Pakistan Under Siege

رفیع الزمان زبیری  بدھ 29 اگست 2018

1902ء میں مسلم لیگ کے نام سے ایک سیاسی جماعت ڈھاکہ میں قائم ہوئی۔اس جماعت کا واحد مقصد مستقبل میں قائم رہنے والے آئینی نظام میں مسلمانوں کے آئینی حقوق کی ضمانت حاصل کرنا تھا۔ اسی دن سے آل انڈیا کانگریس نے اس کے خلاف ایک محاذ قائم کرلیا اور ہر حربہ استعمال کرکے یہ کوشش کی کہ مسلم لیگ اپنے اس مقصد میںکامیاب نہ ہونے پائے۔

انگریز حکمرانوں نے ظاہرا اور پوشیدہ ہرطرح ہندو اور مسلمانوں کے درمیان عناد کو ہوا دینے کی پالیسی اختیارکی کہ ان کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔ یعنی پھوٹ دلواؤ اور حکومت کرو۔ 1857ء میں وہ دیکھ چکے تھے کہ ہندوستان میں آباد ان دو فرقوں کا باہم مل جانا ان کے لیے کس قدرخطرناک ثابت ہوتا ہے۔

مسلم لیگ برصغیرکے مسلمانوں کے حقوق کے لیے لڑتی رہی اور جب یہ یقین ہوگیا کہ ہندوستان کے کسی بھی آئینی نظام میں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ نہیں ہوسکتا تو یہ فیصلہ ہوا کہ اب مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنا ہوگا۔ یہ تحریک پاکستان کی ابتدا تھی جو ایک پرعزم جدوجہد کے بعد کامیابی کی منزل پر پہنچی اور برصغیر میں ہندوستان اور پاکستان کی دو آزاد مملکتیں وجود میں آئیں۔ محمد علی جناح کی قیادت اور برصغیر کے مسلمانوں کی بھرپور حمایت تحریک پاکستان کی کامیابی کے دو عنصر ہیں۔ یہ نہ ہوتے تو شاید پاکستان کبھی وجود میں نہ آتا۔

مسعود قزلباش کا ایک دوسرا نظریہ ہے۔ وہ اپنی کتاب۔

“Pakistan Under Siege” میں لکھتے ہیں۔ ہندوستان کی آزادی اور دو مملکتوں، ہندوستان اور پاکستان کا اگست 1947ء میں قیام دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا اور برطانیہ کے مختلف مفادات کا نتیجہ ہے ۔ برصغیر کے عوام کی آزادی کی جدوجہد کا اس میں آٹے میں نمک کے برابر حصہ ہے۔

اپنی کتاب میں انھوں نے 1857ء سے لے کر ہندوستان کی تقسیم تک کے واقعات اور اس دوران میں ہونے والی سیاسی کشمکش کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد 14 اگست 1947ء سے 2015ء تک کے حالات اور واقعات کا تجزیہ کرکے وہ لکھتے ہیں ’’اگر ایک مضبوط قیادت کی رہنمائی میں پاکستان متحد نہ ہوا اور اپنی خود مختاری پر زور نہ دیتا رہا تو جس طرح ہندوستان کی آزادی اور تقسیم میں بین الاقوامی عوامل کی کارفرمائی تھی اسی طرح پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ بھی اس علاقے میں بین الاقوامی مفادات کریں گے۔‘‘

مسعود قزلباش کی کتاب کے دو حصے ہیں۔ ایک حصے میں انھوں نے آزادی سے پہلے کے واقعات کو سلسلہ وار بیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں پاکستان کے قیام سے اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ اپنے بیانیے کی ابتدا انھوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے قیام سے کی ہے۔ ابتداً یہ ایک سول سوسائٹی تھی جو 1902ء میں سیاسی پارٹی بن گئی اور اس نے ہندوستان کے ہندو مسلم تمام باشندوں کی طرف سے ملک کے نظم و نسق میں شرکت کا مطالبہ کردیا۔ محمد علی جناح بھی لندن سے آکر کانگریس میں شامل ہوگئے۔ اسی سال ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اور ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدہ شناخت اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کی صدا بلند ہوئی۔

مسعود قزلباش نے پھر ان واقعات کا ذکرکیا ہے جو ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں سنگ میل بنے اور جن کے مدوجزر میں مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ متحدہ ہندوستان میں ان کے آئینی اور سیاسی حقوق محفوظ نہیں ہوں گے۔ انگریزی حکومت نے آزادی کے مطالبے کو ناکام بنانے کے لیے سب سے پہلے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کی پالیسی اختیار کی اور پھر اسی انداز سے سیاسی اصلاحات کے ذریعے کچھ مطالبات قبول کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ جناح نے ہندو مسلم اتحادکی کوشش کی تاکہ مل کر انگریزوں کی چالوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ میثاق لکھنو اسی سلسلے کی ایک کوشش تھی۔کانگریس جو اب خالصتاً ہندو اکثریت کی نمایندگی کر رہی تھی، ہندوستان پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہی تھی، اس کی مخالفت نے آزادی کے لیے متحدہ جدوجہد کی خواہش کا خواب چکنا چورکردیا۔

ہندوستان میں سیاسی اور آئینی اصلاحات کے لیے لندن میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور ہندوستان میں برٹش راج کے نمایندوں کے مذاکرات پھر 1925ء کا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کا نفاذ ہندوستان کی آزادی کی راہ کے نشان ہیں۔ محمد علی جناح جو ہندوستان کے سیاسی حالات سے دل برداشتہ ہوکر پھر لندن چلے گئے تھے، لیاقت علی خان کے اصرار پر 1934ء میں واپس آئے اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی ۔ یہ ایک بہت اہم واقعہ مسلمانوں کی سیاسی زندگی کا تھا۔ اس کے بعد جو اہم واقعہ ہوا وہ 1940ء میں لاہور میں مسلم لیگ کے اجلاس میں منظورکی جانے والی ’’قرارداد لاہور‘‘ تھی جسے قرارداد پاکستان کہا جاتا ہے۔ یہاں سے اب مسلمانوں کی راہ آزادی کا تعین ہوا اور ان کی منزل مقصود قیام پاکستان یعنی برصغیر کے مسلمان اکثریت والے علاقوں میں ان کا ایک الگ آزاد وطن قرار پائی۔

مسعود قزلباش لکھتے ہیں ’’تاریخ دانوں نے بالعموم ان بین الاقوامی واقعات کو نظراندازکیا ہے جن کا ہندوستان کی آزادی میں بڑا عمل دخل ہے ان کا سارا زور ہندوستان کی دو مملکتوں میں تقسیم اور اس کی منطقی وجوہ تلاش کرنے پر ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی اور برصغیر پر سامراجی اقتدار کا خاتمہ دوسری عالمی جنگ کے دوران میں اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات کا نتیجہ ہے۔‘‘

وہ لکھتے ہیں کہ اگست 1941ء میں برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل اور امریکی صدر روز ویلٹ نے ایٹلانٹک چارٹرکے عنوان سے جس منشور پر دستخط کیے تھے اس کی آٹھ شقوں میں ایک یہ تھی کہ نوآبادیاتی ملکوں کے لوگوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی آزادی ہوگی۔ چرچل اس منشور پر دستخط نہیں کرنا چاہتے تھے مگر امریکی امداد کا حصول ان کی مجبوری بن گیا تھا۔ انھیں حق ارادی کا اصول تسلیم کرنا پڑا۔

مسعود قزلباش لکھتے ہیں ’’دوسری عالمی جنگ چھڑجانے کے بعد امریکا بین الاقوامی منظر پر ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا۔ فرینکلن ڈی روز ویلٹ کی اس شرط نے کہ اتحادی طاقتیں پہلے اپنا نوآبادیاتی تسلط ختم کرنے کا وعدہ کریں پھر ان کی مالی اور مادی مدد کی جائے گی، عالمی جغرافیائی، سیاسی پس منظر بدل کر رکھ دیا۔ ہندوستان کا معاملہ کوئی الگ نہیں تھا اور اس کا اظہار ان واقعات سے ہوگیا جو 1941ء کے بعد رونما ہونا شروع ہوگئے۔‘‘

وہ لکھتے ہیں ’’ہندوستان کی تقسیم کا ذمے دارکبھی جناح کو ٹھہرایا جاتا ہے اورکبھی گاندھی کو ۔ تاریخی حقیقت جیساکہ پہلے بیان کیا گیا ہے اور جو ثابت ہوگئی ہے یہ ہے کہ برطانیہ نے ہندوستان کو تقسیم کیا کیونکہ اس وقت اس کے مفاد کا یہی تقاضا تھا۔ تقسیم ہند کی ذمے داری سولہ آنے اسی پر عائد ہوتی ہے۔

14 اگست 1947ء کے بعد کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مسعود قزلباش اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’جناح نے ان راہوں کو متعین کردیا تھا جن پر پاکستان کو چلنا، آگے بڑھنا اور ترقی کرنا تھا۔ ابتدائی چند سال میں وہ اور ان کے ساتھی انھی راہوں پر چلے۔ آزاد ، خود مختار، لبرل، پروگریسیو اور ماڈرن پاکستان ان کی منزل تھی۔ جمہوری اصول، قانون کی حکمرانی، جاگیرداری اور زمینداری کا خاتمہ، برابری اور قابلیت کی بنیاد پر انتخاب اس راہ کے اہم سنگ میل تھے اور تاریخ کے پس منظر میں اچھی حکمرانی کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے چلنا تھا۔‘‘

مسعود قزلباش لکھتے ہیں کہ مقامی صوبائی قیادت کے لیے جو قدامت پرستی اور آمریت پسندی کے ماحول کی پیداوار تھی، جناح کی متعین کردہ راہ پر چلنا ایک چیلنج تھا ۔ جب اس قیادت کے ہاتھ میں اقتدار آیا تو اس نے اپنے پرانے طریقوں پر چلنا چاہا۔ ان کی راہ میں دو رکاوٹیں تھیں ۔ ایک بنگال اور اس کی اکثریت اور دوسری ترک وطن کرکے پاکستان آنے والے جو جناح کی متعین کردہ راہ پر چلنے کا عزم کرکے آئے تھے۔ جب ان دونوں رکاوٹوں کو دورکردیا گیا تو مقصد تحریک پاکستان پس منظر میں چلا گیا۔

مسعود قزلباش نے اپنی کتاب کا آخری باب پاکستان کے مستقبل پر لکھا ہے، ان کے اندیشے اور امیدیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کو بین الاقوامی اور علاقائی قوتوں کی طرف سے اس وقت جو خطرات درپیش ہیں، ان کا مقابلہ کرنے اور ان سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ایک مضبوط قیادت اور قومی اتحاد ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔