ڈرون حملے روکنے کیلیے امریکا سے بات کرنا ہوگی، طارق عظیم

مانیٹرنگ ڈیسک  اتوار 26 مئ 2013
قوم اور حکومت حوصلہ دکھائیں تو ڈرون حملے نہیں ہونگے، شامی،’تکرار‘ میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

قوم اور حکومت حوصلہ دکھائیں تو ڈرون حملے نہیں ہونگے، شامی،’تکرار‘ میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

لاہور: مسلم لیگ ن کے سینیٹر طارق عظیم نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں پر صرف مسلم لیگ ن ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ یہ نہیں ہونے چاہئیں لیکن یہ ڈرون حملے بند کیسے ہوں گے، اس پر امریکا کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرنے سے کوئی نتیجا نکل سکے گا۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ ڈرون حملے سے ایک دہشتگرد مرتا تو لاتعداد دہشتگرد پیدا ہوتے ہیں، اس پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ دہشتگردی کیخلاف پاکستان کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ازالے کے طور پر پاکستان کی معیشت کو بحال کیا جائے۔ افغانستان، امریکا، بھارت سب سے تعلقات کاازسر نوجائزہ لینا ہوگا۔ تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ڈرون حملے صرف دہشتگردی بڑھا رہے ہیںجب تک ڈرون حملے بند نہیں ہوتے ہماری خودمختاری بحال نہیںہوگی۔خیبر پختونخوا میں ہماری کوشش ہوگی کہ ایمرجنسی طور پر بجلی پیدا کریں۔

پیپلزپارٹی کی رہنما مہرین انور راجہ نے کہا کہ ہماری حکومت نے ڈرون حملوں کی ہر جگہ پر مذمت کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ہم ان حملوں کو نہیں مانتے، ہم ڈرون حملوں کے خلاف پچھلے5 سال میں جو کچھ کرسکتے تھے وہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ سائنٹیفک دھاندلی کی گئی جس کی وجہ سے ہمیں اس الیکشن سے باہر رکھا گیا ہے۔ تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ آصف زرداری کا خیال تھا کہ فرینڈزآف پاکستان بوریوں میں نوٹ لے کر پہنچ جائیںگے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سارے معاملات خراب ہیں اور سارے خراب معاملات کا آپس میں لنک ہے، اگر قوم اور حکومت تھوڑا حوصلہ دکھائے تو مجھے نہیں لگتا کہ ڈرون حملے ہوں گے کیونکہ ایسے  حالات خود امریکا کیلیے بھی مناسب نہیں ہوں گے۔ ہمیں اپنی لڑائی سیکیورٹی کونسل میں لڑنا ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔