فلسفۂ قربانی ...

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  منگل 21 اگست 2018
جان و مال نہیں اللہ کے پاس قربانی کرنے والے کا تقویٰ پہنچتا ہے!۔ فوٹو: ایکسپریس

جان و مال نہیں اللہ کے پاس قربانی کرنے والے کا تقویٰ پہنچتا ہے!۔ فوٹو: ایکسپریس

عید الاضحی کی آمد آمد ہے۔ مسلمان ہرسال 10ذوالحجہ کو انتہائی عقیدت و احترام، محبت، خوشی و مسرت، ذوق و شوق، جوش و خروش اور جذبہ ایثار و قربانی کے ساتھ عید الاضحی مناتے ہیں اور اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔

’’فلسفہ قربانی ‘‘ کے حوالے سے گزشتہ دنوں ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں مرکزی امیر عالمی اتحاد اہلسنّت والجماعت مولانا محمد الیاس گھمن سے خصوصی گفتگو کی گئی جو نذر قارئین ہے۔

ایکسپریس: فلسفہ قربانی کیا ہے؟

مولانا الیاس گھمن: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے پاس نہ قربانی کے جانور کا خون پہنچتا ہے اور نہ ہی گوشت لیکن تقویٰ پہنچتا ہے۔قرآن کریم میں فلسفہ قربانی کو لفظ ’’ تقویٰ‘‘ سے تعبیر کیا گیا۔ اس پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ یوں تو ہر عبادت میں مقصود ہے لیکن قربانی میں بطور خاص اس کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خود کو مکمل طور پر اس طرح اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیناکہ زندگی کا ہر لمحہ اس کے حکم کے مطابق گزرے اور اس میں نفسانی خواہشات ،اولاد ، برادری یا معاشرتی رسم و رواج حائل نہ ہوں۔اس کا درس ہمیں سنت ابراہیمی ؑ میں ملتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم کی تعمیل میں اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے ایک کھلے میدان میں لے آئے ۔ یہ وہ لخت جگر ہے جسے آپؑ نے بڑھاپے میں رو رو کر اللہ سے مانگا تھا لیکن اللہ کو راضی کرنے کے لیے اُنہی کی نرم و نازک گردن پر چھری چلانے بیٹھ گئے۔ دراصل یہی قربانی کی حقیقت اور روح ہے۔ اسی بات کا سبق قرآن کریم میں اس طرح ملتا ہے:’’میری نماز، میری قربانی، میرا جینا ، میرا مرنا سب اللہ کی رضا مندی کیلئے ہے جو تمام جہانوں کاپالنے والا ہے‘‘۔(سورۃ الانعام آیت نمبر 162)

ایکسپریس: کیا قربانی صرف اس امت پر ہی واجب ہے ؟

مولانا الیاس گھمن: عبادات میں قربانی کی بہت زیادہ اہمیت ہے یہی وجہ ہے کہ ہرمذہب وملت کا اس پرعمل رہا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:ہم نے ہر امت کیلئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمائے۔(سورۃ الحج آیت نمبر 34)

ایکسپریس: قربانی سنت ابراہیمی ؑہے۔ اس حوالے سے قرآن میں کیا فرمایا گیا ہے؟

مولانا الیاس گھمن: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جذبہ قربانی میں جامعیت اور معنویت ہے۔ قرآنی واقعات میں اصلاح معاشرہ اور اصلاح فرد شامل ہے۔ اس تناظر میں اگر قرآن کریم کو پڑھ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ہمیں ایک واقعے کے ذریعے بہت خوبصورت انداز میں جذبہ قربانی پر ابھار رہا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے مابین جو گفتگو ہوئی ہے، اسے ملاحظہ فرمائیں :

حضرت ابراہیم علیہ السلام: اے میرے پیارے بیٹے!میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں، اس بارے تیرا کیا خیال ہے؟

حضرت اسماعیل علیہ السلام:اے میرے والد محترم!جس کام کا آپ کو حکم دیا گیا ہے وہ کر گزرئیے۔ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات پر غور کیجیے آپ نے جو طرز اپنایا، وہ بہت اہم ہے۔بیٹے کو ذبح کرنا تھا لیکن وہ انداز نہیں اپنایا جس سے خوف و ہراس ٹپکتا ہو بلکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذہنی ، فکری اور قلبی طور پر تیار کیا تاکہ جب حکم خداوندی پر عمل کیا جائے تو اس میں میرے بیٹے کی مجبوری اور لاچاری کو دخل نہ ہو بلکہ تسلیم ورضا شامل حال ہو جو کہ مقصود ہے۔  اب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جواب پر غور کیجیے آپ نے جو طرز اپنایا ہے اس میں اپنی ذات کو دخل دینے کے بجائے اللہ کی ذات پر بھروسہ کا درس ملتا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام چونکہ اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے اس لیے اس خواب کو اللہ کا حکم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ میں اس پر دل و جان سے راضی ہوں یہاں تک کہ ذبح ہونے کو بھی تیار ہوں۔ یہ کام اعصاب شکن ، مشکل اور بہت صبر آزما تھا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صدق نیت کے ساتھ اس پر عمل کر کے دکھایا تو اللہ رب العزت نے بچے کے عوض ایک دنبہ وہاں بھیج دیا اور فرمایا کہ آپ امتحان میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد یہ عمل شریعت میں اس قدر پسندیدہ اور مقبول ہوا کہ اسے ’’سنت ابراہیمی ؑ‘‘ کے مبارک الفاظ سے یاد کیا جانے لگا۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اخلاص کی ایسی مضبوط دلیل ہے جو تا قیامت قائم رہے گی۔

ایکسپریس: قربانی کی فضیلت کیا ہے؟

مولانا الیاس گھمن: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: یارسول اللہﷺ! یہ قربانی کیا ہے؟ (یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت (اور طریقہ) ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمیں قربانی کرنے سے کیا ملے گا؟ فرمایا ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے (پھر سوال کیا) یارسول اللہﷺ! اون (کے بدلے میں کیا ملے گا) فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی۔(سنن ابن ماجہ، باب ثواب الاضحیہ، حدیث نمبر 3127)

قربانی کرنا اللہ کا اتنا پسندیدہ اور محبوب عمل ہے کہ قیامت کے دن اس کی ایک ایک چیز میزان عمل میں تولی جائے گی اور بقدر اخلاص اس کا ثواب دیا جائے گا چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قربانی کیا کرو اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو پاک کیا کرو اس لیے کہ جب مسلمان اپنی قربانی کا رخ (ذبح کرتے وقت) قبلہ کی طرف کرتا ہے تو اس کا خون، گوبر اور اون قیامت کے دن میزان میں نیکیوں کی شکل میں حاضر کیے جائیں گے۔(مصنف عبد الرزاق، باب فضل الضحایا و الھدی)

ایکسپریس:آخری نبی حضرت محمدﷺ کی اسوہ سے قربانی کا کوئی واقعہ بیان فرمائیں؟

مولانا الیاس گھمن: قربانی کرنا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں اتنا بڑا عمل ہے کہ آپؐ نے امت کے غریب طبقے کی دل جوئی کے لیے جو اپنی غربت کی وجہ سے اس قابل نہیں کہ قربانی اس پر واجب ہو سکے لیکن اس کے دل میں خواہش ہو کہ میں بھی اللہ کے نام پر قربانی کروں‘ خود قربانی فرمائی۔ چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ عید الاضحی کی نماز پڑھی، جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا۔ آپؐ نے اسے ذبح کرتے ہوئے فرمایا: بسم اللہ واللہ اکبر۔ اے اللہ! یہ قربانی میری طرف سے اور میری امت میں سے اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔

اس لیے وہ صاحب حیثیت لوگ جنہیں اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ ایک سے زائد قربانی کریں ، اگرچہ واجب ایک ہی ہوتی ہے لیکن اپنے بزرگوں کی طرف سے اور بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کریں۔

ایکسپریس: مولانا ! یہ رائے بھی سننے میں آرہی ہے کہ قربانی کے جانور کی قیمت کے برابر پیسے رفاحی کام پر خرچ کردیے جائیں، اس حوالے سے قرآن و سنت میں کیا احکامات ہیں؟

مولانا الیاس گھمن: افسوس صد افسوس کہ ہم عقل پرستوں کی اس دنیا میں بستے ہیں جہاں عشق، ایثار ، قربانی اور محبت کو بھی نظری فلسفے کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بہت سے وہ لوگ جن کے دل میں اسلامی احکامات کی قدر نہیں یا قدر تو ہے لیکن سمجھ نہیں، وہ یوں کہتے ہیں کہ اس سے بہتر ہے کہ آدمی کسی رفاحی کام پر ان پیسوں کو خرچ کر لے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبؐ کو رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ قربانی کرنے سے بہتر ہے کہ کسی رفاحی اور سماجی کام میں اس رقم کو خرچ کر لوبلکہ مدینہ منورہ میں دس سال تک مسلسل اس حکم خداوندی پر خود بھی عمل پیرا رہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا (اس قیام کے دوران) آپؐ قربانی کرتے رہے۔ (جامع الترمذی، ابواب الاضاحی، حدیث نمبر 1427)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیم وسلم نے فرمایا:جو آدمی قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، اس کے باوجود پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔(سنن ابن ماجہ)

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: عید الاضحی کے دن کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نز دیک قربانی کا خون بہانے سے محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں، سینگوں اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے لہٰذا تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔ (جا مع الترمذی با ب ما جاء فی فضل الاضحیہ،حدیث نمبر 1413)

اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالی کے ہاں کسی خرچ کی فضیلت اس خرچ سے ہرگز زیادہ نہیں جو بقرعید والے دن قربانی پر کیا جائے۔(سنن الدارقطنی ،با ب الصید والذبائح ، حدیث نمبر 4815)

قربانی والے عمل کا حکم دے کر شریعت یہ ہرگز نہیں کہتی کہ رفاحِ عامہ کے مفید کاموں کو نہ کیا جائے۔ انسانیت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات موجود ہیں۔ اس کے لیے زکوٰۃ، عشر ،صدقات وغیرہ کا مستقل  نظام ہے جس کے تحت انسانیت کی فلاح وبہبود ، غریب ومساکین اور ناداروں پر خرچ کیا جاتا ہے ۔ اس لیے شریعت یہ کہتی ہے کہ 10 ذوالحجہ سے لے کر 12 ذوالحجہ کی شام تک جس شخص پر قربانی کرنا واجب ہے، اس کے لیے قربانی چھوڑ کر اس رقم کا صدقہ کرنا جائز نہیں ہے۔ ہاں! جس شخص پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے، اس کے لیے ان دنوں میں یا صاحب ِ نصاب لوگوں کے ان دنوں میں قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ یا سال کے دیگر ایام میں مالی صدقہ کرنا یقینا بہت زیادہ ثواب کی چیز ہے۔

ایکسپریس: قربانی کے معاشی فوائد پر آپ اکثر بیان فرماتے ہیں، قارئین کے لیے اس کاتفصیلی جائزہ پیش کریں۔

مولانا الیاس گھمن:کچھ عرصہ سے یہ غلط نظریہ پھیلایا جا رہاہے کہ ہر سال ہزاروں لاکھوں جانور ذبح کر دیے جاتے ہیں، اس سے معیشت بہت متاثر ہوتی ہے اوربہت سے جانور ایک دن میںہی ختم ہوجاتے ہیں جن کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قربانی والے عمل سے معیشت گرنے کے بجائے مزید مضبوط و مستحکم ہوتی ہے کیونکہ اس کے مختلف مراحل ہیں جو معاشی سطح پر فائدہ مند ہیں جیسا کہ جانور پالنا جس میں لاکھوں انسان سال بھر مصروف رہ کر اپنا روزگار کماتے ہیں۔ اسی طرح چارہ بیچنے کا کاروبار بھی انتہائی نفع بخش ہے جس کا فائدہ زمیندار کو بھی فائدہ ہے اور دکاندار کو بھی۔ جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے ملازم رکھنا کہ غریب اور متوسط طبقے کے ہزاروں افراد اس ذریعے سے مالی فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ میں دودھ کا نظام کہ ڈیری فارم، دودھ خریدنے اور بیچنے والی کمپنیاں اسی طرح مستقل طور پر ہوٹلوں اور گھروں کی ضرورت کا پورا ہونا۔ مزید غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ قربانی کے ایام میں ان کی منڈی میں منتقلی کے لیے ٹرانسپورٹ کا وسیع نظام کہ جس میں ٹرانسپورٹرز سے لے کر منڈی کے منشی تک فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح ان دنوں میں جانور بیچنے کے نتیجے میں مالی منافع کا بڑھنا اور قصابوں کی اجرت بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ کھال دینے میں ضرورت مندوں بالخصوص مدارس دینیہ کی مالی امداد، غرباء، مساکین اور رفاحی و سماجی اداروں میں گوشت کی فراہمی کو یقینی بنانا۔ باقی قربانی کی کھالوں کا وسیع نظام جس کی بدولت چمڑے کی فیکٹریاں اور کارخانے ترقی کرتے ہیں اور گرم لباس ، کوٹ ، خیمے ، جیکٹس ، بیگ و دیگراشیاء کی بناوٹ جو چمڑے اور کھال کے بل بوتے ہی کارآمد ہوتے ہیں۔ اب غور کیا جائے کہ جب اس میں اس قدر منافع، روزگار اور ضروریات کا پورا ہونا پایا جاتاہے تو اس میں معیشت کی تباہی ہے یا اس کا عروج؟ اور بالفرض یہ سب کچھ نہ بھی ہوتو کیا  فقط اتنا ہمارے لیے کافی نہیں کہ اس سے اللہ راضی ہو جائے اور ہمارے دلوں میں جذبہ قربانی پیدا ہو۔

ایکسپریس: قربانی کے اہم مسائل پر روشنی ڈالیں۔

مولانا الیاس گھمن: قربانی کے چند اہم مسائل میں نصاب، جانورکی قسم، اس کی عمر، اس کے اعضاء، شرکاء کی تعداد و دیگر شامل ہیں۔

(1        نصاب اور صاحب نصاب:

قربانی کرنا ہر صاحب نصاب پر واجب ہے۔جس کی تفصیل یہ ہے : جن جن چیزوں پر صدقتہ الفطر واجب ہوتا ہے انہی پر قربانی واجب ہوتی ہے لہٰذا جس مرد یا عورت کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا نقدی مال یا تجارت کا سامان یا ضرورت سے زائد سامان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچوں چیزوں یا بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ایسے مردوعورت پر قربانی کرنا واجب ہے۔

2)        جانور:

قربانی کے لیے بھیڑ، بکری، گائے، بھینس، اونٹ(نر، مادہ) ذبح کیے جا سکتے ہیں جبکہ بھینس باجماع امت گائے کی قسم ہے لہٰذا اس کی قربانی بھی کی جا سکتی ہے۔

3)        ناجائز اعضاء :

قربانی کے جانور کے یہ سات اعضاء کھانا جائز نہیں: خون، مادہ جانور کی شرمگاہ، خصیتین، غدود، نر جانور کی پیشاب گاہ، مثانہ اور پّتہ۔

4)        جانور کی عمر:

قربانی کے جانوروں میں بھیڑ ، بکری ایک سال کی ، گائے بھینس دو سال کی اور اونٹ پانچ سال کا ہو۔

5)        حصہ داروں کی تعداد:

قربانی کا جانور اگر اونٹ، گائے یا بھینس ہو تو اس میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔اگر جانور بکری یا بھیڑ ہو تو وہ صرف ایک آدمی کی طرف سے کفایت کرتی ہے۔

6)        ایام قربانی:

قربانی کے تین دن ہیں 10،11،12 ذوالحجہ۔

ایکسپریس:قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہیے اور خریداری میں کن باتوں کا خیال رکھا جائے؟

مولانا الیاس گھمن: قربانی چونکہ اللہ کی راہ میں بہترین چیز قربان کرنے کا نام ہے لہٰذا قربانی کا جانور عیوب سے پاک ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے چند اہم نکات ہیں جن کا معلوم ہونا ضروری ہے۔

1)        خصی جانور کی قربانی کرنا جائز بلکہ افضل ہے۔

2)        اگر جانور کے اکثر دانٹ ٹوٹے ہوئے ہوں کہ چارہ بھی نہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، ہاں اگر چارہ کا سکتا ہو تو قربانی جائز ہے۔

3)        جس جانور کے پیدائشی طور پر ایک یا دو کان نہ ہوں یا کان کا تیسرا حصہ یا اس سے زائد حصہ کٹا یا چیرا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ، ہاں اگر تیسرے سے کم کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔

4)جانور کی دم اگر تہائی سے کم کٹی ہوئی ہو تو قربانی جائز ہے اگر تہائی یا اس سے زائدکٹی ہوئی ہو تو قربانی جائز نہیں ہے۔

5)        گائے یا بھینس وغیرہ کا ایک تھن خراب اور باقی تین ٹھیک ہوں تو قربانی جائز ہے اور اگر دو تھن خراب ہوں تو قربانی جائز نہیں۔ اسی طرح بکری وغیرہ کا ایک تھن خراب ہو تو قربانی جائز نہیں۔ جانور اگر اندھا ہو یا کانا ہو یا ایک آنکھ کی تہائی یا اس سے زائد روشنی نہ ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہاں اگر روشنی تہائی سے کم رہ جاتی ہے تو قربانی جائز ہے۔

6)        قصاب اور ذبح کرنے والے کیلئے ضروری ہے کہ مسلمان ہو لہٰذا غیر مسلم کا ذبیحہ حرام ہے۔

7)        اگر کوئی آدمی عقیقہ کی نیت سے قربانی کے جانور میں اپنا حصہ رکھ لے تو یہ جائز ہے۔

ایکسپریس:یورپ میں گستاخانہ خاکوں کے شرمناک اقدام کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

مولانا الیاس گھمن: گستاخانہ خانے ٹیسٹ کیس ہیں، ہر چھ ماہ بعد خاکے بنانے کا مقصد دنیا بھر میں خصوصاً مغرب میں بسنے والے جذباتی مسلمانوں کا پتہ چلانا ہے تاکہ ان کے خلاف کارروائی ہوسکے۔ مسلمان ممالک کے سربراہان کو اس حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے اور دنیا کو پیغام دینا چاہیے کہ ہم اس پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، ایسے اقدام سے باز رہیں۔

ایکسپریس: آپ کی ملکی سیاست پر بھی گہری نظر ہے۔ حالیہ انتخابات میں مذہبی جماعتوں کی شکست کی وجوہات کیا ہیں؟

مولانا الیاس گھمن: ہمارا المیہ ہے کہ 5 سال مذہبی جماعتوں کے آپس میں اختلافات رہے، ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک نہیں ہوئے لیکن الیکشن کے قریب انہوں نے اتحاد بنا لیا جسے عوام نے مسترد کردیا۔ عالمی سطح پر بھی مسلمان اندرونی اختلافات کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں لہٰذا سب کو اندرونی اختلافات بھلا کر متحد ہونا ہوگا تاکہ اسلام کی خدمت ہوسکے۔

ایکسپریس: ملکی امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

مولانا الیاس گھمن: ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوچکا ہے، فرقہ واریت بھی اب نہیں ہے اور ہم پر امن ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں جس کا کریڈٹ ملکی سلامتی کے اداروں کو جاتا ہے جنہوں نے نہ صرف دہشت گردوں کا خاتمہ کیا بلکہ ملک مخالف قوتوں کو بھی شکست دی۔ سابق آرمی چیف نے بہترین کام کیا، موجودہ آرمی چیف بھی معاملات بہتر طریقے سے آگے لے کر چل رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ عوام افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ افسوس ہے کہ عالمی سازشوں کے تحت اداروں کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں مگر ہم عوامی اعتماد بحال کرنے کا کام کررہے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔