی ورلڈکپ میں کامیابی حاصل نہ کر پائے مگر حالات نے کروٹ بدلی۔ ابتدائی میچوں میں شکست کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے ایسے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا کہ پاکستان کی کامیابیوں کا سلسلہ ورلڈکپ فائنل میں کامیابی پر رکا، 25 مارچ 1992ء کا دن پاکستان کرکٹ میں ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا، اس دن پاکستان کرکٹ ٹیم نے میلبورن کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں ورلڈکپ فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر عالمی چیمپین ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

2007ء میں کرکٹ میں ون ڈے کرکٹ سے بھی مختصر کرکٹ کا آغاز ہوا، اس کو ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کا نام دیا گیا، مختصر طرز کی کرکٹ کے پہلے ورلڈکپ میں پاکستان کو فائنل میں روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر 2سال بعد دوسرے ایونٹ میں پاکستان نے یونس خان کی قیادت میں کامیابی حاصل کر کے ٹوئنٹی20 میں بھی عالمی چیمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ سانحہ لبرٹی کے بعد اپنی ملکی سرزمین پر انٹرنیشنل کرکٹ کو ترسنے والی پاکستانی ٹیم نے مصباح الحق کی قیادت میں اگست 2016ء میں دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم کا اعزاز اپنے نام کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

بعد ازاں گرین شرٹس نے نوجوان کپتان سرفراز احمد کی قیادت میں انگلینڈ میں شیڈول آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل پہلی بار اپنے نام کر کے شائقین کو خوشیاں دیں۔

اسکواش کی بات کی جائے تو ہاشم خان سے لے کر جان شیر خان تک سب نے پاکستان کے لیے ان گنت اعزازات حاصل کئے۔پاکستان کو عالمی سکواش میں اصل عروج 1980ء کی دہائی کے اوائل میں ملا جب ہاشم خان کا نوجوان بیٹا جہانگیر خان بین الاقوامی سکواش کورٹ میں اترا۔ اس نوجوان نے برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کر کے دنیائے سکواش میں اپنی شاندار آمد کا اعلان کر دیا۔

جہانگیر خان مسلسل 5 سال تک ناقابل شکست رہے، اس دوران انہوں نے 584 میچوں میں کامیابی حاصل کی۔ جہانگیر خان نے اپنے کیریئر میں مسلسل 10مرتبہ برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ اور6مرتبہ ورلڈ اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتیں۔

جہانگیر کی عالمی سکواش سے ریٹائرمنٹ کے بعد دنیا میں سکواش کے حوالے سے پاکستان کا پرچم جان شیرخان نے بلند کیے رکھا اور وہ اعزازات جو پہلے جہانگیر خان جیتا کرتے تھے، اب جان شیر خان پاکستان لانے لگے۔ مگر 1997ء میں جان شیر خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کی سکواش پر حکمرانی ختم ہو گئی۔

اسنوکر ایک ایسا کھیل ہے، جس عام طور پر یورپین ملکوں میں زیادہ کھیلا اور پسند کیا جاتا ہے، 1994-95ء میں پاکستان کے ایک کھلاڑی محمد یوسف نے اس کھیل میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند کیا۔محمد یوسف نے سنوکر کی عالمی چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کی تو ساری دنیا حیرت زدہ ہو گئی۔ محمد یوسف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فیصل آباد کے محمد آصف نے بلغاریہ کے شہر صوفیہ میں شیڈول ورلڈ سنوکر چیمپئن شپ 2012ء جیت کرپاکستان کو دوسری بار عالمی چیمپئن بنا دیا۔

ٹینس میں پاکستانی کھلاڑیوں نے ومبلڈن تک رسائی حاصل کی جن میں ہارون رحیم اور اعصام الحق قریشی قابل ذکرہیں۔اعصام الحق وہ واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہیں 2010ء میں گرینڈ سلام کے ڈبلز مقابلوں کا اعزاز حاص ہوا، اس طرح پاکستانی باکسر محمد وسیم بھی عالمی سطح پر فتوحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دنیائے کھیل پر سالہا سال سے راج کرنے والے پاکستانی کھلاڑی بدقسمتی سے کچھ عشروں سے انٹرنیشنل سطح بالخصوص اولمپکس مقابلوں میں بڑی کامیابیاں سمیٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں، جس کی بہت ساری وجوہات میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کھیلوں سے منسلک عہدیداروں نے فتح کے نشے میں گزشتہ کئی عشروں سے خاطر خواہ حکمت عملی ترتیب نہیں دی۔

حکومتوں نے بھی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، پی سی بی، پی ایچ ایف، پی ایف ایف سمیت دوسری کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے اعلی عہدوں پر میرٹ کی بجائے من پسند کی بنا پر فیصلے کئے جس نے ملکی کھیلوں کی تنزلی کی رفتار تیز کردی، زیادہ تر کرکٹرز پر ہی نوازشات کی بارش کا سلسلہ جاری رہا، اس حکومتی دوہری پالیسی کی وجہ سے باصلاحیت کھلاڑی اپنے کھیلوں سے منہ موڑ رہے ہیں۔

کرکٹ ورلڈ کپ 1992ء کی فاتح ٹیم کے کپتان عمران خان کے ممکنہ وزیر اعظم بننے کے بعد یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ نہ صرف پی سی بی سمیت ملک بھر کی کھیلوں کی فیڈریشنوں اور تنظیموں میں سیاسی بنیادوں پر عہدے حاصل کرنے کی روایات کا ختم کریں گے بلکہ ملکی کھیلوں کو ان کا جائز اور اصل مقام واپس دلانے کے لئے بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں گے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔