جناب نواز شریف! خزانہ خالی نہیں

اسلم خان  بدھ 22 مئ 2013
budha.goraya@yahoo.com

[email protected]

نئے پاکستان میں جمہوریت کے نئے خدوخال نمایاں ہورہے ہیں اب منتخب حکمرانوں کا احتساب 5سال بعد نہیں روزانہ ہوا کرے گا۔سال کے 365دن ،حکمرانوں کو عوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا رہنا ہوگا کیونکہ انھیں منتخب کرنے والے آٹھ کروڑ  نوجوانوں کی عمریں 30 سال سے کم ہیں ۔ جوانی دیوانی ہوتی ہے جس میں صبرو تحمل کا کیا کام…جناب نواز شریف آپ کو مسائل کے کوہ گراں کے ساتھ ساتھ ان کروڑوں دیوانوں کے لیے مثبت سرگرمیاں اور مشغولیت کے ذرایع پیدا کرنے ہوں گے اور یہ سب کچھ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں رہتے ہوئے فرسودہ بیوروکریسی سے کام لیتے ہوئے کرنا ہوگا کہ آپ جمہوری ارتقاء کے ذریعے خدمت کے لیے تشریف لائے ہیں ۔

خزانہ خالی ہے تو کیا ہوا اسے ہم سب نے ہی مل کر بھرنا ہے ۔ساری پاکستانی قوم آپ کی آواز پر لبیک کہنے کو تیار بیٹھی ہے لیکن آپ کو یقین دلانا ہوگا کہ تیسری بار وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے سے پہلے دُنیا کے چاروں براعظموں میں بکھرا ہوا اپنا کل سرمایہ، پیسہ پائی پاکستان واپس لارہے ہیں۔ دوست ملکوں سے قرض کی بھیک مانگنے کے بجائے اپنے خاندان سے ابتداء کیجیے‘ پھر دیکھئے قوم آپ کی ایک پکار پر زرمبادلہ کے ڈھیر لگا دے گی لیکن پہلا قدم جناب نواز شریف آپ کو اُٹھانا ہوگا ۔ سب سے پہلے قربانی خود دینا ہوگی کہ آقا ومولا،رسالت مآب کی سنت یہی ہے کہ آپ کو یاد ہوگا کہ غزوہ خندق کے موقع پر جب ایک صحابی نے بھوک کی شکایت کرتے ہوئے اپنے پیٹ پر بندھا ہوا پتھردکھایا تو میرے آقا و مولانے جب اپنا کپڑاہٹایا توآپ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے ۔آقائے کائنات  کی پیروی ہمارے لیے جزو ایمان ہے ۔ قوم سے قربانی مانگنے سے پہلے خود قربانی دینے کا اعلان کریں قوم اپنا سب کچھ نچھاور کردے گی۔

جناب نواز شریف تیسری باری وزیراعظم بننا یقینا بہت بڑا اعزاز ہے لیکن یہ بھی آپ کو پیش نظر رکھنا ہوگا کہ گذشتہ پانچ سال کی ستم گری نے اس بدنصیب قوم کے مضبوط اعصاب کو شکستہ کردیا ہے اور لوڈ شیڈنگ اس پر طرفہ تماشا ہے اس لیے آپ کو ہنگامی بنیادوں پر مسائل کا حل تلاش کرنا ہے کہ آپ کے چاہنے والوں میں دو تہائی 30سال سے بھی کم عمر نوجوان ہیں، ان کروڑوں بے روز گار نوجوانوں کے ہجوم میں ہر سال 30لاکھ کا اضافہ ہورہا ہے جن کے لیے روٹی روزی کا معقول بندوبست کرنے کی ہمارے سرکاری اور غیر سرکاری ڈھانچے میں سکت نہیں ہے ۔ 11مئی کو رات گئے اپنی فتح پر جس طرح عاجزی وانکساری سے آپ نے قوم سے خطاب کیا اور بعد ازاں تمام تر بہکاوؤں کے باوجود خیبر پی کے میں جوڑ توڑ کی سیاست کرنے سے انکار کردیا اس سے مایوسی کے اتھاہ اندھیروں میں روشنی کی کرن دکھائی دی ہے ۔

جناب والا!اس بار ملنے والا اقتدار حقیقی معنوں میں پھولوں کی مالا نہیں کانٹوں کا ہار ہے ۔قدرت نے آپ کو آخری موقع دیا ہے کہ آپ اس درماندہ قوم کے زخموں پر مرہم رکھیں یا پھر روایتی انداز حکمرانی اپناتے ہوئے پیارے پاکستان کو مسائل و مصائب کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیں۔ خدا کے لیے ایوانوں میں نمبرگیم کھیلنے کے بجائے وسیع تر قومی مفاد میں حقیقی قومی حکومت تشکیل دیں اور جناب عمران خان کو بھی قومی تعمیروترقی کے عمل میں شامل کریں کہ اُن کی ایک اپیل پر بیرون ملک سے اربوں ڈالر فوری طور پر پاکستان آسکتے ہیں ۔ خداکے لیے خیبرپی کے میں اُن کی ناکامی کا تماشا دیکھنے کا انتظار نہ کریں کہ بیمارذہنیت رکھنے والے بعض دانشور اور سیاستدان ابھی سے خیبر پی کے میں تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کی متوقع ناکامی پر بغلیں بجانے کی تیاری کرنا شروع ہوگئے ہیں ۔’’مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیںڈسا جاتا‘‘میرے آقا و مولا نے ہمیشہ کے لیے رہنما اُصول مرتب فرما دیا ہے اس لیے مولانا سمیع الحق ہوں یا مولانا فضل الرحمن…ان سے جتنا دور رہیں گے اچھا ہوگا۔ حقیقی طالبان سے مذاکرات کے لیے معتبر ذرایع اور ضامنوں کا آپ کو بخوبی علم ہے ۔

اس موقع پر میں آپ کو یاد دلانا چاہوں گا کہ رسالت مآب،میرے آقا و مولا کی خدمت میں ایک صحابیہ اپنا بچہ لے کر آئی اور عرض کیا یہ گڑ بہت زیادہ کھاتا ہے منع فرمائیں۔ آپ نے اگلے روز آنے کے لیے کہا، اگلے روز آپ نے بچے کوگڑ کھانے سے منع فرمایا تو صحابیہ نے عرض کی حضور آپ یہ بات کل ہی فرما دیتے تو میرے آقا ومولا نے فرمایا کل میں نے خود گڑ کھایا ہوا تھا۔

جناب نواز شریف پہلا قدم اُٹھائیں، اپنا سب کچھ،سارے اثاثے واپس پاکستان لائیں‘ یہ قوم اپنا تن من دھن سب کچھ آپ پر نچھاور کردے گی۔ آپ کو یاد ہوگا ’’قرض اُتارو ملک سنوارو‘‘مہم کے دوران آپ کے ایک اشارے پر قوم نے ڈھیروں دولت نچھاور کردی‘ اسی طرح ایٹمی دھماکوں کے بعد بینکوں میں موجود 12ارب ڈالر قوم نے آپ کے قدموں پر ڈھیر کردیے تھے لیکن آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ چند ناعاقبت اندیش اس نازک مرحلے پر بھی اپنے ڈالر باہر بھجواتے ہوئے پکڑے گئے تھے اب تو ایسے عناصر سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

جناب والا!میدان سیاست میں آپ کا فطری اتحادی صرف عمران خان ہے جو روشن خیال اور خوشحال پاکستان کی منزل پانے کے لیے آپ کا دست و بازو بن سکتا ہے ،سب سے زیادہ مددگار ہو سکتا ہے ۔ خارجہ پالیسی ہو یا داخلہ اُمور… یا پھر بھارت سے تعلقات کا نازک اور حساس معاملہ (ن) لیگ اور تحریک انصاف کا موقف یکساں ہے اگر آپ مرکز میں مخلوط حکومت میں عمران خان کو شامل ہونے کی دعوت دیں تو یہ اقدام قومی اُمنگوں کا آئینہ دار ہوگا کہ قوم نے تحریک انصاف کو ایک صوبے میں حق حکمرانی دیا ہے ۔

جناب والا!پہلا گھمبیر مسئلہ تو امن وامان کی بحالی اور قوم میں احساس تحفظ بحال کرنا ہے ۔ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کسی بجٹ یا بھاری رقم کی ضرورت نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل وکرم ہے کہ تمام تر انحطاط کے باوجود ہماری پولیس میں آج بھی پاکستان سے محبت کرنے والے جانباز سپوت موجود ہیں لیکن اگر حلف اُٹھانے سے پہلے ہی پنجاب پولیس کے نیک نام سربراہ آفتاب سلطان کو کھڈے لائن لگا دیا جائے تو پولیس فورس میں کس طرح کا پیغام جائے گا ۔ اس کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔امن وامان کے بعد دوسرا اہم مسئلہ لوڈشیڈنگ اور توانائی کے بحران کا ہے جس کا بنیادی تعلق ہماری صنعت اور شہری آبادی سے ہے کیونکہ دیہات میں لوڈشیڈنگ تو بجلی کے عدم وجود کا استعارہ بن چکی ہے۔

اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے توانائی کے متبادل ذرایع موجود ہیں جن پر آپ کے نو منتخب رُکن قومی اسمبلی دانیال عزیز نے گذشتہ سالوں میں تحقیق و آگاہی کا بڑا کام کیا ہے اور شمسی توانائی کے کئی گھریلو اور زرعی منصوبے کامیابی سے چلائے ہیں ۔ اسی طرح بائیو گیس کے گھریلو اور زرعی استعمال پر اُن کے والد گرامی انور عزیز چوہدری نے ملکوں ملکوں، قریہ قریہ چھانا ہے ۔جناب احسن اقبال کی سربراہی میںتوانائی گروپ تشکیل دے کر 70فیصد دیہی پاکستان کے دُکھوں کا علاج تو صرف 90دن میں کیا جا سکتا ہے جس سے مصنوعی کھادوں پر انحصار کم ہوگا اور سبز انقلاب کی راہ ہموار ہوگیا۔

حرف آخر یہ کہ ہمہ صفت ،عزیزی سلیم خان نے گذشتہ کالم پر بڑا دلچسپ تبصرہ کیا ہے کہ ’’الفاظ کے دانت نہیں ہوتے لیکن یہ کاٹ لیتے ہیں‘‘سلیم خان پاکستانی صحافت کی طباعت کو رنگینیوں کا حسن دینے والے مرحوم امین خان کے صاحبزادے ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔