پولیس پاسنگ آئوٹ پریڈ بدنظمی کا شکارصحافیوں کا بائیکاٹ

مقصود میمن نے آئی جی کے ہمراہ پریڈ کا معائنہ کرنے سے اے آئی جی غلام قادرکو روک دیا.


Staff Reporter May 26, 2013
پولیس ٹریننگ سینٹر رزاق آباد میں پاس آؤٹ ہونیوالے ایگلیٹ فورس کے جوان مشق کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

شہید بے نظیر بھٹو ایگلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر رزاق آباد میں17 ویں ایگلیٹ بیج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی،پریڈ میں570 جوانوں نے پاس آؤٹ کیا۔

مہمان خصوصی آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے جوانوں میں نقد انعامات اور تعریفی اسناد تقسیم کیں،تقریب کے میزبان ٹریننگ سینٹر رزاق آباد کے پرنسپل اور ایس پی اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) اے آئی جی مقصود میمن نے پریڈ کا معائنہ کرنے کے لیے جیپ میں سوار ہوتے وقت آئی جی سندھ کے ہمراہ جیپ میں سوار ہوتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام قادر تھیبو کو ہاتھ پکڑ کر روک دیا اور خود سوار ہوگئے،ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام قادر تھیبو کے دائرہ اختیار میں سندھ بھر کے ٹریننگ سینٹرز کے امور کی نگرانی و دیکھ بھال شامل ہے۔

لیکن ایس پی مقصود نے انھیں ہی جیپ میں سوار ہونے سے روک دیا جس پر ماتحت افسران میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، انعامات کی تقسیم کے وقت جب غلام قادر تھیبو آئی جی سندھ کے قریب جانے لگے تو انھیں پھر روک دیا گیا جس پر صورتحال خراب ہونے لگی تاہم غلام قادر تھیبو نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے تقریب کو سبوتاژ ہونے سے بچالیا اور ماتحت افسران کو غصے کے اظہار سے باز رکھا۔



ایس پی مقصود میمن نے پوری تقریب کے دوران آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ کو یرغمال بناکر انھیں میڈیا کی پہنچ سے بھی دور رکھا ، جب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے آئی جی سندھ سے بات کرنا چاہی تو ایس پی مقصود میمن نے ہتک آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے میڈیا کے نمائندوں کو دور ہٹاکرآئی جی سندھ کو لے کر آگے بڑھ گئے جس پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے تقریب کا بائیکاٹ کردیا۔

پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شریک اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹریننگ سینٹر میں ان پر مظالم کی انتہا ہوگئی ہے جو بھی اہلکار انتظامیہ کے غیر ضروری مطالبات پورے نہ کرے تو اسے ٹریننگ کے دوران انتہائی سخت مراحل سے گزارا جاتا ہے اور اس پر عرصہ حیات تنگ کردیا جاتا ہے جس سے وہ دلبرداشتہ ہوگئے ہیں،اہلکاروں نے بتایا کہ انھیں غیر معیاری کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور شکایت کرنے پر انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں،علاوہ ازیں ایس پی مقصود میمن نے بداخلاقی کی حدوں کو چھوتے ہوئے صحافیوں کے بائیکاٹ کے بعد پریس کلب سے صحافیوں کو ٹریننگ سینٹر لے جانے والی بس کو روک لیا اور ماتحت عملے سے صحافیوں کو کہلوایا گیا کہ اب وہ واپسی کا خود ہی انتظام کرلیں،اس صورتحال کے بعد متعدد صحافی اپنی مدد آپ کے تحت پریس کلب پہنچے۔