تعلیمی اداروں کی من مانی، اسکول وینز حفاظتی اقدامات سے عاری، حادثات کا خدشہ

اسٹاف رپورٹر  پير 27 مئ 2013
صرف ڈپٹی کمشنر نے نوٹس لیا،اسکول اسٹیک ہولڈرزکا اجلاس طلب،اسکولوں سے ٹرانسپورٹ کی فٹنس یقینی بنانے کو کہا جائیگا فوٹو: فائل

صرف ڈپٹی کمشنر نے نوٹس لیا،اسکول اسٹیک ہولڈرزکا اجلاس طلب،اسکولوں سے ٹرانسپورٹ کی فٹنس یقینی بنانے کو کہا جائیگا فوٹو: فائل

کراچی: کراچی میں اسکولوں کے طلبا کولانے اورلے جانے والی گاڑیاں کسی قسم کے حفاظتی اقدامات سے عاری ہیں اورمحکمہ تعلیم کی عدم دلچسپی، نجی تعلیمی اداروں کی ہٹ دھرمی اور اسکول ٹرانسپورٹرزکی من مانیوں کے سبب کراچی میں بھی افسوسناک حادثہ رونما ہونے کے خدشات موجود ہیں۔

گجرات حادثے کے باوجود شہر کی انتظامیہ اور صوبائی محکمہ تعلیم کی روایتی لاپرواہی جاری ہے، سوائے ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی سیف الرحمن کے کراچی میں کسی جانب سے بھی اس معاملے کاکوئی نوٹس نہیں لیا گیا ہے، انھوں نے اس حادثے کانوٹس لیتے ہوئے اپنے ضلع میں پیشگی اقدام کے طور پر اسکولوں کے اسٹیک ہولڈرزکا غیر معمولی اجلاس آج طلب کرلیا ہے، اجلاس میں ڈائریکٹر پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ منسوب صدیقی اور پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے رہنماخالد شاہ کے علاوہ ضلعی پولیس، ٹریفک انتظامیہ، رینجرز اور سی این جی ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کو بلایا گیا ہے، اجلاس میں فٹنس سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والے وین ڈرائیوروں کوسی این جی فراہم نہ کرنے کی تجویز پر بھی غور ہوگا، واضح رہے کہ کراچی کے99 فیصد نجی اسکولوں میں چلنے والے گاڑیاں سی این جی سلنڈر پر ہی چلائی جارہی ہیں۔

ان ٹرانسپورٹرز یا ان کی گاڑیوں کی فٹنس کی ذمے داری نجی اسکولوں کی انتظامیہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتی، یہ گاڑیاں بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ یا سی این جی سلنڈرکی جانچ کے ہی اسکولوں کے معصوم بچوں کو لے کرسڑکوں پر آجاتی ہیں، بیشترگاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ بچوں کوسوار کیا جاتا ہے، سوزوکیوں میں سوار بچوں کوگرل میں بند کرکے اس میں تالاڈال دیا جاتا ہے، سوزوکی ہائی روف کی اکثریت میں سی این جی سلنڈربچوں کی سیٹ کے نیچے ہی نصب ہوتا ہے اور اکثر سلنڈر سے گیس کے اخراج کی شکایت سامنے آتی ہے، کسی بھی حادثے کی صورت میں متعلقہ اسکول سے طلبا کو لانے لے جانے والی گاڑیوں اور وین ڈرائیور سے اسکول انتظامیہ یہ کہہ کرجان چھڑالیتی ہے کہ یہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ ہے ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔

دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کی جانب سے بھی اس معاملے پرکوئی مربوط حکمت عملی تیارنہیں کی جاسکی اورنہ ہی اسکول انتظامیہ کواس حوالے سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ اسکول ٹرانسپورٹرزکواپنی گاڑیوں کی فٹنس کاپابند کریں، ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی سیف الرحمٰن نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ گجرات حادثے نے والدین اورطلبا کے ذہنوں پرگہرے نقوش چھوڑے ہیں، آج ہونے والے اجلاس میں ان کے ضلع میں چلنے والی اسکول ٹرانپسورٹ کا جائزہ لیا جائے گا اورمختلف تجاویز پرغورہوگا، اسکولوں کوخط کے ذریعے کہا جائے گا کہ وہ اپنے اداروں سے منسلک ٹرانسپورٹ کی فٹنس کویقینی بنائیں، سی این جی سلنڈراورگاڑیوں کی فٹنس کی جانچ کروائی جائے تاکہ ان کے ضلع میں اس قسم کا کوئی بھی حادثہ رونما ہونے کے خدشات نہ رہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔