ہاں! میں نے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشن سے باہر نکال دیا تھا

ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم  اتوار 26 اگست 2018
 فیصل آباد کے ’’گدھا خانے‘‘ میں بننے والے حساس ترین پولنگ اسٹیشن کے پریزائڈنگ آفیسر کی دل چسپ روداد۔ فوٹو: فائل

 فیصل آباد کے ’’گدھا خانے‘‘ میں بننے والے حساس ترین پولنگ اسٹیشن کے پریزائڈنگ آفیسر کی دل چسپ روداد۔ فوٹو: فائل

25جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں مجھے حکومت کی جانب سے بہ طور پریزائڈنگ آفیسر تعینات کیا گیا۔

میری تعیناتی فیصل آباد کے حلقہ پی پی112 کے پولنگ اسٹیشن63 میں کی گئی تھی۔ الیکشن سے ایک روز قبل اپنے پولنگ اسٹاف کے ساتھ اپنے پولنگ اسٹیشن پہنچا اور محل وقوع کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ 200 x 500 x 700 فٹ کے تکونی رقبے پر 8 x 10  فٹ کے دو چھوٹے گرد آلود کمروں کے ساتھ ایک 200 x 300 فٹ کا بڑا برآمدہ بھی ہے۔

یہ پولنگ اسٹیشن جھنگ بازار کے پہلو میں، ڈجکوٹ روڈ پر واقع ہے جو عرف عام میں گدھا خانہ کہلاتا ہے۔ یہ عمارت مارکیٹ کمیٹی فیصل آباد کے زیرانتظام اس لیے تعمیر کی گئی تھی کہ شہر بھر کی گدھا ریڑھیوں پر جُتے گدھے یہاں آکر کچھ دیر کے لیے سستا سکیں اور پانی پی اور چارا کھاکر دوبارہ اپنی منزل کی طرف گام زن ہوسکیں، اب گدھا خانے میں بجلی، پنکھے اور میز کرسیوں کا کیا کام! بہرحال اپنے ریٹرننگ آفیسر عزت مآب منظور احمد کو اس نیت سے OK کی رپورٹ کردی کہ اب الیکشن سے ایک روز قبل اور اس سمے ارباب اختیار سے پولنگ اسٹیشن پر سہولیات کی عدم موجودگی کا کیا رونا رویا جائے۔

ایک آدھ دن تو یہاں گزارنا ہے، انہیں مینجمنٹ کے سلسلے میں اور بے شمار کام سرانجام دینے ہوں گے، لہٰذا سوچا آفس مارکیٹ کمیٹی فیصل آباد کے سیکرٹری چوہدری یوسف سے رابطہ کرنا چاہیے چناںچہ جب رابطہ کیا تو چوہدری یوسف نے انتخابات کے نازک لمحات کے پیش نظر میز کرسیاں، پنکھے اور بجلی کا فوری طور پر انتظام کردیا۔ میں حیران تھا کہ سیکریٹری مارکیٹ کمیٹی نے بغیر کسی تامل کے گدھا خانے میں صفائی ایسے کروادی کہ میں انہیں داد دیے بغیر نہ رہ سکا، لیکن ایک مجبوری ان کے ہاں بھی حائل رہی، وہ یہ تھی کہ یہ پولنگ اسٹیشن واش روم سے ماوریٰ تھا۔

بات بھی جائز تھی کہ گدھاخانے میں واش روم کا کیا کام! گدھے تو کھڑے کھڑے اور سب کے سامنے اپنی حاجت پوری کر لیتے ہیں، جب کہ انسان اپنی حاجت روائی کے لیے تنہائی کا محتاج رہتا ہے۔ بہرحال اگر چوہدری یوسف کے بس میں ہوتا تو وہ ایک واش روم بھی فوری طور پر بنادیتے، مگر مجبور تھے۔ اس کے باوجود پولنگ اسٹیشن پر واش روم کی عدم موجودگی، میرے عزم کو پسپا نہ کرسکی، کیوںکہ اساتذہ کرام سے زانوئے ارادت تہہ کرتے وقت ایک چیز کا احساس شدت سے جاگزیں رہا کہ ناموافق حالات(Advers conditions) میں رہتے ہوئے اگر کوئی بندہ اپنے آپ کو منوا لیتا ہے تو ایسے لوگ آئیڈیلزم کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔ چناںچہ میں نے اپنے پولنگ اسٹاف سے کہا کہ ڈیوٹی کے دوران آپ لوگ رفع حاجت کے لیے باہر جا سکتے ہیں، مگر میرا اللہ حافظ ہے اور میں پولنگ اسٹیشن کے باہر ہرگز نہیں جاؤں گا۔

الیکشن سے ایک روز قبل تہیہ کرلیا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے تمہیں اپنی ذات کو پسِ پشت ڈالنا ہے اور قوم کی خاطر پولنگ اسٹیشن کے اندر ہمہ وقت موجود رہنا ہے، کیوںکہ شہر کے حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں میں شامل ہونے کے پیش نظر میں جانتا تھا کہ اگر میں پولنگ کے دوران باہر نکل جاتا ہوں تو بے شمار آنکھیں، چہرے اور لوگوں کے موبائل لامحالہ میری ویڈیو بنانے میں لگ جائیں گے کہ یہ پریزائیڈنگ آفیسر پولنگ اسٹیشن سے باہر کیا کر رہا ہے؟ لہٰذا پولنگ کی شفافیت کے پیش نظر24 جولائی کی صبح سے ہی میں نے کھانا چھوڑدیا، حالاںکہ 24 کی شام کو اپنے پولنگ اسٹاف کو کھانا کھلایا تھا مگر خود نہ کھایا۔

مادر وطن کی حفاظت اور اس پر آنچ نہ آنے دینے کی غرض سے مجھ جیسے بے شمار پاکستانی کھانا کیا سانس لینا تک چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی جذبے کی سرشاری میں رات بھر منصوبہ بندی کرتا رہا کہ آنے والی کل یعنی 25 جولائی کو اپنے پولنگ اسٹیشن پر کیسے انتظامات کرنا ہیں؟ تاکہ اپنے تو کیا، کسی دشمن کو بھی شفاف، غیرجانب دارانہ اور صاف ستھرے انتخابات کے انعقاد پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ 25جولائی کی صبح فجر کے بعد پولنگ اسٹیشن پر موجود آرمی کے جوانوں سے الیکشن میٹیریل وصول کیا اور کم و بیش ڈیڑھ گھنٹے کے اندر اندر گدھا خانہ کے ویران رقبے کو ایک خوب صورت پولنگ اسٹیشن میں تبدیل کردیا۔

میرے پولنگ عملے میں محمد ندیم (سنیئر اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسر) وسیم اختر، عبدالقدوس، شمشیر خاں، محمد مومن، محمد حسین، اصغر علی، خادم حسین، عبدالسلام اور نثار علی شامل تھے۔ پولنگ اسٹیشن کی تزئین و آرائش میں قومی جذبے کا رنگ غالب رہا۔ میرے ہر اشارے کو میرے ساتھیوں نے ایسے اپنے اوپر فرض کرلیا تھا کہ جیسے اعجاز تبسم نہیں بل کہ پاکستان ان سے مخاطب ہو، جب کہ یہ امر بھی کسی دل چسپی سے کم نہیں کہ عابد شیرعلی، طاہر جمیل اور فرخ حبیب جیسے قد کاٹھ والے امیدواروں کے انتخابی حلقے کا یہ گدھا خانہ کا پولنگ اسٹیشن شہر بھر کا حساس پولنگ اسٹیشن بھی قرار دیا جارہا تھا، کیوںکہ اسی پولنگ اسٹیشن پر 2013 کے انتخابات میں خاصی بدمزگی دیکھنے کو ملی تھی۔

لہٰذا میری کوشش یہی تھی کہ کسی بھی صورت انتخابات کے پُرامن انعقاد کے سلسلے میں قوانین ہاتھ میں نہ لوں، بل کہ الیکشن ٹریننگ کے دوران بتائے گئے قوانین کو فالو کروں۔ واضح رہے کہ عابد شیر علی، فرخ حبیب، طاہر جمیل اور سرمد حسین راہی جیسے 29 امیدوار صوبائی و قومی اسمبلی کے لیے انتخابات 2018 میں شریک تھے۔ علاوہ ازیں میرے پولنگ اسٹیشن کی حساسیت کا اندازہ مجھے یوں بھی ہونے لگا کہ ایک تو میرے پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر دس کیمرے نصب تھے۔

جن کے ذریعے لمحے لمحے کی کارروائی مانیٹر کی جارہی تھی اور دوسرا صبح ٹھیک 7بج کر50 منٹ پر میڈیا کے بے شمار چینلز کے کیمرے پولنگ اسٹیشن کے گیٹ پر براجمان ہوگئے تھے۔ انہیں جیسے ہی کوئی ان کے مزاج کی کسی بھی خبر کی بھنک ملتی وہ اسے بریکنگ نیوز کی شکل میں دنیا بھر میں پہنچانے میں دیر نہ لگاتے۔ میری کوشش تھی کہ ان دنیا تک میرے پولنگ اسٹیشن میں صاف ستھرے اور غیرجانب دارنہ الیکشن کے انعقاد کی ایسی خبر جائے کہ کوئی پاکستان میں انتخابات کی خوب صورت شکل بگاڑنے کا سوچ بھی نہ سکے۔

چوںکہ پولنگ اسٹیشن نمبر 63 کی تمام کارروائی میری ہی زیرنگرانی انجام پذیر ہونا تھی لہٰذا مختلف سیاسی پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹس کے کاغذات نامزدگی برائے تقرری پولنگ ایجنٹس وصول کرنے کے بعد میں نے اپنے پولنگ اسٹاف سے ووٹ کی رازداری اور غیرجانب دار رہنے اور شفاف الیکشن کے انعقاد کا حلف لیا۔ ساتھیوں سمیت پولنگ کا عمل بخیروعافیت گزرنے کی دعا مانگ کر سیدھا پولنگ اسٹیشن کے گیٹ پر آگیا۔ اب 7بج کر 59 منٹ ہوچلے تھے اور میرے سامنے میڈیا کے بے شمار چینلز کے مائک اور صحافی مجھ میں اور میرے پولنگ اسٹیشن میں کچھ ڈھونڈنے کی تگ و دو میں مصروف تھے کہ اچانک میں وہاں موجود ووٹرز سے مخاطب ہوا،’’دوستو! ابھی چند ہی لمحوں میں انتخابات 2018- کا عمل شروع ہونے والا ہے۔

اس اسٹیشن پر تعینات پولنگ ایجنٹس، فافن (فیئر اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک) کے نمائندے خواجہ سلمان علی ایڈووکیٹ اور میرا پولنگ اسٹاف اپنی اپنی نشستیں سنبھال چکے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنی اپنی باری پر ووٹ ڈالنے کے لیے ضرور تشریف لائیں۔

ہاں اگر کوئی بزرگ، ضعیف، بیمار، یا خواجہ سرا گیٹ پر نظر آجائے تو میں توقع کروں گا کہ آپ اسے براہ کرم ضرور ترجیح دیں گے۔۔۔ اور آخر ی بات ۔۔۔(میں چاہ رہا تھا کہ اس لمحے ایسی بات کردوں تاکہ عوام کے ساتھ کھڑے شرپسند اس بات سے باخبر اور متنبہ رہیں کہ اگر کسی نے بھی بدمزگی پھیلانے کی کوشش کی تو پولیس، رینجرز اور فوج ان کی نہ صرف تواضع کر سکتی ہے بل کہ دو سال کے لیے اپنا مہمان بنانے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کرے گی) ۔۔۔دوستو! لیکن اگر میرے پولنگ اسٹاف میں سے کوئی بھی قومی و صوبائی حلقوں کے دو بیلٹ پیپرز کے علاوہ کوئی تیسرا یا چوتھا بیلٹ پیپر دینے کی کوشش میں پکڑا گیا، تو سب سے پہلے مجسٹریٹ کے خصوصی اختیارات کے تحت میں خود اُسے جیل بھیجنے میں پس و پیش سے کام نہیں لوں گا۔‘‘

عوام اور میڈیا کے سامنے صبح 8 بجے دیے جانے والے میرے اس بیانیے کا عوام پر بہت اثر ہوا اور لوگ خود ہی لائن میں لگ گئے۔ یوں پُرامن ماحول میں پولنگ شروع ہوگئی۔ میرے پولنگ اسٹیشن پر 3 پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے۔ ہر بوتھ پر ایک پولنگ آفیسر موجود تھا، جو انتخابی فہرست میں ووٹر کا سلسلہ نمبر دیکھ کر اس کے انگوٹھے پر سیاہی سے نشان لگاتا، جب کہ باقی دونوں اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسر قومی اور صوبائی اسمبلی کے بیلٹ پیپرز دینے کے ساتھ ووٹر کے ہاتھ میں 9خانوں والی مہر تھما دیتے۔ ووٹر پولنگ اسکرین کے پیچھے جاتا اور سب سے چُھپاکر بیلٹ پیپر پر اپنی پسند کے امیدوار کے نشان پر مہر لگاتا۔ یوں وہ پرچی بیلٹ پیپر سے ووٹ میں تبدیل ہوجاتی۔

دوپہر کے بارہ بج چکے تھے۔ اس دوران میں بار بارپولنگ اسٹیشن کے گیٹ پر جاتا، کوئی بزرگ نظر آجاتا، کسی کو وھیل چیئر پر دیکھ لیتا یا کوئی خواجہ سرا ملتا، تو انہیں فوری طور پر اور ترجیحی بنیادوں پر اندر لے آتا، کرسی پر بٹھا کر حبس اور گرمی کے اس موسم میں پہلے ٹھنڈا پانی پلاتا اور پھر ووٹ ڈلواتا۔ میرے اس معمولی سے عمل کو دیکھ کر گیٹ پر کھڑا نوجوان طبقہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہا۔ اسی اثنا میں امیدوار قومی اسمبلی فرخ حبیب میڈیا کے ساتھ گیٹ کے اندر آگئے۔

میں فوری طور پر ان کے پاس گیا اور ان کا موبائل پولنگ اسٹیشن کے باہر رکھنے کا کہا، جس پر انہوں نے بھی عمل کیا۔ پولنگ کا عمل دکھانے کے بعد انہیں پولنگ اسٹیشن سے فوری طور پر روانہ کردیا، کیوںکہ حساس پولنگ اسٹیشن ہونے کے ناتے میں اس بات سے باخبر تھا کہ سابق ایم پی اے طاہرجمیل، سابق ایم این اے عابد شیر علی اور سابق میئر فیصل آباد چوہدری شیر علی ، کسی بھی لمحے اپنا اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے اس پولنگ اسٹیشن کے اندر آسکتے ہیں، اور میرا مشاہدہ رہا ہے کہ مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کے سرکردہ راہ نما اگر ایک جگہ پر اکٹھے ہوجائیں تو عوام کو کنٹرول کرنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے۔

خصوصاً پولنگ اسٹیشن کے اندر تو انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنتے بھی دیر نہیں لگتی۔ اسی اثنا طاہر جمیل پولنگ اسٹیشن کے اندر آگئے۔ ان سے بھی موبائل فون بھی باہر رکھنے کو کہا، اور انہیں بھی چند لمحوں میں ہی مشاہدہ کروانے کے بعد پولنگ اسٹیشن سے روانہ کردیا۔ میڈیا والے نہ جانے کس مٹی کے بنے ہیں، وہ مسلسل گیٹ پر موجود رہے۔ میں نے بھی تہیہ کر رکھا تھا کہ ان کی من پسند اور کسی قسم کی منفی بریکنگ نیوز انہیں اس اسٹیشن سے نہ مل پائے۔ میں ان کے پاس گیٹ پر گیا۔

دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب 1200 ووٹوں میں سے ابھی صرف0 12 ووٹ ہی کاسٹ ہوئے تھے، یعنی صرف 10فے صد ٹرن آؤٹ، جو بہت کم تھا، چناںچہ میں نے میڈیاوالوں کے پاس پہنچا، میرے پہنچتے ہی ٹھک ٹھک کرکے کیمرے آن ہو گئے اور میں بول پڑا ۔۔۔۔ ’’میں اپنے دوستوں ، بزرگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ کے پاس ووٹ قوم کی امانت ہے، لہٰذا آپ فوری طور پر گھروں سے نکلیں اور ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن تشریف لائیں، قوم آپ کے ایک ایک ووٹ کا انتظار کر رہی ہے۔‘‘

میری اس کوشش کے مثبت اثرات مرتب ہوئے بل کہ پولنگ اسٹیشن پر لوگ جوق در جوق آنا شروع ہوگئے اور پولنگ بغیر کسی تعطل کے پھر شروع ہوگئی۔ ابھی دوپہر کا ڈیڑھ ہی بجا تھا کہ سیکیوریٹی سخت ہونے کے باوجود ایک شخص پولنگ اسٹیشن کے اندر داخل ہوا، اس کے ہاتھ میں بڑے بڑے دو شاپنگ بیگز تھے، میں دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ ان شاپنگ بیگز میں کھانا ہے۔ ابھی وہ پولنگ اسٹاف میں کھانا تقسیم کرنے ہی لگا تھا کہ میں نے فوری طور پر اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ بھئی آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں اور یہ کیا ہے؟ اس نے بلاتامل جواب دیا، ’’سر! یہ کھانا عامر شیر علی کی طرف سے آیا ہے آپ کے لیے ۔۔۔اور عامر شیر علی بھائی ہیں عابد شیر علی کے۔‘‘ میں نے بغیر کسی توقف کے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ براہ کرم آپ یہ کھانا واپس لے جائیں۔ میری بات سُن کر وہ تذبذب کا شکار ہوگیا۔

اس نے شاید سوچا بھی نہ ہوگا کہ کوئی یوں مفت کا کھانا واپس بھی کر سکتا ہے۔ میں دوبارہ گویا ہوا، آپ اس کھانے کو واپس لے جائیں آپ کا بہت شکریہ ۔۔۔۔۔مگر وہ بڑی ڈھٹائی سے کھڑا رہا اور مجھے غور سے دیکھتا رہا۔ میرے پولنگ اسٹاف کے ساتھ مختلف الخیال سیاسی پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹس، آرمی کے جوان اور وہاں پر کھڑے ووٹر حضرات بھی مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں اپنی نشست سے اٹھا اور کھانا لانے والے شخص کے قریب جاکر اس سے کہا،’’جناب! آپ مجھے یہ کھانا کل کھلا دیں، ہم سب آکر کھا لیں گے مگر سرکار نے ہمیں آج کی اس ڈیوٹی کا معاوضہ دے رکھا ہے ۔

اس لیے آپ ہمارے آج کے کھانے کی فکر نہ کریں۔ آپ تشریف لے جاسکتے ہیں۔‘‘ وہ شخص اپنے مشن میں ناکام ہوکر نامراد واپس چلا گیا، مگر میرا عملہ مجھ سے الجھ بیٹھا کہ سر! آپ کھانا نہ کھاتے، ہم تو کھا لیتے۔ آپ اس سے کھانا لے کر ہمیں دے دیتے، اور ویسے بھی سر! روٹی کو ٹھکراتے نہیں ہیں، جو روٹی کو ٹھکراتا ہے تو پھر روٹی اس بندے کو ٹھکرا دیتی ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے الیکشن کے روز پولنگ اسٹاف کا یوں مفت کھانا کھانے کی منطق سن کر میری رگِ عدل پھڑک اُٹھی، میں اپنے پولنگ اسٹاف کے پاس گیا اور ان سے کہا،’’دیکھیں زندگی میں بعض لمحات ایسے آجاتے ہیں جب کسی کے ساتھ آئی کانٹیکٹ(Eye contact) کا برقرار رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔

اور خصوصاً آج انتخابات کے دن تو ہر سیاسی پارٹی چاہے گی کہ پولنگ عملے کو کھانا وہ دے، تاکہ وہ بعدازاں پولنگ عملے سے کچھ نہ کچھ fever لے سکیں، مگر میں ایسا ہرگز نہیں کرسکتا۔ یاد رکھیں کہ علامہ اقبال ایسے ہی موقعوں کے لیے کہہ گئے ہیں۔۔۔اے طائر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی۔ سب سُننے کے باوجود پولنگ اسٹاف اپنی بات پر مُصر رہا۔ اُس پر میری کوئی بھی دلیل کارگر نہ ہورہی تھی۔ کہنے لگے کہ سر! ہمیں بھوک لگی ہے اس کا کیا کریں؟ جس پر میں نے فوری طور پر اپنے نائب قاصد کو بلایا جو شاید ایسے ہی موقعوں کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہمیں سرکاری طور پر دیا ہوا تھا وہ آیا اور میں نے 5000 روپے کا نوٹ نکالا اور فوری طور پر کھانا منگوالیا۔

ایک پارٹی کی جانب سے کھانا نہ لینے کے میرے اس عمل کو پولنگ ایجنٹس، پولنگ اسٹیشن کے باہر کھڑے عوام اور خصوصاً آرمی جوانوں مسٹر شوکت او ر مسٹر فیاض نے بہت سراہا۔ میں ان کی باڈی لینگویج پر بھی غور کر رہا تھا کہ ان کے دل میں میرا احترام مزید بڑھ گیا ہے ۔ اب دوپہر کے ڈھائی بج چکے تھے۔ پولنگ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ پولنگ اسٹیشن کے کل 1200 ووٹوں میں سے ابھی فقط 300ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں۔

یعنی ٹرن آؤٹ فقط 25 فے صد تھا۔ چناںچہ میں پھر گیٹ پر آگیا۔ میڈیا چینلز کو ابھی تک اس پولنگ اسٹیشن سے کوئی بریکنگ نیوز نہیں ملی تھی اور وہ مسلسل اس تاک میں تھے کہ کہیں سے کوئی چبھتی ہوئی خبر نظر آئے اور ان کے چینل کی ریٹنگ بڑھ سکے۔ ان میں سے چند چینلز والے باضابطہ کارروائی کے بعد پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی آجاتے اور پولنگ کے عمل کو لائیو دکھاتے رہتے۔ اچانک لگ بھگ 50 سال کی عمر کا ایک میڈیا پرسن گلے میں اپنے ٹی وی چینل کا کارڈ لٹکائے اندر آگیا۔ اس کے پاس کیمرا نہ تھا، بل کہ موبائل تھا۔ میں نے اسے اندر جانے سے روک دیا اور پوچھا بھئی کدھر! کہنے لگا کہ جناب میں فلاں چینل سے ہوں اور الیکشن کوریج کے لیے آیا ہوں۔

میں نے عرض کی کہ فیصل آباد میں اس چینل کے انچارج عابد حسنین شاہ ہیں، کہنے لگا کہ جی جی وہی ہیں۔ اس کے دل میں آگیا کہ چلو شکر ہے کہ پریزائیڈنگ آفیسر نے خود ہی واقفیت نکال لی ہے، اب میں اپنے موبائل سے اس پولنگ اسٹیشن کی کوریج کرلوں گا، مگر اپنی واقفیت بالائے طاق رکھتے ہوئے میں بول پڑا کہ جناب آپ اندر نہیں جاسکتے، اس نے پوچھا کیوں۔۔۔ میں عابد حسنین سے آپ کی بات کروادیتا ہوں، جس پر میں نے کہا کہ جناب! آپ کے پاس کیمرا نہیں ہے ، کیمرا لے آئیں تو اندر آجائیے گا۔ میں نے آرمی جوان کی مدد سے اسے باہر نکال دیا ، باہر کھڑے چینلز کے کچھ افراد نے اس میڈیاپرسن کو باہر نکالنے کے میرے اس عمل کو سراہا اور مجھے خوشی سے ’’تھمب‘‘ دکھاتے ہوئے کہا کہ بہت خوب سر! انصاف کا سبق تو بندہ آپ سے سیکھے۔

میں گیٹ پر کھڑے ٹی وی چینل خصوصاً لوکل چینل کے نمائندے سے ایک بار پھر بات کرنے لگا، مگر سب چینل والوں نے مجھے دوبارہ لائیو لے لیا۔ میں بھی میڈیا سے قوم کی خاطر فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ میں پھر بولنا شروع ہوگیا، ’’میں اپنے تمام ووٹر حضرات سے مخاطب ہوں جو ابھی تک ووٹ نہیں ڈال سکے، ان سے گزارش ہے کہ آپ لوگ فوری طور پر پولنگ اسٹیشن پہنچیں۔ ووٹ قوم کی امانت ہوتی ہے اسے قوم کے سپرد کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ قوم کے ووٹ کی ایک پرچی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی غلط نمائندہ آپ ہی کے اوپر تھوپ دیا جائے۔‘‘

ابھی میں میڈیا سے بات کرکے پلٹا ہی تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا رش بڑھ گیا اور لوگ اتنے تواتر سے آتے گئے کہ پولنگ اسٹاف چھے بجے تک ایک منٹ کے لیے بھی سانس نہ لے سکا۔ میں اندر ہی اندر خوش ہورہا تھا اور دعا مانگ رہا تھا کہ یااللہ! ایک تو ووٹنگ کا عمل پرامن طور پر مکمل ہوجائے اور دوسرا میرے اسٹیشن کا ٹرن آؤٹ بھی 100فے صد ہوجائے۔

ابھی دل ہی دل میں اللہ سے درخواست کر ہی رہا تھا کہ آرمی کا جوان شوکت میرے پاس آیا اور کہنے لگا، ’’سر! میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ اگر اجازت ہو تو۔‘‘ میں اسے دیکھے بغیر بول اٹھا کہ شوکت لَٹو آخری دَموں پر ہے اور یہ مسلسل گھوم رہا ہے۔

لٹو پر نظر رکھنا اس وقت بہت ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں سے تیز ہوا کا جھونکا ادھر آنکلے اور لٹو کو گرا جائے، جس سے سارا کھیل ہی ختم ہو جائے، پولنگ ختم ہونے میں ایک گھنٹہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، پولنگ کے بعد بات کرلینا۔ ’’نہیں سر!‘‘ وہ راستہ کاٹ کر میرے سامنے آگیا۔ جب شوکت سے آنکھیں چار ہوئیں تو اپنائیت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس کی آنکھوں میں موج زن تھا۔ میں دھیرے سے اسے ایک طرف لے گیا۔ سچی بات ہے کہ اسے جذبات میں آتے دیکھ کر میں اس سمے بھول ہی گیا تھا کہ میں پریزائیڈنگ آفیسر ہوں اور کسی پولنگ اسٹیشن پر ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہوں۔ میں نے اس سے پوچھا،’’کیا بات ہے شوکت! وہ بولا،’’سر! میں کل صبح سے آپ کے ساتھ ہوں۔

اتنے حبس اور گرمی میں الیکشن مٹیریل لیتے ہوئے ہمیں چار گھنٹے لگے۔ پھر پولنگ اسٹیشن پہنچتے پہنچتے مغرب ہوگئی تھی۔ آپ نے اپنے تمام پولنگ اسٹاف کو اپنی جیب سے کھانا کھلایا، پھر 25جولائی کی صبح آپ نے ان کو ناشتہ کروایا، دوپہر کو آپ نے اپنی جیب سے پھر ان کے لیے کھانا منگوایا، پھر ان کے لیے چائے بھی آپ نے ہی منگوائی۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ آپ کو دیکھتے ہوئے مجھے دو دن ہو گئے ہیں سوائے پانی پینے کے آپ نے کھانے کا ایک لقمہ بھی نہیں کھایا اور پھر جیسے تیزی سے آپ گیٹ پر آتے اور بزرگوں بیماروں کو ترجیحاً ووٹ ڈلواتے ہیں، ان کے آگے پیچھے ہوتے ہیں، ٹھنڈا پانی پلاتے ہیں ۔۔۔ آخر کیوں۔‘‘ شوکت کی آواز بھرّا گئی اور وہ خاموش ہوگیا۔

اس کے لہجے اور پھر لہجے میں چھپی اپنائیت۔۔۔ سچی بات ہے مجھے اند ر سے گھائل کرگئی ۔۔۔ جس نے مجھے وہ سب کچھ بتانے پر مجبور کردیا جسے میں اپنے دل ہی میں چھپائے رکھنا چاہتا تھا۔ میں نے کہا،’’شوکت! تم بہت خوش قسمت ہو جو ہر لمحہ سینہ سپر رہتے ہو، تمھاری جوانی تو تیغوں کے سائے تلے گزر رہی ہے، مگر کیا مسٹر شوکت صرف فوج میں بھرتی ہوکر ہی وطن پر قربان ہُوا جاسکتا ہے؟ مجھ جیسے بے شمار لوگ وطن پر قربان ہونے کے لیے ہر وقت تڑپتے رہتے ہیں اور کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔

مسٹر شوکت! جب سے میری بہ حیثیت پریزائیڈنگ آفیسر ڈیوٹی لگی ہے اور خاص کر پولنگ اسٹیشن نمبر63 پر تعینات ہوا ہوں تو 63سال کی نسبت میں قدرت کے وارے نیارے جا رہا تھا کہ میری زندگی میں کوئی تو نسبت چسپاں ہوئی ہے۔ ابھی کل سے میں اس پولنگ اسٹیشن پر ہوں، آپ کے علم میں ہے کہ یہاں کوئی واش روم نہیں ہے؟‘‘ وہ بولاِ،’’جی ہاں۔‘‘ میں نے کہا،’’کل سے میں اس لیے کچھ کھا نہیں رہا ہوں کہ میں اس سوچ میں تھا کہ اگر میں کھانا کھا لیتا ہوں تو لامحالہ واش روم جانے کی نوبت آسکتی ہے اور واش روم پولنگ اسٹیشن سے باہر ہے، اگر میں باہر چلاجاتا تو بے شمار لوگ اور میڈیا والے میرا پیچھا ضرور کرتے ۔ ان کے ذہن میں ضرور یہ بات آتی کہ پولنگ کے دوران پریزائیڈنگ آفیسر پولنگ کے دوران پولنگ اسٹیشن سے باہر نکل گیا! ضرور دال میں کچھ کالا ہے یا پھر اس دوران ٹی وی چینل ٹکرز چلا دیتے کہ پریزائیڈنگ آفیسر کے بغیر پولنگ اسٹیشن ۔۔۔۔ پریزائیڈنگ آفیسر اپنے پولنگ اسٹیشن سے باہر چلا گیا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔‘‘

میری بات سُن کر شوکت کی آنکھوں کے کونے بھیگ رہے تھے۔ وہ آنکھیں جھپکتے ہوئے کہنے لگا،’’سر! پولنگ ایجنٹ سے لے کر میڈیا مین تک اور پھر اپنے سٹاف کے مابین روا رکھے جانے والے آپ کے سلوک کو میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ چوںکہ آپ نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا، لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنی جان پر نہ کھیلیں اور کچھ نہ کچھ کھا لیں۔۔۔اگر مجھے اجازت دیں تو میں آپ کے لیے کوئی چیز باہر سے لادوں؟‘‘ میں نے کہا،’’ مسٹر شوکت! ۔۔۔ انسانی دماغ یا ذہن دنیا کی سب سے طاقت ور چیز ہوتی ہے۔ دیکھیں کہ جس لمحے میں نے یہ ٹھان لیا کہ مجھے پولنگ اسٹیشن نہیں جانا تو اس وقت سے لے کر اب تک مجھے بھوک کا احساس بھی نہیں ہوا۔‘‘ لیکن وہ بضد رہا کہ سر! مجھے کچھ نہ کچھ آپ کو ضرور کھلانا ہے۔

میں نے شوکت کی اپنائیت کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور کہا کہ آپ میرے لیے صرف ایک پیکٹ پاپڑ لے آئیں اور بس۔ یوں لگا جیسے شوکت نے آسمان سے چاند توڑ لیا ہو۔ وہ گن سمیت بھاگا بھاگا باہر گیا اور میرے لیے پندرہ بیس پاپڑ کے پیکٹ لے آیا۔ ان میں سے ایک پیکٹ میں نے کھالیا اور باقی سب اپنے اسٹاف میں بانٹ دیے۔

اسی دوران عابد شیر علی اپنا ووٹ کاسٹ کرنے آگئے۔ حیرت تھی کہ اتنی مشہور شخصیت اور ممبر قومی اسمبلی رہنے والا شخص پولنگ اسٹیشن کے باہر چپ چاپ لائن میں لگا اپنی باری کا انتظار کررہا تھا اور پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی اس نے کسی مدد کے لیے ہماری طرف نہ دیکھا۔ عابدشیرعلی کے اس رویے کی وجہ سے پولنگ اسٹاف اور ووٹرز میں ان کا احترام بڑھ گیا تھا۔

پولنگ کا وقت ختم ہونے میں چند ہی منٹ باقی تھے کہ ایک بار پھر گیٹ پر آگیا۔ حیرت تھی کہ ٹی وی چینلز والے فیصل آباد کے حلقہ PP-112 کے پولنگ اسٹیشن 63 کو چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اور ابھی تک وہیں موجود تھے۔ ان کے بیوروچیفس نے شاید ان سے کہہ دیا تھا کہ پچھلے انتخابات کی طرح اس اسٹیشن پر کسی بھی لمحہ بریکنگ نیوز کے لیے کچھ بھی سبب بن سکتا ہے، جب کہ مجھے مسبب الاسباب پر بھروسا تھا، جس کا نام لے کے ہم نے صبح پولنگ کا آغاز کیا تھا۔ اﷲ نے توفیق دی تھی کہ ہم پُرامن ماحول میں الیکشن کروانے میں کام یاب رہے تھے، جس کا سارا کریڈٹ پاک فوج کو جاتا ہے۔ الیکشن کے محاذ پر پاکستان بھر میں عام شہریوں کے لیے فوج کی موجودگی تقویت کا سبب ٹھہری، جس کی وجہ سے میرے پولنگ اسٹیشن کا ٹرن آؤٹ 71 فے صد رہا اور 99 فی صد انتخابات شفاف اور غیرجانب داری کے ساتھ وقوع پذیر ہوئے۔

پولنگ کا وقت ختم ہونے کے دو ایک منٹ قبل گیٹ پر موجود میڈیا کی ٹیموں، اور شہریوں سے مخاطب تھا کہ ابھی پولنگ ختم ہونے میں چند لمحے باقی ہیں، اگر کسی نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا تو اندر آسکتا ہے اور اس لمحے اگر 50ووٹ بھی ہوں تو میں انہیں ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت دے سکتا ہوں۔ کوئی بھی شخص اندر جانے کے لیے آگے نہ بڑھا۔ چناںچہ ٹھیک 6.00 بجے میں نے پولنگ بند کرنے کا اعلان کردیا اور فوجیوں نے گیٹ بند کردیا۔

میرے اسٹیشن پر ہر سیاسی پارٹی کے دو دو بلکہ تین تین پولنگ ایجنٹس الیکشن کمیشن کا ایجنٹس اور فافن کے نمائندوں کی موجودگی میں سارا دن پولنگ ہوتی رہی تھی اور میں نے کسی سیاسی پارٹی کی عددی موجودگی پر اعتراض نہ کیا تھا کہ کسی سیاسی پارٹی نے ایک سے زائد پولنگ ایجنٹس کیوں بھیجے ہیں؟ تاکہ کسی قسم کی بدمزگی نہ ہوجائے۔ ویسے پولنگ ایجنٹس کا میں ذاتی طور پر بھی ممنون رہوں گا کہ جنہوں نے میری ہر جائز اور قانونی بات کو بسروچشم قبول کیا اور پُرامن پولنگ کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا، مگر کاؤنٹنگ کے وقت میں نے ہر سیاسی پارٹی کے ایک ایک پولنگ ایجنٹ کو اندر آنے دیا باقی سب کو پولنگ اسٹیشن سے باہر نکال دیا۔

کاؤنٹنگ کے وقت میرے ساتھی جس ووٹ پر شک کا اظہار کرتے کہ اس ووٹ کو گنتی میں شامل کرلیں یا خارج کردیں، وہ ووٹ میں بلاتامل پولنگ ایجنٹس کے سامنے رکھ دیتا کہ وہ اس کا فیصلہ کریں اور ہمیشہ وہ وہی فیصلہ کرتے جو میرے ذہن میں ہوتا تھا۔ مثلاً بیلٹ پیپر پر انگوٹھوں کے نشان تھے یا مہریں دو خانوں پر لگی تھیں یا خانوں سے باہر لگی تھیں، ان سب ووٹوں کو مسترد ہونا تھا۔ چناںچہ پولنگ ایجنٹس میرے فیصلہ سے قبل ہی ایسے ووٹ مسترد کردیتے۔ یوں میرے ساتھ پولنگ ایجنٹس کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا گیا کہ پریزائیڈنگ آفیسر کام صحیح کر رہا ہے اور ویسے بھی دن بھر جاری رہنے والے وہ میرے ہر ہر عمل سے متاثر تھے کہ نےECP (الیکشن کمیشن آف پاکستان) کے وضع کردہ قوانین پر پوری طرح عمل کیا تھا۔ کاؤنٹنگ کے وقت بھی یہی ماحول رہا۔

8بج کر 40 منٹ پر بیلٹ پیپر کی گنتی والا گوشوارہ (Form 46) اور امیدواروں کا حتمی رزلٹ (Form 45) تیار ہو گیا تھا۔ یوں سب سے پہلے فارم 45کو RTS(رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم) پر اپ لوڈ کیا اور کام یابی کے ساتھ ECP بھیج دیا۔ RTS ایک ایسا جدید سسٹم ہے جس کے ذریعے نتیجہ بیک وقت ECP اسلام آباد، نادرا، اسلام آباد، ہائی کورٹ لاہور اور متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کو ارسال ہو جاتا ہے۔ میں نے احتیاطاً واٹس ایپ کے ذریعے بھی رزلٹ کی کاپیاں ریٹرننگ آفیسر کو بھیج دیں، تاکہ غلطی کی گنجائش نہ رہے، جب کہ فارم 45 اور فارم 46- کی 10عدد کاپیاں بھی تیار کرلی تھیں، جن پر میرے اور سنیئر اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسر کے دستخط، انگوٹھوں کے نشان اور شناختی کارڈ نمبر لکھے تھے۔ میں نے وہاں پر موجود پولنگ ایجنٹس کو ان فارمز کی ایک ایک کاپی تھمادی۔

میں اب سوچ رہا ہوں کہ الیکشن 2018- کے رزلٹ میں تاخیر ہونے کی وجہ کیا ہے؟ کیوں یہ شور برپا ہے کہ ضرور کچھ دال میں کالا ہے تو اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ RTS کا الیکٹرانک نظام بیک وقت ملک بھر کے 85,000 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کی ترسیل برداشت نہ کرسکا اور بیٹھ گیا یا بٹھا دیا گیا، اس پر غور کرنا ضروری ہے۔ اس بار اساتذہ کرام اور سرکاری گزیٹڈ افسران نے تہیہ کر رکھا تھا کہ اپنی جان پر کھیل کر بھی فری اور فیئر الیکشن کروانا ہیں اور انہوں نے اس کا حق بھی ادا کیا مگر ان پر شکست خوردہ سیاست دانوں کی طرف سے دھاندلی کروانے کے الزام لگا نے انہیں ہت بڑے صدمہ سے دوچار کردیا اور وہ الیکشن کے بعد کئی دنوں تک خاصے دل برداشتہ رہے۔

دل برداشتہ تو وہ پہلے ہی تھے جب اپنی عزت و احترام کو بالائے طاق رکھ کر گرمی اور حبس کے دن اور پسینے سے شرابور ہوکر الیکشن میٹیریل وصول کیا تھا، جب کہ اس دوران ملکھانوالا کے استاد محترم ریاض انور سامان وصول کرتے وقت گرمی اور حبس برداشت نہ ہونے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جاملے تھے۔ بہرحال اب اس کا ازالہ یوں ہی ہو سکتا ہے کہ آئندہ انتخابات کے وقت کوئی ایسا سسٹم ترتیب دیا جائے کہ انتظامیہ الیکشن میٹیریل ہر پولنگ اسٹیشن پر خود پہنچا ئے اور ریٹرننگ آفیسر کے نمائندے اسی پولنگ اسٹیشن پر آکر رزلٹ بھی یہیں سے خود وصول کریں۔

رہی یہ بات کہ مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد 16لاکھ سے زائد کیوں رہی؟ تو ا س کا جواب یہ ہے کہ 85000 پولنگ اسٹیشنز میں 3لاکھ سے زائد پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے، ہر پولنگ بوتھ پر تین چار ووٹوں کا مسترد ہوجانا قدرتی امر ہے، کیوںکہ ہماری عوام میں ابھی شعور کی منازل طے کرنے کی رفتار بہت سُست ہے، جس کا اندازہ ستمبر 2018- میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں اراکین اسمبلی کے ووٹ مسترد ہونے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

عوام الناس میں شعور کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2013کے الیکشن میں مسترد شدہ ووٹ15لاکھ تھے اور 2008 کے الیکشن میں یہی مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد 9 لاکھ تھی، لیکن مسترد شدہ ووٹوں کے باوجود الیکشن کا انعقاد کروانے والے اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ غیرملکی ادارے بھی اس بار ہونے والے الیکشن کو صاف و شفاف قرار دے رہے ہیں مگر یہ بات قومی اداروں کے ماتھے پر سوالیہ نشان ضرور ثبت کر گئی ہے کہ کراچی کے ایک اسکول میں بیلٹ پیپرز کی کاپیاں کیسے پڑی رہ گئیں؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ پاکستان میں پہلی بار ہونے والے صاف و شفاف الیکشن کو متنازعہ بنانے کے لیے یہ ڈراما رچایا گیا ہو؟

تعارف

ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم ، محکمہ زراعت میں عرصہ 30سال سے گندم، جو اور گنے کی تحقیق میں بطور زرعی سائنس داں مصروفِ عمل ہیں۔ آپ PhD ڈاکٹر ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے 4000 کے قریب مضامین، کالم قومی سطح کے اخبارات و جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے الیکشن میں انھوں نے بہ طور پریزائیڈنگ آفیسر فیصل آباد کے حساس ترین حلقہ میں فرائض انجام دیے۔ یہ تحریر ان کے اسی تجربے پر مشتمل ہے۔ (ادارہ)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔