نئی حکومت اور عوامی توقعات…

کامیاب ریاست وہ ہے جہاں جان و مال کی حفاظت میں کوئی رکاوٹ پیش نہ ہو۔ ایک ایسا معاشرہ جو آزادی خود مختاری۔۔۔

کامیاب ریاست وہ ہے جہاں جان و مال کی حفاظت میں کوئی رکاوٹ پیش نہ ہو۔ ایک ایسا معاشرہ جو آزادی خود مختاری پر مشتمل ہو جس میں کوئی فریادی نہ ہو، کوئی مظلوم دور تک نہ دکھائی دے، جہاں حکمرانوں کی یلغار اقتدار کی ہوس میں مبتلا نہ ہو۔ جہاں ایک قائد ہو، جہاں کی عوام ملک میں موجود امن کی بدولت ایک عظیم المرتبہ قوم کو کہلائے۔

دہشت گردی اور دفاعی امور کا تذکرہ کرتے ہوئے امریکا کے ان ڈرون طیاروں کا خیال آتا ہے جو امریکا کی حکومت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں استعمال کرتی ہے، اس سے عام آدمی کا بہت نقصان ہوتا ہے۔ القاعدہ کے تعاقب میں ڈرون حملوں کا ریموٹ کنٹرول امریکی سی آئی اے کے ہاتھ میں ہے، امید یہ ہی ہے کہ ہماری نئی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ یہ معاملہ امریکا سے اٹھائیں گے تا کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ ختم ہو اس کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ پاکستانی ریاستی عہدیدار پاکستانی سرزمین پر اپنے کنٹرول کو موثر کریں تا کہ امریکا کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگائے، ڈرون حملے غیر انسانی ہیں اور عام شہریوں کے لیے بہت خطرناک بھی، اگر نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی امریکی جارحیت جاری رہی اور ڈرون حملوں کا عمل جاری رہا تو اس سے عوام میں مایوسی بڑھے گی اور حکومت کو بھی گزشتہ حکومت کی طرح عوام کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لہٰذا امید یہی ہے کہ ہماری نئی حکومت اس معاملے کو طے کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ایسا ہونے سے پاکستان اور امریکا تعلقات بھی بہتر ہو جائیں گے۔ مستقبل قریب میں امریکا افغانستان سے اپنی فوجوں کو واپس لے جانا شروع کرے گا، نواز شریف جانتے ہیں کہ امریکا کو محفوظ انخلاء کی حکمت عملی کے لیے پاکستان کی ضرورت ہو گی اور اس سلسلے میں نئی حکومت کے متوقع وزیر اعظم میاں نواز شریف نے غیر ملکی اخبار نویسوں سے خصوصی بات چیت بھی کی ہے جس میں انھوں نے آیندہ برس امریکی فوجوں کی واپسی کے بارے میں یقین دلایا کہ پاکستان فوجوں کی واپسی میں مکمل مدد فراہم کرے گا۔

یہ بات نہایت خوش آیند ہے کہ پاکستان تمام خدشات کے باوجود انتخابات کے مرحلے سے بخیر و عافیت گزر چکا ہے، پاک فوج نے 2013 کے حالیہ انتخابات میں اہم قومی کردار ادا کیا اور انتخابات کے سلسلے میں سکیورٹی کے معاملات کو فوج نے بخوبی سرانجام دیا، انھوں نے یہ کام سویلین حکومت کے کہنے پر قومی خدمت کے طور پر کیا۔ یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ان انتخابات سے پیدا شدہ حکومتیں اپنی ذمے داریاں موثر طریقے سے سرانجام دیں تا کہ سول ملٹری کے تعلقات اچھے طریقے سے چلتے رہیں۔ جس سے ملکی سیاست میں تسلسل اور استحکام کو پھلنے پھولنے کا موقع مل سکے۔


دیکھا جائے تو پاکستان کے سیاسی نظام میں فوج ایک بڑی قوت بن کر ابھری ہے جس کی دو بڑی وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ فوج مختلف ادوار میں براہ راست حکومت کرتی رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہمارے سیاستدانوں نے جب ایک مستحکم سیاسی نظام قائم نہ کیا اور اقتصادی معاملات کو موثر طریقے سے نہیں چلایا تو فوج اس طرح پاکستان کی سیاست میں ایک قوت بن کر ابھری۔ البتہ فوج ایک فوجی ادارے کی حیثیت سے سویلین تعاون کی متمنی ہوتی ہے اور خصوصاً دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اسے عوامی اور سول حکومت کا تعاون درکار ہوتا ہے۔ سول حکومت اور فوج میں تعلق باہمی دار و مدار ہے، دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ جمہوری ممالک میں دفاعی امور اور خارجہ پالیسیز سے متعلق فوجی قیادت سے بھی ماہرانہ رائے لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ بیرونی دفاعی معاملات اور اندرونی طور پر انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج کے بھرپور کردار کی ضرورت ہوتی ہے اور دوسری جانب فوج کو سویلین تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اہم دفاعی امور اور سول فوجی حکام باہمی مشورے سے طے کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی حکومت بھی یکطرفہ کارروائی کرنے کے بجائے اداروں کے ساتھ باہمی مشورے اور تعاون کے ساتھ چلے تا کہ وہ ایک موثر انتظامیہ بن سکے اور اپنی قوت کو ریاستی اداروں کی جنگ میں صرف نہ کرے۔

اس وقت ملک میں نئی حکومت کے سامنے ڈرون حملوں کے ساتھ، دہشت گردی، لوڈشیڈنگ، معاشی و اقتصادی جیسے گمبھیر مسائل کی ایک طویل قطار ہے جنھیں حل کیے بغیر نئی حکومت کا آگے کی جانب بڑھنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ لہٰذا نواز لیگ کو یہ جان کر آگے بڑھنا ہو گا کہ انھیں اپنی گزشتہ دو حکمرانیوں کی نہیں بلکہ بحرانوں کی سرزمین کی حکمرانی ملی ہے۔

نئی حکومت کے لیے امن و امان سمیت معاشی اعتبار سے بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بدامنی کا تذکرہ کیا جائے تو اس میں جہاں موجودہ بدامنی کو فوجی آمر کی احمقانہ پالیسیوں کا شاخسانہ سمجھا جاتا ہے، وہاں پر گزشتہ حکومت کی کچھ غیر ذمے دارانہ پالیسیوں کا بھی عمل دخل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی اور کوئٹہ میں روز مرہ کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے پاکستان کی معیشت کے ساتھ دیگر معاملات میں پاکستان کے وقار کو بری طرح مجروح کیا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ انتخابات میں دہشت گردی کے باوجود بلوچستان سمیت قبائلی علاقوں اور کراچی میں عوام نے بھرپور طریقے سے انتخابات میں حصہ لیا، جو کہ نئی حکومت کے لیے بھی ایک امید افزا پیغام امن ہے۔

اداروں سے باہمی روابط کو استوار کرنے کے ساتھ نئی حکومت اگر معیشت، توانائی اور امن و امان بحال کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان کے تمام اہم مسائل پر قابو پانا آسان ہو جائے گا، کیونکہ پاکستان کی عوام نے دہشت گردی، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ کے خلاف اپنا ووٹ دیا ہے۔ میاں نواز شریف نے جہاں اپنے بیان میں فوج کو ساتھ لے کر چلنے کا پیغام دیا ہے، وہاں انھوں نے اس بات پر بھی بہت زیادہ زور دیا ہے استحکام معیشت ان کی پہلی ترجیح ہو گی۔ امید افزا بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کی نئی حکومت کو ترکی، امریکا، سعودی عرب اور چین کی جانب سے پاکستانی معیشت کی مضبوطی کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جس کا حکومت کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

جب کہ نواز شریف کی جانب سے منموہن سنگھ کو حلف برداری کے موقعے پر دعوت دینا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ نواز شریف دیگر ممالک کے ساتھ بھارت سے بھی اسی طرح کے تعلقات رواں رکھنا چاہتے ہیں جنھیں وہ 1999میں چھوڑ گئے تھے، علاوہ ازیں گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا تھا جس کی ادائیگی اب پاکستان بتدریج ادا کر رہا ہے، اس ماہ کے اختتام پر پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک قسط واپس کرنی ہے، نئی حکومت کے چیلنجز میں یہ بات بہت اہم ہے کہ عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے وسائل کے ساتھ ملک پر بھاری ادائیگیوں کا بوجھ بھی ہے کیونکہ آئی ایم ایف سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو بھی قرض کی اقساط ادا کرنی ہیں اور اس سارے معاملے کی سمجھ بوجھ شاید ایک عام شہری کو نہ ہو مگر انتخابی عمل میں مسلم لیگ نے اپنے منشور میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے جو شقیں پیش کیں ان تمام جلسوں اور تقریروں کی گونج ابھی تک باقی ہے۔
Load Next Story