اہل سندھ کے دل جیتنے کا لمحہ

لیاقت راجپر  پير 27 مئ 2013

الیکشن 2013 ہوچکے اس میں جو کچھ بھی ہوا سو ہوا، اب سب سیاسی پارٹیوں کو سر جوڑکر ملک اور عوام کے اہم ترین مسائل کی طرف دھیان دینا چاہیے، خاص طور پربلوچستان اور سندھ میں۔ سندھ کے اندر پی پی پی اور متحدہ قومی موومنٹ اچھا مینڈیٹ لے کر آئی ہیں اور حکومت بھی شاید دونوں مل کر بنائیں گے۔ مگر اس میں وفاقی حکومت کے حوالے سے نواز شریف وزیر اعظم بن رہے ہیں تو انھیں سندھ کے اندر جتنے بھی مسائل عوام اور صوبے کو درپیش ہیں انھیں حل کرنے میں اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت کی حیثیت سے میں انھیں یہ کہنا چاہوں گا کہ پی پی پی نے مینڈیٹ حاصل تو کرلیا ہے مگر ابھی بھی سندھ کے لوگ ان سے خوش نہیں ہیں اور نواز شریف کے پاس ابھی بھی موقع ہے کہ وہ سندھ میں رہنے والوں کے دل جیت سکتے ہیں اور صوبے کو جو کچھ نہیں ملا وہ دے کر خوشحالی لاسکتے ہیں۔

سندھ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے امن وامان کا اس میں کراچی میں دہشت گردی، لوٹ مار، اسٹرائیکس سرفہرست ہیں، لوگ گھر سے نکلتے اور گھر واپس آنے تک خوفزدہ رہتے ہیں کہ کہیں کوئی لوٹ نہ لے، کوئی مار نہ دے اور اچانک کوئی ہڑتال کی کال نہ آجائے۔ سندھ کے باقی علاقوں میں اغواء برائے تاوان، موٹرسائیکلیں لوٹنا، گھروں میں گھس کر مکینوں کو ہراساں کرکے سب کچھ لوٹ کے لے جانا، کسی کو دھمکانا، کسی کی جائیداد پر قبضہ کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ تھر کا علاقہ اور زیریں سندھ میں جرائم کے بارے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اب وہاں بھی اغواء اور لوٹ مار ہورہی ہے۔ مجھے تھر میں رہنے والے ایک بوڑھے آدمی کی بات یاد ہے جو کہہ رہا تھا کہ انھیں تھر میں ترقی نہیں چاہیے کیونکہ اب ہم امن سے رہتے ہیں پھر ہمارا سب کچھ چھن جائے گا۔

نوازشریف نے اپنے پہلے دور اقتدار کے وقت سندھ میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کرواکے اس کا کافی حد تک صفایا کردیا تھا اور سندھ کے لوگ اس سے بہت خوش تھے مگر بعد میں پھر ڈاکو ابھر آئے اور لوگ پریشان ہوگئے۔ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن سے بزنس بڑھ گیا تھا، امن اور خوشحالی آگئی تھی۔ اب بھی نواز شریف کو سب سے پہلے کریمنل لوگوں کے خلاف ایکشن لینا ہوگا چاہے اس میں منتخب نمایندے کیوں نہ ملوث ہوں۔ان کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوں کیونکہ بڑے اثرورسوخ رکھنے والے لوگ پتھارے دار بنے ہوئے ہیں اور وہ پولیس کو اپنے ساتھ ملاکر اس بزنس کو چلاتے یہں۔ ایسے لوگوں کو اپنی پارٹی میں بھی شمولیت نہ کروائیں اور اگر پتہ لگ جائے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ یہ عمل سندھ کے عوام کا دل جیتنے کا اہم وسیلہ ہے۔

دوسرے نمبر پر مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے جس سے لوگ بے حد پریشان ہیں جس کی وجہ قیمتوں میں بے جا اضافہ اور چور بازاری ہے اور جون کے بجٹ کے آنے سے پہلے اس گھناؤنے بزنس میں ملوث لوگوں نے ابھی سے ذخیرہ اندوزی شروع کردی ہے اسے روکنا ہوگا۔ اس کے علاوہ سندھ میں جو گزشتہ دو سالوں سے بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی تھی اور ہزاروں لاکھوں لوگ بے گھر اور بے روزگار ہوگئے تھے ان کا کچھ نہیں ہوا جب کہ ابھی بھی بارشوں اور سیلاب کے خطرات آگے آسکتے ہیں جسے روکنے کے لیے اور متاثرہ لوگوں کی فوری آبادکاری کرنی ہوگی۔ لوگوں کو تھوڑے تھوڑے پیسے دے کر انھیں بھکاری بنادیا گیا ہے جب کہ ان کے لیے اجتماعی امداد کی جائے جس میں انھیں روزگار بھی ملے اور وہ دوبارہ آباد بھی ہوسکیں۔

تیسرا مسئلہ ہے آبپاشی کے پانی کی صحیح اور وقت پر سپلائی کیونکہ سندھ میں زیادہ تر علاقے زرعی معیشت پر گزارا کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کو سندھ کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا اور پانی کی سپلائی میں بڑے پن کا مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ ہاری، مزدور اور ناری پھر مفلسی کی طرف چل پڑیں گے۔ پانی اتنا ہونا چاہیے کہ وہ کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں پہنچے اور ڈیلٹا سے سمندر میں جاگرے۔

چوتھا مسئلہ ہے نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کا کیونکہ سندھ کے لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان ایم اے اور بی اے کرنے کے بعد دفتروں اور سیاسی لیڈروں کے گھر کے چکر لگا کر تھک ہار چکے ہیں کیونکہ سرکاری نوکری کے لیے سفارش یا پیسہ ہونا چاہیے۔ جب انھیں نوکری نہیں ملتی تو وہ نشے اور جرم کی دنیا آباد کرتے ہیں جس سے ماں باپ اور قوم کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔

پانچواں یہ ہے کہ اقلیتی لوگوں کو تحفظ نہ ملنے کی وجہ سے کافی لوگ پاکستان چھوڑ چکے ہیں اور کچھ چھوڑ رہے ہیں جو اس صوبے کا بڑا نقصان ہے۔ انھیں تحفظ فراہم کرکے اس نقل مکانی کو دور کیا جائے تاکہ یہ لوگ ہمیشہ کی طرح صوبے کی ترقی میں اپنا رول ادا کرتے رہیں۔ اس سلسلے میں نواز شریف کو وقتاً فوقتاً سندھ کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے رہیں۔ کھلی کچہریاں منعقد کریں،عوام سے رابطہ رکھیں اور ان کے چھوٹے موٹے مسائل اسی وقت حل کردیں۔ ان دوروں کے دوران چھوٹے چھوٹے علاقوں میں پنجاب کی طرح ہوم انڈسٹریز کو ترقی دلوائیں تاکہ یہاں کے لوگ اپنی روزی روٹی عزت اور وقار کے ساتھ کما سکیں۔ اس کے علاوہ جو تعلیمی ادارے بااثر اور مجرموں کے قبضے میں ہیں انھیں دوبارہ کھول کر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد دیں۔

سندھ کے اندر جتنے روڈ یا پھر ترقیاتی اسکیمیں ہیں انھیں مکمل کرنے میں وفاقی حکومت مدد کرے اور جیسے ماضی میں منتخب نمایندے ترقیاتی کام شروع نہیں کرسکے اور رقم کا ضیاع ہوگیا یہ وفاق کو واپس بھیج دیے گئے مگر اب ضرور خرچ ہوں اور جو اس میں سستی کرتا ہے اس کے لیے وفاق ایک قانون بنائے اور ان نمایندوں پر جرمانے عائد کرے۔ اس کے علاوہ ٹیوب ویل سسٹم کو فعال بنوائیں تاکہ نہ صرف زرعی آبادی ہو بلکہ سیم اور تھور سے بھی نجات ملے اور زمینیں زیادہ زرخیز بن جائیں۔ اس میں لوگوں کو صاف شفاف پینے کا پانی بھی مل جائے گا۔

پرویز مشرف سے پہلے سندھ میں ڈی سی /ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نظام بڑا اچھا چل رہا تھا لوگوں کے مسائل ایک ہی جگہ حل ہوجاتے تھے اور ایک ڈی سی سارے اداروں کو ضلع کے اندر کنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی پاور اسے زیادہ مضبوط اور کنٹرولنگ بنائے ہوئے تھی۔ پرویز مشرف کے پروگرام میں ناظموں نے گراس روٹ لیول تک کرپشن کو پھیلادیا، ہر آدمی اپنے آپ کو جو یوسی کا ناظم ہے ایک طاقت ور سمجھنے لگا اور جو بھی فنڈ ملے اس کا کوئی حساب نہیں دیتے تھے جس سے مسائل میں اضافہ ہوا اور ناانصافی اور جانبداری بڑھ گئی۔ اس لیے سندھ میں صحیح کام چلانے کے لیے ڈی سی /ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا نظام پورے اختیار کے ساتھ نافذ کروایا جائے۔ باقی مسائل میں بجلی کا بحران سرفہرست ہے کیونکہ اس صدی میں جس طرح ہوا، پانی اور آگ اہم ہوتے تھے اب بجلی اور گیس بھی اہم ہیں۔ اس کی پیداوار کو بڑھایا جائے اور خاص طور پر سندھ میں جو کوئلے کے ذخائر ہیں ان سے جلد ازجلد فائدہ اٹھایا جائے۔ بجلی کے ذریعے ہر مسئلہ حل ہوتا ہے ورنہ ہم لوگ اس کے بغیر اپاہج ہیں۔اس کے ساتھ سندھ میں میٹھے پینے کے پانی کا مسئلہ بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے، تھر، کاچھو اور کچے کے علاقے تو اس پانی کو ترستے ہیں۔ اس پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے لوگ جو بھی پانی استعمال میں لاتے ہیں ان سے بچوں اور بڑوں میں پیٹ کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور آگے چل کر ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں جس سے ہزاروں لوگ مرچکے ہیں۔

ویسے تو کئی مسائل ہیں مگر اس میں قبائلی جھگڑے روکنا سندھ کی بڑی خدمت کرنا ہے، ان جھگڑوں کی وجہ سے نسلوں کی تباہی ہوچکی ہے۔ اسے روکنے میں سندھ کے سردار، پیر، زمیندار بڑا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس لیے نواز شریف کو چاہیے کہ اس کو ختم کرنے میں ایک کانفرنس بلائیں اور بااثر لوگوں کو قائل کریں کہ اگر لوگ ہی نہیں رہیں گے تو پھر صوبہ کیسے چلے گا؟ وہ لوگ کس سے کام لیں گے، کون ان کا حکم مانے گا، کھیت کون اگائے گا؟ یہ تو ایسا ہے جیسے ہم جس درخت کی شاخ پر بیٹھے ہیں اسے ہی کاٹ رہے ہیں۔

ہر مسئلے کا حل ہے مگر اس کے لیے انسان کا سچا ہونا ضروری ہے اور نواز شریف الیکشن سے پہلے جو سندھ والوں سے وعدہ کرکے آئے ہیں انھیں پورا کرنے کے لیے اپنے اختیارات اور صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس کی وجہ سے لوگ انھیں مدتوں تک یاد رکھیں۔

آخر میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ ملک میں قانون کی بالادستی خاص طور پر سندھ میں ہونی چاہیے اور پولیس میں جو کالی بھیڑیں ہیں انھیں نکال دیا جائے اور ان نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے جو حب الوطنی اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں، سرداروں اور وڈیروں کی سفارشوں کو ناکام بنایا جائے۔ سی این جی اور سوئی گیس کی فراہمی میں وار آن فٹنگ(War on Footing) جیسے طریقے اپنائے جائیں۔ بجلی کی پیداوار میں بھی دن رات ایک کرکے کوئی فوری انتظام کیا جائے جس سے لوگوں کو ریلیف ملے، لیکن سب سے پہلے امن وامان جو جلدی ٹھیک ہوسکتا ہے اسے صحیح کیا جائے اور مجرموں کا راستہ تنگ کیا جائے۔

اگر نواز شریف یہ مسائل اپنے دور اقتدار میں حل کروانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر آنے والے اگلے الیکشن میں سندھ سے وہ کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ لوگوں کو کسی سے اب کوئی سروکار نہیں انھیں مسائل کا حل اور ریلیف چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔