معاشی استحکام کیسے ممکن ہے

ایڈیٹوریل  پير 27 مئ 2013
نئی مرکزی حکومت کو بڑے مشکل حالات کا سامنا ہو گا‘ اسی طرح صوبائی حکومتوں کے لیے ڈلیور کرنا آسان نہیں ہو گا۔۔ فوٹو: فائل

نئی مرکزی حکومت کو بڑے مشکل حالات کا سامنا ہو گا‘ اسی طرح صوبائی حکومتوں کے لیے ڈلیور کرنا آسان نہیں ہو گا۔۔ فوٹو: فائل

چند روز کے بعد نئی مرکزی اور صوبائی حکومتیں اقتدار سنبھال لیں گی اور یوں ملک میں پر امن انتقال اقتدار کا مرحلہ خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔

مسلم لیگ ن نے میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کر دیا ہے‘ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل ہے‘ لہٰذا میاں محمد نواز شریف کا وزیراعظم بننا یقینی ہے۔ صوبوں کی صورت حال بھی واضح ہے‘ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل ہے ۔لہٰذا میاں شہباز شریف ہی وزیراعلیٰ ہوں گے‘ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اکثریت میں ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی‘ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہو گی اور اب تک کی اطلاعات یہی ہیں کہ ایم کیو ایم بھی حکومت کا حصہ بن سکتی ہے۔ بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی قیادت میں مخلوط حکومت بنے گی۔

نئی مرکزی حکومت کو بڑے مشکل حالات کا سامنا ہو گا‘ اسی طرح صوبائی حکومتوں کے لیے ڈلیور کرنا آسان نہیں ہو گا۔ میاں محمد نواز شریف کے لیے پہلا چیلنج تو بجلی کے بحران کی شدت میں کمی لانا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے بیانات سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ نئی حکومت بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی لانے میں کامیابی حاصل کرلے گی۔ اس وقت توبجلی کی لوڈشیڈنگ کی صورت حال خاصی گمبھیر ہے۔ پنجاب میں لوڈشیڈنگ نے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔

فیصل آباد‘ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ جیسے کاروباری اور صنعتی شہروں میں بجلی کی طویل بندش ہو گی تو ان شہروں کی صنعتوں کا بیٹھ جانا لازمی امر ہے‘ جس سے بے روز گاری میں بھی زبردست اضافہ ہو رہا ہے‘ لوڈشیڈنگ سے تنگ آ کر گزشتہ روز تو آزاد کشمیر کے پنجاب سے ملحقہ شہر میر پور میں عوام نے مظاہرے کیے‘ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور‘ صوابی‘ مردان اور دوسرے شہروں میں بھی زبردست لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے‘ بلوچستان بھی بری طرح متاثر ہوا ہے‘ کراچی اور اندرون سندھ بھی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔

یوں میاں نواز شریف کی حکومت کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج ضرور ہے لیکن بہتر منصوبہ بندی اور گڈ گورننس کے مظاہرے سے دستیاب وسائل سے ہی اس کی شدت میں خاصی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے‘ اگر بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادائیگیاں ممکن بنا دی جائیں اور انھیں ضرورت کے مطابق تیل فراہم کردیا جائے تو صورت حال بہت بہتر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جو بجلی مفت استعمال کر رہے ہیں‘ ان علاقوں کے رہائشی انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کے دائرے سے بھی باہر ہیں‘ لیکن وہ تمام ریاستی فوائد حاصل کر رہے ہیں‘ میاں نواز شریف کو اس قسم کی بے جا رعایتوں کا بھی خاتمہ کرنا چاہیے‘ اسی طرح واپڈا اور بجلی سپلائی کرنے والے اداروں کے افسروں کو بجلی کی مفت فراہمی کی سہولت پر بھی نظرثانی ہونی چاہیے۔

افسروں کو جب اچھی خاصی تنخواہیں مل رہی ہیں‘ انھیں میڈیکل سہولت موجود ہے تو سیکڑوں یا ہزاروں یونٹ مفت بجلی کی سہولت کا کوئی جواز نہیں ہے‘ اگر واپڈا اور بجلی سپلائی کرنے والے اداروں کے افسروں کو سہولت دینی ہے تو ان کی تنخواہ میں بجلی کی مد میں تین چار ہزار روپے کی رقم مختص کر دینی چاہیے اور ان سے بجلی کا بل پورا وصول کیا جائے‘ چپڑاسی اور لائن مین تک کے چھوٹے ملازموں کو سہولت برقرار رہنی چاہیے‘ اسی طرح گریڈ انیس سے اوپر سرکاری افسروں کی بے جا سہولتوں پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔

اس طریقے سے بھی ملک کودرپیش مالی بحران کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ کاروباری طبقہ بھی واپڈا ملازمین سے ملی بھگت کر کے بجلی کے میٹروں کو آگے پیچھے کرتا ہے‘ اس پر بھی گرفت ہونی چاہیے۔ میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو ملک کے معاشی اور مالی حالات بہتر کرنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے‘ انھیں مراعات یافتہ طبقے سے ان کی استطاعت کے مطابق ٹیکس وصول کرنا ہو گا‘ اس مراعات یافتہ طبقے میں تاجر‘ صنعتکار‘ پروفیشنلز‘ نجی اسپتالوں اور اسکولوں کے مالکان‘ ڈیپارٹمنٹ اسٹورز کے مالکان‘ بڑے زمیندار‘ سیاستدان‘ قبائلی سردار اور بڑے بڑے مدارس چلانے والے علماء حضرات شامل ہیں‘ ان سب کی آمدنی کا حقیقی تخمینہ لگایا جانا چاہیے اور ان سے انکم ٹیکس‘ دولت ٹیکس‘ جی ایس ٹی‘ ایکسائز ڈیوٹی وغیرہ وصول کی جانی چاہیے۔

پاکستان میں ایک روایت ٹرسٹ قائم کرنے کی ہے‘ عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی ٹرسٹ کے ٹرسٹی اور اسے چلانے والے ڈائریکٹرز انتہائی پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں لیکن یہ بھی ٹیکس ادا نہیں کرتے‘ اس قسم کے حالات میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ملک کو درپیش معاشی بحران کی وجہ کیا ہے۔ رولنگ کلاس اور اشرافیہ جب تک اپنی آمدنی اور لائف اسٹائل کے مطابق ٹیکس ادا نہیں کرتی‘ اس ملک کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے اور نہ ہی غیر ملکی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے‘ میاں محمد نواز شریف کو اب اسٹیٹس کو توڑنا ہو گا تب ہی معاشی مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ قوم کو ان کی حکومت سے خاصی امیدیں وابستہ ہیں‘ ان کی امیدوں کو حقیقت کا روپ دے کر ہی جمہوری نظام کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔