سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا کے ای ایس سی کی 650 میگاواٹ بجلی بند کرنے کا حکم

ویب ڈیسک  جمعـء 24 مئ 2013
1200 میگاواٹ بجلی سسٹم میں آجائے تولوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 7 گھنٹہ تک لایا جا سکتا ہے، سیکریٹری پانی وبجلی۔ فوٹو: فائل

1200 میگاواٹ بجلی سسٹم میں آجائے تولوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 7 گھنٹہ تک لایا جا سکتا ہے، سیکریٹری پانی وبجلی۔ فوٹو: فائل

اسلام آ باد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی وبجلی نے کے ای ایس سی  کی فوری طورپر 650 میگا واٹ بجلی بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

اے این پی کےسینیٹر زاہد خان کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی وبجلی کا اجلاس ہوا، دوران اجلاس چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی کولوڈشیڈنگ پر غلط معلومات فراہم کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے منتخب نمائندوں کوعوام سے گالیاں سننا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں 18 گھنٹےسے زائد لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جبکہ آئیسکونے تحریری جواب میں کہا ہے کہ صرف 10 گھنٹے بجلی بند ہوتی ہے۔

اس موقع پر سیکریٹری پانی وبجلی انوارالحق نے کمیٹی کوبتایا کہ 1200 میگاواٹ بجلی سسٹم میں آجائے تولوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 7 گھنٹہ تک لایا جا سکتا ہے، یہ کام کرنے کے لیے روزانہ 3 ارب روپے چاہیئں جبکہ وزارت کوصرف 5 ارب روپے ملے ہیں مزید 10 ارب روپے 28 مئی تک ملیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 40 سال پرانے پلانٹ اٹھا کرلگا دیئے گئے ہیں اگر نئے پلانٹس لگائے جاتے تو پھر بھی یہ صورتحال نہ ہوتی، پلانٹس کوئلے سے چلائے جائیں تواس سے بجلی کی قیمت بھی کم ہوجائے گی جو تقریباً 8 روپے یونٹ ہوگی، چیئرمین قائمہ کمیٹی نے نیپرا کی جانب  سے بجلی کی قیمت میں 6 روپے 80 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اس پر عملدرآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔