کاروباری قرضوں میں جولائی تااپریل 160 ارب روپے کا اضافہ

بزنس رپورٹر  منگل 28 مئ 2013
تعمیراتی، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج وکمیونیکیشن اور ریئل اسٹیٹ سیکٹرز نے قرضے واپس کیے.  فوٹو فائل  فوٹو: فائل

تعمیراتی، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج وکمیونیکیشن اور ریئل اسٹیٹ سیکٹرز نے قرضے واپس کیے. فوٹو فائل فوٹو: فائل

کراچی:  رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران بینکنگ سیکٹر سے کاروباری قرضوں میں 160 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا اپریل کے دوران نجی شعبے کے کاروباری قرضوں کی مالیت 160ارب روپے کے اضافے سے 2609.95ارب روپے تک پہنچ گئی، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران نجی شعبے کے کاروباری قرضوں میں 56.868 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا اور اپریل 2012کے اختتام پر نجی شعبے کے کاروباری قرضوں کی مالیت 2488.63 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال ایگری کلچر سیکٹر کے قرضے 198.449 ارب روپے سے بڑھ کر 215.858 ارب روپے تک پہنچ گئے، مینوفیکچرنگ سیکٹر کے قرضے 1389.91 ارب روپے سے بڑھ کر 1522.13 ارب روپے تک پہنچ گئے، مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سب سے زیادہ قرضے ٹیکسٹائل کے شعبے کو دیے گئے جس کے قرضوں کی مالیت جون 2012میں 490.99 ارب روپے تھی تاہم اپریل تک ٹیکسٹائل کے شعبے کے قرضے بڑھ کر 533.194 ارب روپے تک پہنچ گئے، شپ بریکنگ کے شعبے میں قرضوں کا رجحان کم رہا اور مجموعی قرضوں کی مالیت 12.602ارب روپے سے کم ہوکر 11.332ارب روپے کی سطح پر آگئی۔

بجلی گیس اور واٹر سپلائی کے لیے نجی شعبے کے قرضے 278.09 ارب روپے سے بڑھ کر 288.65 ارب روپے تک پہنچ گئے، روزگار اور معاشی نمو کے سب سے زیادہ مواقع فراہم کرنے والی تعمیراتی صنعت کو قرضوں کی فراہمی میں منفی رجحان رہا اور مجموعی قرضے 53.513 ارب روپے سے کم ہوکر 52.330 ارب روپے کی سطح پر آگئے، ٹرانسپورٹ اسٹوریج اینڈ کمیونی کیشن کے شعبے کے قرضے 111.297 ارب روپے سے کم ہوکر 104.413 ارب روپے کی سطح پر آگئے۔

ریئل اسٹیٹ کے شعبے کے قرضے 107.899ارب روپے سے کم ہوکر 109.150ارب روپے کی سطح پر آگئے، نجی شعبے میں سب سے کم قرضے صحت سماجی بہبود اور تعلیم کے شعبوں کو دیے گئے، تعلیم کے شعبے کے قرضے 6.235 ارب روپے سے کم ہوکر 4.734 ارب روپے جبکہ صحت اور سماجی بہبود کے لیے قرضے6.015 ارب روپے سے کم ہوکر 5.196 ارب روپے کی سطح پر آگئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔