اشرف کی برطرفی پہ حکومت نئے وزیراعظم کا تقرر کرے گی، اعتزازاحسن

عبد المنان  بدھ 15 اگست 2012
اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ نہ ہی سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو ہٹا سکتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ عدلیہ کو نکال سکتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ نہ ہی سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو ہٹا سکتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ عدلیہ کو نکال سکتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

لاھور: پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کواین آراو کیس میں برطرف کرتی ہے تو انکی پارٹی اس فیصلہ کو مانتے ہوئے نیا وزیراعظم کا تقرر کر ے گی۔

اپنی رہائش گاہ پہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن نے کہا “توہین عدالت کے معاملے میںوزیر اعظم کیلئے کسی رعایت کی گنجائش نہیں کیونکہ سپریم کورٹ اسی طرح وزیراعظم کو ہٹاتی رہے گی جیسے گیلانی کو ہٹایا تھا۔”

انھوں نے مزیدکہاکہ پی پی پی نے پارلیمنٹ کو اپنی مدت مارچ 2013 تک مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر کورٹ ہمارے چار چار وزیراعظموں کو بھی ہٹاتی ہے تو بھی پارلیمنٹ مزید وزیراعظموں کا تقررتب تک کرتی رہے گی،جب تک اپنی مدت پوری نہ کر لے۔ انھوں نے کہا کہ نہ ہی سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو ہٹا سکتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ عدلیہ کو نکال سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا”میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت کبھی بھی عدلیہ کی تضحیک کرنے کے ہتھکنڈے نہیں اپنائے گی۔”

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا عدلیہ سیاست کھیل رہی ہے تو اعتزاز نے جواب دیا کہ عدلیہ نہیں بلکہ کچھ سیاسی عناصر عدلیہ کو اپنے نا پاک عزائم کے حصول کیئے استعمال کر رہے ہیں۔ انھون نے کہا این آراو کیس میں عدلیہ غلط راستے پہ چل رہی ہے۔

احسن نے آرٹیکل 248 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین وزیراعظم کو صدر کےخلاف کاروائی کرنے سے روکتا ہے مگر عدلیہ آئین کا احترام کرنے کے بجائے وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے مشن پہ ڈٹی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا سپریم کورٹ کو صرف سیاسی کیسس سننے کے بجائے دوسرے مسائل پر بھی دھیان دینا چاہئیے۔ انھوں نے سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ ہر معاملہ میں عدالت عظمیٰ کا دروازہ نہ کھٹکھٹائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔