پاک چین تجارت کو فروغ

ایم آئی خلیل  جمعـء 24 مئ 2013
ikhalil2012@hotmail.com

[email protected]

چین کے نو منتخب وزیراعظم لی کی چیانگ اپنے پہلے غیرملکی دورے پر بھارت پہنچے۔ بھارت چین تعلقات تنازعات کے باوجود گزشتہ ربع صدی سے آگے کی سمت گامزن ہے۔ چینی وزیراعظم نے دورہ بھارت کے موقع پر 8 معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔ چین اور بھارت دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ خطے میں معاشی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے دونوں ملکوں کو تعاون بڑھانا ہوگا۔ چین جوکہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت ہے، ادھر بھارتی معیشت بھی تیزی سے معاشی قوت بنتی چلی جارہی ہے۔ پاکستان خطے میں اپنے محل وقوع کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن پاکستان کی معیشت ایک عشرے سے کمزور ہوتی چلی جارہی ہے۔ کیونکہ اسے وہ قوت میسر نہیں جسے توانائی کہتے ہیں۔

پنجاب کے مختلف شہروں میں 16 تا 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ توانائی کے اس بحران کو نواز شریف نے اپنی تقریر میں جن سے تعبیر کیا  ہے کہ اس پر کس طرح قابو پایا جائے۔ البتہ انھوں نے بھرپور مصمم ارادہ اور عزم ظاہر کیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جان لڑائی جائے گی۔ کیونکہ توانائی کے بغیر معیشت ترقی نہیں کرسکتی۔ جبکہ پاکستان کے پڑوسی ممالک بھارت، چین اور روس بھی زبردست معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

چین جوکہ عالمی معیشت میں اپنا لوہا منوا چکا ہے۔ یہ دنیا کے بہت سے ملکوں کا اہم تجارتی پارٹنر ہے۔ جن میں امریکا سمیت یورپ کے کئی اہم ممالک شامل ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب دنیا میں خصوصاً یورپ اور امریکا میں عالمی کساد بازاری کی سرد ہوا چل رہی تھی ان ہی دنوں چین نے یہ عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ سرمایہ داری کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن طریقے بروئے کار لائے گا۔ جس کے لیے چینی درآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔ کیونکہ چین کا خیال ہے کہ ان کا ملک تنہا ترقی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا چین کو ملکی اور عالمی معاشی ترقی دونوں ہی کے لیے کام کرنا پڑے گا۔ کیونکہ زیادہ وسیع معاشی و تجارتی پالیسیاں چین اور دنیا کے دیگر ممالک کے لیے مددگار ثابت ہوں گی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق چین کے وزیراعظم کے دورہ اسلام آباد کے دوران بارہ ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ یہ معاہدے اقتصادی تعاون، انرجی پروجیکٹ، کلچر سینٹر، لینگویج انسٹی ٹیوٹ اور دیگر پر مشتمل ہیں۔ یقیناً اس پر سب سے زیادہ اہمیت توانائی کے مختلف پروجیکٹس کی ہوگی۔ اس سے قبل جب سابق وزیراعظم چین پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو پاکستان میں مختلف معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے جن کی مالیت 30 ارب ڈالرز تھی۔ چند ماہ قبل گوادر پورٹ کا انتظام چین کے حوالے کیا گیا۔ چین کے بہت سے علاقے ایسے میں جو چینی بندرگاہوں سے دور ہیں، ان کے لیے گوادر پورٹ نزدیک ہے۔ چین عرب ممالک سے تیل خرید کر اپنی بندرگاہوں تک پہنچاتا ہے۔ لیکن جلد ہی تیل کا خاصا حصہ گوادر بندرگاہ کے ذریعے چین کے بعض علاقوں تک پہنچانا آسان ہوگا۔ گلگت کے قریب پاک چین سرحد پر ہر سال مئی سے تجارتی اور سیاحتی سرگرمیوں کا آغاز ہوا کرتا تھا۔

چونکہ یہ سرحد ہر سال جنوری تا 30 اپریل تک ہر قسم کی سرگرمیوں کے لیے بند کردیا جاتا ہے۔ لیکن اس سال تین ماہ کے بعد ہی سرحد کھول دی گئی ہے۔ اور یکم اپریل سے ہی دونوں جانب کی تجارتی اور سیاحتی سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں۔ گزشتہ کئی سال سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ 2010 میں چین اور پاکستان کی باہمی تجارت کا حجم 8 ارب 70 کروڑ ڈالر تھا۔ 2011 میں بڑھ کر 10 ارب 60 کروڑ ڈالر ہوگیا۔ 2012 میں ان دونوں ملکوں کا تجارتی حجم 17 فیصد اضافے کے ساتھ 12 ارب 40 کروڑ ڈالرز ہوگیا۔ جبکہ اس میں چین کے لیے پاکستانی برآمدات 48.2 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ارب 14 کروڑ ڈالرز تک رہیں اور چین سے درآمدات میں 9.9 فیصد اضافہ ہوا اور درآمدی مالیت 9 ارب 20 کروڑ ڈالرز کی تھیں۔

اگرچہ پاکستان چین کو جو اشیا برآمد کرتا ہے ان میں ٹیکسٹائل اینڈ ٹیکسٹائل آرٹیکلز، ویجیٹیبل پراڈکٹس، خام لوہا، معدنی مصنوعات، لیدر گڈز، کاٹن فیبرک، سیونگ تھریڈ، فائبر، بیڈ لینن اور دیگر سیکڑوں اشیاء شامل ہیں۔ فہرست کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ 400 سے بھی زائد اشیاء چین برآمد کی جاتی ہے۔ چین سے جو اشیاء اور مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں ان میں میٹلز وکیمیکلز پراڈکٹس، پلاسٹک کی بنی اشیاء، اسکریپ، مشینریاں، مکینیکل اپلائنسز، ٹرانسپورٹ ایکوئپمنٹ، الیکٹریکل و اسپیئر پارٹس، ٹیکسٹائل مصنوعات، ٹائر ٹیوب، پائپ، میڈیسن، پیپر، الغرض ادرک، لہسن اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ فہرست طویل ہے، اس میں ہزار سے زائد اشیاء ہیں جو چین سے درآمد کی جاتی ہے۔ دونوں ممالک اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ جلد ہی باہمی تجارت کو 15 ارب ڈالرز تک پہنچادیا جائے۔

چین بھارت باہمی تجارت کا حجم 75 ارب ڈالر سے زائد ہے، یورپ اور امریکا کے معاشی حالات کے باعث چین انڈیا کی مارکیٹ کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔ چین کے لیے پاکستانی برآمدات کا حجم کم ہے۔ اس حجم کو بڑھانے کے لیے چینی حکومت اور وہاں کے ادارے چین میں منعقدہ تجارتی میلوں اور نمائشوں وغیرہ میں پاکستانی تاجروں کو اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ خصوصی تعاون کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند سال میں چین کو پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مثلاً تازہ ترین دستیاب اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2012 سے جنوری 2013 تک چین کے لیے ہماری برآمدات کا حجم ایک کھرب 42 ارب 80 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ جو اس عرصے کے دوران ہماری کل برآمدات کا 10.6 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی مدت کے دوران برآمدی حجم کا تخمینہ 92 ارب روپے لگایا گیا تھا جو اس مدت کے دوران کل برآمدات کا 8 فیصد بنتا ہے۔

چین برآمدی تجارت میں پاکستان کا تیسرا بڑا پارٹنر بن کر ابھرا ہے۔ اسی طرح ہماری کل برآمدات میں چین کا حصہ 15.5 فیصد ہے۔ درآمدات میں اگرچہ سعودی عرب، U.A.E، اور کویت اہم ممالک ہیں۔ لیکن واضح رہے کہ ان ملکوں سے بڑے پیمانے پر تیل درآمد کیا جاتا ہے۔ اگر ہم صرف مصنوعات اور مشینریوں وغیرہ کی بات کریں تو اس ضمن میں چین ہی سرفہرست نظر آئے گا۔

پاکستان اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ چین کے لیے ہماری برآمدات میں اضافہ ہو تاکہ پاکستان کو ہونے والے تجارتی خسارے کو کم سے کم کیا جاسکے۔ پاکستانی تاجر اور صنعتکار چین کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے میں بہت دلچسپی لے رہی ہیں۔ دسمبر 2011 میں دونوں ممالک کے مابین مقامی کرنسیوں میں تجارت کا معاہدہ ہوا تھا۔ حال ہی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پیپلز بینک آف چائنا کے مابین 10 ارب یوآن اور 140 ارب پاکستانی رویے کے کرنسی سواپ ارینجمنٹ کے نفاذ سے باہمی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ فروری 2013 میں اس بات کا تہیہ کرلیا گیا کہ دونوں ممالک امریکی ڈالر کے بجائے مقامی کرنسی میں لین دین کریں گے۔ چینی حکومت کا یہ اقدام پاکستان کو مالیاتی بحران سے نکالنے میں معاون ثابت ہوگا۔

پاکستانی اور چینی تاجر تجارتی لین دین کے لیے مقامی کرنسی میں ادائیگی کریں۔ اس طرح زرمبادلہ کے ذخائر پر جو بوجھ پڑ رہا ہے وہ کم ہوجائے گا۔ اس سے قبل ڈالر کی اجارہ داری ختم کرنے کے سلسلے میں تیل برآمد کرنے والے کئی ممالک اپنے تجارتی خسارے کے پیش نظر ڈالر پر انحصار ختم کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں، اس کے علاوہ 2009 کی بات ہے، جب ایک کانفرنس میں روس، چین، فرانس اور برازیل کے درمیان ڈالر پر انحصار ختم کرنے کی بات چیت ہوئی تھی۔ چین نے عندیہ دیا ہے کہ مال کے بدلے مال کے معاہدے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ اس سے پاکستان کے لیے زرمبادلہ کی کمی کے دباؤ سے نکلنے میں آسانی رہے گی۔ چین کے ساتھ باہمی تجارت میں اضافے اور بھرپور تجارتی تعاون کے باعث پاکستانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ انھیں ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دوسری طرف چینی حکام بھی پاکستان کے ڈیفالٹ کرجانے کو مسترد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

چینی وزیراعظم کے حالیہ دورے کے تناظر میں پاکستان توانائی کے معاہدوں اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کی خاطر مقامی کرنسیوں میں لین دین کی طرف خاطر خواہ توجہ دے تاکہ پاکستان اور چین کے درمیاں باہمی تجارت میں اضافہ ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔