کلدیپ نیئر؛ برصغیر کے امن دوستوں کی آواز

زاہدہ حنا  اتوار 26 اگست 2018
zahedahina@gmail.com

[email protected]

ہندوستان کا روادار، انسان دوست اور مہربان چہرہ دلی کے لودھی گارڈن کریمٹوریم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں میں چھپ گیا۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں میں امن چاہنے والوں نے ایک عظیم دوست کھو دیا۔ اس شخص کا نام کلدیپ نیئر تھا۔

95 برس کی عمر میں رخصت ہونے والے کلدیپ نیئر 14 اگست 1923ء کو سیالکوٹ شہر میں پیدا ہوئے۔ وہی شہر جہاں سے اقبال کا خمیر اٹھا۔ انھوں نے اپنی صحافت کا آغاز اردو اخبار ’انجام‘ میں لکھنے سے کیا اور پھر آہستہ آہستہ وہ انگریزی میں لکھنے لگے۔

ساری زندگی انھوں نے ایک معتبر اور سنجیدہ کالم نگار کے طور پر انگریزی میں لکھا، لیکن اردو کے لیے ان کے دل میں جو ہڑک تھی وہ کبھی کم نہ ہوئی۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے پاکستان کے کئی اردو اخباروں کے لیے لکھا اور یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ آخری سانس تک وہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ سے جڑے رہے۔ ان کا وہ کالم جو 10 اگست 2018ء کو شائع ہوا، اس کا عنوان ’’71 سالہ کشیدگی بدستور برقرار‘‘ تھا۔ یہ ایک سچے انسان دوست کے قلم سے نکلی ہوئی ایک پُردرد تحریر ہے۔

وہ اگست 1947ء کی بارہویں تاریخ کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’آزادی سے 3 دن پہلے ان کے والد نے جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے، انھیں اور ان کے دوسرے 2 بھائیوں کو بلاکر سوال کیا کہ ملک کا بٹوارا ہورہا ہے، ایسے میں تم تینوں نے اپنی زندگی کے بارے میں کیا طے کیا ہے؟

میں نے بتایا کہ پاکستان میں ہی رہنا چاہتا ہوں، جیسے بہت سے مسلمان بھارت میں ہی رہیں گے۔ میرے بھائی نے، جو امرتسر میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کررہا تھا مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ مغربی پنجاب میں مسلمان ہندوئوں کو گھر خالی کرنے کے لیے کہیں گے جس طرح کہ مشرقی پنجاب میں ہندو مسلمانوں کو نکلنے کے لیے کہیں گے۔ میں نے کہا یہ کس طرح ممکن ہے، اگر ہندو گھر خالی کرنے پر تیار نہ ہوں تو؟ بھائی نے کہا ہمیں زبردستی گھر سے نکال دیا جائے گا اور ہوا بھی یہی۔

یوم آزادی کے 2 دن بعد کچھ مسلم مدبرین ہمارے پاس آئے اور ہم سے گھر چھوڑنے کی درخواست کی۔ میں نے ان میں سے ایک سے پوچھا ہم کہاں جائیں؟ تو اس نے اپنے گھر کی چابیاں دیتے ہوئے کہا۔ میرا گھر جالندھر میں ہے ، تمہیں کچھ نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ گھر میں مکمل فرنیچر موجود ہے، فوراً رہائش اختیار کی جاسکتی ہے۔ لیکن ہم نے یہ پیش کش ٹھکرادی۔ وہ لوگ جب چلے گئے تو ہم سب کھانے کی میز کے گرد بیٹھ گئے تاکہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔

میں نے کہا میں تو لاہور میں ہی رہوں گا جب کہ بھائیوں نے کہا وہ امرتسر چلے جائیں گے اور جب یہ ہنگامے ختم ہوگئے تو آجائیں گے۔ ہم نے اس پر اتفاق کرلیا، اگرچہ دل بہت دکھی تھا۔ میری والدہ نے گھر کو تالے لگاتے ہوئے کہا ہم زیادہ سے زیادہ ایک مہینے تک واپس آجائیں گے۔ لیکن انھیں ایک غیر مرئی سا احساس ضرور تھا کہ اب ہم کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ میں نے اپنے نیلے کینوس بیگ میں شرٹ اور سفری پاجامہ رکھتے ہوئے کہا ہم نئی دہلی کے محلہ دریا گنج میں اپنے ماموں کے گھر اکٹھے ہوں گے۔

میری والدہ نے مجھے 120 روپے دیے کہ ان کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کروں ۔ میرے والد نے بھی میرا سفر آسان بنادیا۔ انھوں نے ایک بریگیڈیئر سے جو ان کا مریض تھا کہا کہ ہمارے تین بیٹوں کو حفاظت سے سرحد پار کرا دو۔ اس نے کہا اس کی جیپ میں زیادہ جگہ نہیں، وہ صرف ایک بیٹے کو لے جاسکتا ہے۔ اگلی صبح مجھے جیپ میں بٹھا دیا گیا۔ اس موقع پر میرے آنسو بہہ رہے تھے۔

سیالکوٹ سے سمبڑیال کا سفر آسانی سے گزر گیا لیکن وہاں سے ہمیں ہر دو جانب سے لوگوں کے قافلے آتے جاتے دکھائی دیے۔ ہندو سکھ اِدھر سے اُدھر جارہے تھے، مسلمان اُدھر سے اِدھر آرہے تھے، اچانک ہماری گاڑی کو روک دیا گیا۔ ایک بوڑھا سکھ گاڑی کے سامنے کھڑا ہم سے التجا کررہا تھا کہ اس کے پوتے کو بھارت پہنچادیا جائے۔ میں نے بڑی نرمی سے کہا کہ میں تو ابھی اسٹوڈنٹ ہوں اور اس کے پوتے کو نہیں لے جاسکتا، جس کا مجھے افسوس ہے۔

اس بوڑھے سکھ نے روتے ہوئے بتایا کہ اس کا تمام گھرانا قتل کردیا گیا، صرف یہ ایک پوتا بچا ہے، وہ چاہتا ہے یہ زندہ رہے۔ اس کا آنسو بھرا چہرہ مجھے اب بھی یاد آتا ہے، لیکن میں مجبور تھا۔ راستے میں جگہ جگہ لوگوں کا سامان بکھرا پڑا تھا، البتہ لاشیں ہٹادی گئی تھیں، تاہم شدید قسم کی بدبو باقی تھی۔ اسی وقت میں نے دل میں یہ فیصلہ کیا کہ میں دونوں ملکوں کے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کروں گا۔

یہی بڑی وجہ تھی کہ میں نے واہگہ بارڈر پر موم بتیاں جلانا شروع کیں۔ یہ کام جو میں نے تقریباً 20 سال قبل شروع کیا تھا اس وقت صرف پندرہ بیس لوگ میرے ساتھ تھے، اب امن کی شمعیں روشن کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ لوگوں کے جذبے کی کوئی حد نہیں البتہ حکومتیں آڑے آجاتی ہیں۔ اس سارے علاقے پر کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور وہاں جانے کے لیے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔

میں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو لکھا ہے کہ موم بتیاں جلانے کے لیے ’’زیرو پوائنٹ‘‘ تک جانے کی اجازت دی جائے۔ یہ رسم صرف چند افراد تک محدود ہے۔ میری خواہش ہے کہ سرحد کو نرم کیا جائے تاکہ دونوں ملکوں میں کشیدگی بھی بتدریج کم ہوسکے۔ ماضی میں دانشور، موسیقار اور آرٹسٹ مل سکتے تھے اور مشترکہ پروگرام کرسکتے تھے لیکن آج وہ بھی بند کردیے گئے۔ حکومتیں ویزا جاری کرنے میں اور زیادہ سخت ہوگئیں۔ اب دونوں طرف سرکاری یا غیر سرکاری طور پر قطعاً کوئی رابطہ نہیں ہے۔‘‘

وہ آخری دم تک اپنے خیالات اور موقف میں اٹل رہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان وہ امن کی ایک ایسی آواز تھے جو کبھی مدھم نہیں پڑی۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے نفرت کے زہر کو ہندوئوں، مسلمانوں اور سکھوں کے وجود میں سرائیت کرتے دیکھا تھا۔ وہ اس زہر کو اپنے قلم سے نچوڑ کر پھینک دینا چاہتے تھے۔ ان کی اس امن پسندی کو ہندوستان میں اسی طرح غداری پر محمول کیا گیا جس طرح ہمارے یہاں پاکستان کے امن پرستوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور غداری کا طوق ہم سب کی گردنوں میں ڈال دیا گیا ہے۔

یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں ملکوں کی مختلف امن کانفرنسوں میں کلدیپ جی کی سرکردگی میں مجھے بھی اپنی بات کہنے کا موقع ملا۔ دلی کے آئی آئی سی ہال میں کلدیپ جی تقریر کرتے ہوئے کسی قسم کی نرمی سے کام نہیں لیتے تھے۔ ہندوستان کی راج دھانی میں بھی بات کرنے کا ان کا انداز سخت اور دو ٹوک ہوتا تھا۔ مجھے کراچی میں ان سے کئی ملاقاتیں یاد آرہی ہیں اور خاص طور پر وہ جس کا اہتمام پاکستان کے ایک امن دوست اور معروف قانون دان اقبال حیدر نے کیا تھا۔ کلدیپ جی کو متعدد گلدستے دیے گئے۔ ان کی پذیرائی میں ہم نے بہت کچھ کہا۔ اس روز بھی کلدیپ جی دونوں ملکوں کے درمیان امن قائم ہونے کی خواہش کا ذکر کرتے ہوئے گلوگیر ہوگئے تھے۔

وہ اس آرزو کو دل میں لے کر گئے لیکن زندگی کے 71 برس گزارتے ہوئے ان کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں تھا۔ اگست 1947ء میں سرحد عبور کرتے ہوئے، کٹی ہوئی لاشوں اور لُٹے ہوئے قافلوں کو دیکھتے ہوئے اس 24 سالہ نوجوان نے دونوں ملکوں کے درمیان امن قائم کرنے کا جو عہد کیا تھا، وہ اس پر ہمیشہ قائم رہا۔ یہی ان کی جیت تھی اور اسی لیے سرحد کے دونوں طرف لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ وہ انگلستان میں ہندوستان کا سفیر رہے، انھوں نے 15 کتابیں لکھیں جن میں سے ان کی خودنوشت Boyound the Lines کو بہت اہمیت حاصل ہے، کیونکہ انھوں نے اس میں بلاکم وکاست ہمارے عہد کی سیاست کے سچ لکھ دیے ہیں۔

کلدیپ جی سیاستدانوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جو بیسویں صدی کے ان برسوں میں پروان چڑھی جس کے لیے سیاست عبادت تھی۔ انھوں نے سیاست میں حصہ لیا۔ ان کا تعلق بائیں بازو سے تھا۔ مسز اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگادی تو یہ کلدیپ جی تھے جنھوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ وہ آزادی تحریر پر کامل یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مسز گاندھی کی ایمرجنسی کے دور میں انھیں جیل کاٹنی پڑی۔

وہ ایک صحافی نہیں، ادارہ تھے جس پر ہندوستان اور پاکستان کے لکھنے والے ناز کرتے تھے۔ لوگ انھیں قوم کی آواز کہتے تھے۔ اس آواز کو رخصت کرنے کے لیے سابق وزرائے اعظم، صدور، صحافی، ادیب اور انھیں چاہنے والے بے شمار لوگ لودھی کریمٹوریم میں اکٹھا ہوئے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت جب ہندوستان بہت مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ کلدیپ جی کا چلے جانا ہمارا قومی نقصان ہے۔

ان کی تحریریں روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ میں شائع ہوتی رہیں اور اخبار کے لیے عزت اور وقار کا سبب رہیں۔ مجھ ایسے لوگ اس بات پر ناز کرتے رہے کہ ہمیں اس صفحے پر چھپنے کا اعزاز حاصل ہے جس پر کلدیپ نیئر شائع ہوتے ہیں۔ یہ وہی تھے جنھوں نے امن کی خاطر واہگہ کی سرحد پر شمعیں روشن کرنے کی ریت ڈالی۔ اب وہ نہیں رہے لیکن ان کی روح ان شمعوں کی جگمگاہٹ سے امن کے راستے کو روشن رکھنے کی آرزو کرتی رہے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔