یکسوئی کیسے حاصل کریں؟

ذیشان الحسن عثمانی  جمعـء 31 اگست 2018
یکسوئی کسی کام یا شے کو مرکزی حیثیت یا توجہ دے کر کرنے کا نام ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

یکسوئی کسی کام یا شے کو مرکزی حیثیت یا توجہ دے کر کرنے کا نام ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

کسی کام پر یکسوئی و دلجمعی کےساتھ کاربند رہتے ہوئے اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دینا ایک بڑی مہارت ہے۔ آج کل کے دور میں یکسوئی یا فوکس رکھنا تقریباً نا ممکن ہو چکا ہے۔ یکسوئی کسی کام یا شے کو مرکزی حیثیت یا توجہ دے کر کرنے کا نام ہے، آپ کو صاف نظرآئے اور پورے یقین سے کام، اس کے مراحل اور انجام کو دیکھ سکیں تو یہ فوکس آپ کی بڑی مدد کرتا ہے۔

ریسرچ بتاتی ہے کہ ھم اپنے ورکنگ دورانیئے میں سے 50 فیصد حصہ غفلت میں گنوا دیتے ہیں۔ یعنی ہماری توجہ اور فوکس اس کام پرنہیں ہوتا جو ہم کر رہے ہوتے ہیں۔ اب اگر آپ 30 منٹ کا لیکچر لیں اور 15 منٹ کسی اور دنیا کی سوچوں میں گم ہوں تو خود سوچئے کتنی بات سمجھ میں آئے گی اور کتنا نقصان ہو گا۔ کتنے ہی طالب علموں کو امتحان میں دیکھا جو کہتے ہیں کہ یہ تو ٹیچر نے پڑھایا ہی نہیں تھا۔ آپ 10 منٹ کے لیے کوئی آن لائن کورس کی ویڈیو دیکھتے ہیں یا کوئی دینی بیان سنتے ہیں یا کوئی کتاب پڑھتے ہیں، اب اگر 5 منٹ بے خیالی میں گزر گئے تو کیا ہو گا؟ کتنی بار ایسا ہوا ہے کہ ہم صفحے کے آخر میں پہنچے اور کچھ یاد نہ رہا کہ اوپر ابھی کیا پڑھا ہے۔

ٹائم ٹریولنگ پر یقین نہ رکھنے والوں کو اپنے دماغ کے بارے میں سوچنا چاہئے کہ یہ ہر ہر سیکنڈ کتنے ہی سفر کرتا ہے۔ کبھی ماضی میں، تو کبھی مستقبل میں۔ آپ آفس میں کام کر رہے ہیں مگر آپ کا دماغ گھر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ آپ ملک سے باہر سیرو سیاحت میں مصروف ہیں مگرآپ کا خیال آپ کے استاد کے پاس سوال و جواب کررہا ہے۔ بچہ ابھی پانچ سال کا نہیں ہوا اور آپ کو اس کے مستقبل کی فکر کھائے جارہی ہے۔ ہم جتنا سوچتے ہیں اتنا ہی Distract (غافل) ہوتے جا تےہیں۔ یہی غفلت آگے چل کر ہمارے ہر ہر کام میں پریشانی اور نقصان کا باعث بنتی ہے۔

فرض کریں آپ ڈاکٹر ہیں اور آپ نے مریض کی 10 منٹ میں سے 5 منٹ بات ہی نہ سنی، اب تشخیس کیا کریں گے؟ آپ جج ہیں اور وکیل صفائی کی آدھی تقریر میں آپ سیاّحت میں مصروف تھے، (ویسے ٹائٹل تو فکری آوارگی بنتا ہے)۔ آپ جنگ میں جہاز لے کر دشمن ملک میں گھسے ہوئے ہیں اور یہ سوچیں آپ کو ٹارگٹ فکس ہی نہیں کرنےدیتیں۔ آپ پولیس میں ہیں اور عین ڈکیتی کے وقت آپ کا دھیان کہیں اور چلا جاتا ہے۔ اب سوچیے کہ ان حالات میں آپ کیسے کوئی درست فیصلہ کرسکیں گے؟

اگر آپ کو50 فیصد والی بات پر اعتراض ہے تو اپنی نماز ہی دیکھ لیں، اوردل پر ہاتھ رکھ کر خود سے پوچھیں کہ کتنا وقت غفلت یا بے خیالی میں گزرا؟

تو آخر ہم کیا کریں کہ یہ مسئلہ یا تو ختم ہو جائے یا کم از کم کسی حد تک اس کی دیکھ بھال کرسکیں تا کہ اس کے نقصانات سے بچا جا سکے۔

ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں آپ سے کچھ باتیں شئیر کرتا ہوں، مجھے ان باتوں سے فائدہ ہوا، شاید آپ لوگوں کو بھی ہو سکے۔

فوکس کا ڈرائیور توجہ (Attention) ہے۔ توجہ وہ فلیش لائٹ ہے کہ جس پر پڑ جائے وہی شئے روشن ہو جائے۔ آپ اپنی توجہ ہر وقت کام پر مرکوز کر دیں، فوکس خود بخود بنتا چلا جائے گا۔ ذیل میں کچھ طریقے پیشِ خدمت ہیں جو آپ کو فوکس اور توجہ میں مدد دیں گے۔

1۔ محبت

فوکس کی پہلی کنجی محبت ہے، یہ جس سے ہو جائے اس کے کاموں میں فوکس خود بخود آ جاتا ہے۔ محبت انسان کی بنیادی ضرورت ہے، یہ ہمیں نفسیاتی سکون پہنچاتی ہے۔ ہرذی روح کسی نہ کسی سے محبت کرتا ہی ہے۔ اللہ سے نہ ہو تو دنیا سے ہو جاتی ہے، صنفِ مخالف سے، مال و دولت سے، گاڑی سے، بیوی بچوں سے، عہدے سے، اپنے آپ سے۔

آپ نے کبھی نائٹ پیکیجز پر کسی کو بات کرتے دیکھا ہے؟ پوری پوری رات باتیں کرتے ہیں بغیر کسی وقفے کے، انہیں فوکس کا پرابلم کیوں نہیں ہوتا؟

کرکٹ میچ کھیلتے ہوئے فوکس کافی حد تک رہتا ہے۔ یہ دیکھیں کہ دل میں مرکزی خیال و حیثیت کس شے کی ہے۔ محبت کس سے ہے۔ اب اس کے کاموں میں فوکس خود بخود پیدا ہوجائے گا۔ اگر مرکزی خیال ہمہ وقت اللہ سبحانہ‘و تعالی ٰ کا ہے تو دنیا کے ہر کام کو کسی وقفے کی طرح کرے گا اور واپس پہنچے گا اپنے محبوب کی طرف۔ دن نماز کے وقفوں میں تقسیم ہو جائے گا کہ اصل نماز ہے باقی کام وقفوں کے درمیان، ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار۔

ہم اللہ کی طرف چلتے ہیں اور وہ ہمیں انعام یا آزمائش میں نعمتیں دیتا ہے، اور ہم اسے چھوڑ ان نعمتوں سے محبت کر بیٹھتے ہیں۔ نعمتوں پر شکر ہوتا ہے کہ اللہ نے مال، پیسہ، شہرت، علم، اولاد اور گھر گاڑی دیے ہیں، نہ کہ ان سے محبت۔ زہد نام ہی فوکس کا ہے کہ آدمی کا دل اللہ کی محبت کی وجہ سے غیراللہ کی محبت سے دستبردار ہو جائے۔ بندے اور رب کے بیچ نہ یہ دنیا آ ئے نہ اس کی محبت، نہ کوئی نعمت نہ کوئی خیال۔

شیر کی کچھار میں کوئی نہیں جاتا، جب اللہ ایک تصور سے نکل کرحقیقت کے روپ میں دل پر اترتا ہے تو یہ دنیا اوراس کی محبتیں سب خود بخود بھاگ جاتی ہیں۔

تو میں کہہ رہا تھا کہ اگرآپ کو اپنے کام، پڑھائی یا پراجیکٹ سے محبت ہے تو فوکس مل ہی جائے گا، اور اگر محبت نہیں تو معلوم کریں کہ روزمرہ کے کاموں کو کس طرح اپنے دل میں موجود مرکزی خیال سے جوڑیں گے تاکہ سارے کام ایک ہی ہو جائیں، بقول شاعر:

چمن میں اختلاطِ رنگ و بو سے بات بنتی ہے
ہم ہی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں، تم ہی تم ہو تو کیا تم ہو

2۔ TDL

دوسرا کارآمد طریقہ To-Do-List کا ہے۔ آپ روزانہ کی ایک لسٹ بنالیں۔ پچھلی رات سوتے ہوئے یا صبح فجر کے بعد کہ آج دن میں کیا کیا کام کرنے ہیں، اور انہیں فہرست کی شکل میں لکھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ اس عادت کی بدولت آپ محض کچھ کاموں سے بڑھ کر درجنوں کام کرنے کی استعداد پا لیں گے، اور ایک طرح کی موٹیویشن بھی ملتی رہے گی کہ کتنے کام ہوگئے۔ مزید آپ اس بات کا تجربہ بھی کر سکیں گے کہ دن کہاں گزرتا ہے اور کس طرح کے کاموں میں زندگی جا رہی ہے، اور یوں بہتری کی امید بندھے گی۔

3۔ کام کی جگہ اور وقت منتخب کرلیں

اپنے کام کی جگہ کا انتخاب کرلیں۔ کوئی کمرہ، کوئی گھر کا کونا، کوئی چھت یا بیسمنٹ۔ جب کوئی کام کرنا ہو، یہاں چلے جائیں اور یہ ممکن بنائیں کہ یہاں Distraction کے اسباب نہ ہوں۔ مثلاً ٹریفک کی آواز، موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹی وی وغیرہ نہ ہو۔ گھر والوں کو بھی پتہ ہو کہ جب آپ اپنے کام کے اوقات میں اپنی مخصوص جگہ پر ہوں تو سوائے ایمرجنسی کے ڈسٹرب نہ کریں۔ دوستوں کو بھی پتہ ہو کہ اس وقت جتنے چاہیں فون کر لیں، آپ نے ریسیو نہیں کرنا۔ دن میں کم سے کم دو گھنٹے تو ایسے لازمی ہونے چاہئیں۔

4۔ نیند پوری کریں

نیند پوری نہ ہونے کا براہ راست اثر آپ کی اخلاقیات پر پڑتا ہے، اور پھر آپ کے کام کی کوالٹی پر۔ کوشش کریں کہ جب سو کر اٹھیں اور طبیعت بالکل فریش ہو تو اپنی TDL پر کام کریں۔ یہ وقت عموماً فجر کے بعد کا ہوتا ہے۔

5۔ اپنے مزاج کو پہچانیں

ہر شخص کی اپنی بائیولوجیکل گھڑی ہوتی ہے۔ کسی سے صبح سویرے کام ہوتا ہے، کسی سے دوپہر یا شام کو۔ رات تو اللہ نے آرام کےلیے ہی بنائی ہے یا آخری وقت میں اس کے ذکر کےلیے۔ بالکل اسی طرح کچھ لوگ بہت سے کام ایک ساتھ کر سکتے ہیں(Multi-tasking)، تو کچھ کو فوکس کےلیے ایک کام درکار ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کو کام کے ساتھ ساتھ کچھ کھاتے پیتے رہنے کی عادت ہوتی ہے اور کچھ ہر کام سے فارغ ہوکر کام کرتے ہیں۔ آپ سے زیادہ آپ کو کوئی نہیں جانتا۔ بجائے اس کے کہ اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں، اپنے مزاج کے مطابق روٹین اپنالیں۔

6۔ کاموں کی قسمیں

کاموں کو ان کی ذات اور اقسام میں تقسیم کرلیں۔ کچھ لوگوں سے صبح سویرے Creative کام ہوتے ہیں، کسی کو استھما اور تیزابیت کی شکایت ہے تو Boot ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ وہ اخبار پڑھنے، ای میل چیک کرنے اور تمام وہ کام جن میں زیادہ دماغ نہ لگے، صبح کر لیتے ہیں اور دوپہر یا شام Creative کاموں کےلیے رکھ چھوڑتے ہیں۔

7۔ چھوٹے چھوٹے کام

بڑے بڑے کاموں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ لیں۔ اس طرح ان کا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ آپ کی TDL میں بجائے اس کے کہ کتاب لکھنی ہے، یہ کہیں بہتر ہے کہ لکھا ہو کہ آج پہلے باب کے 5 صفحے لکھنے ہیں۔ بجائے اس کے کہ لکھا ہو اچھا مسلمان بننا ہے، یہ لکھیں کہ آج ساری نمازیں وقت پر پڑھنی ہیں۔ فجر سے عشا کی 5 الگ الگ سرخیاں بنا لیں۔ پڑھتے جائیں، ٹک لگاتے جائیں۔

8۔ انعام دیں

اپنےآپ کو TDL مکمل کرنے پر انعام دیں۔ مثلاً چھوٹا سا بریک، نماز شکر کا وقفہ یا کچھ اور۔

9۔ درجہ حرارت

کمرے کا درجہ حرارت بہت ہی ضروری ہے۔ ریسرچ کے مطابق 21 درجہ سینٹی گریڈ فوکس کےلیے آئیڈیل درجہ حرارت ہے۔ ہر شخص اپنی طبیعت کے مطابق اس کا اندازہ لگا لے۔

10۔ غذا

بہت ضروری ہے کہ آپ بیلنس غذا کا استعمال کریں۔ بوفے اور خوش خوراکی کے بعد شاید ہی کسی سے کوئی بہتر کام ہو پایا ہے۔

11۔ بار بار کریں

جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ ہم 50 فیصد غافل رہتے ہیں تو ایک ہی کام کو بار بار کریں۔ دو چار بار ایک ہی کتاب کو پڑھنے یا لیکچر سننے سے وہ کافی حد تک سمجھ میں آجاتا ہے۔

اور سب سے اہم بات کہ

12۔ احتساب و تجزیہ کریں

روز رات کو اپنا احتساب کریں کہ کیا سوچا تھا، کیا کر پایا۔ ہونے والے کاموں پر اللہ کا شکرادا کریں، رہ جانے والے کاموں کو اگلے دن کی فہرست میں منتقل کریں اور توبہ کریں؛ اور پھر ان سب کا باریک بینی سے تجزیہ کریں۔ جونماز فحاشی سےنہ روکے اور منکر پر نکیر کی ہمت نہ دے تو خود ہی سوچئے کی نماز پڑھ رہے ہیں کہ ورزش کررہے ہیں۔

کچھ لوگوں کو موسیقی کی طرح علما کے بیانات سننے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ وہ جھوم جھوم کر سنتے رہتے ہیں مگر اس کا اثر طبیعت پر کچھ نہیں پڑتا۔ اگر رات کو ذکر کی توفیق نہ ملے تو دن بھر اپنے ایمان پر استغفار کرے۔ سوچے کے کونسے گناہ ہیں کہ طلب اور توفیق بھی چھن گئی۔

کام پورے کرکے نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں، مگر اپنے طور پر اطمینان کر لیں کہ آپ نے پوری توجہ اور فوکس سے انجام دیے ہیں۔

آپ سے ایک کام کی بات عرض کرو ں؟ شروع شروع میں مرکزی خیال اور محبوب پر فوکس کرنے میں کچھ محنت کرنی پڑتی ہے۔ بعد میں تو محبت خود فوکس کھینچتی ہے۔ بھرے مجمع میں، پریشانیوں کے بیچ، حتیٰ کہ موت کے وقت بھی فوکس ایک ہی جگہ رہتا ہے۔

اللہ ہم سب کو فوکس کے ساتھ زندگی گزارنے کی مہلت نصیب فرمائے، آمین!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی

ذیشان الحسن عثمانی

ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی فل برائٹ فیلو اور آئزن ہاور فیلو ہیں۔ ان کی تصانیف http://gufhtugu.com/authors/zeeshan-ul-hassan-usmani/ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ وہ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور معاشرتی موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آج کل برکلے کیلی فورنیا، امریکہ میں ایک فرم میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر ہیں۔ آپ ان سے [email protected] پر رابطہ کر سکتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔