فوج کا سپریم کمانڈر دہشت گرد کیسے ہو سکتا ہے، پرویز مشرف درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

آن لائن / این این آئی  منگل 28 مئ 2013
سماعت ملتوی، آئی جی کے بیٹے کوڈائریکٹربم ڈسپوزل مقرر کرنے کااعلامیہ پیش کرنیکاحکم فوٹو: فائل

سماعت ملتوی، آئی جی کے بیٹے کوڈائریکٹربم ڈسپوزل مقرر کرنے کااعلامیہ پیش کرنیکاحکم فوٹو: فائل

اسلام آ باد:  اسلام آباد ہائیکورٹ کے2 رکنی بینچ نے ججز نظر بندی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست ضمانت پر متعلقہ تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 4جون تک ملتوی کر دی۔

جسٹس ریاض احمد خان اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ سابق صدرکی درخواست میںکہا گیا ہے کہ ججز نظر بندی کیس میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی کسی دفعہ کا اطلاق نہیں ہوتا ،جو شخص مسلح افواج کا سپریم کمانڈر اور ملک کا صدر رہ چکا ہو وہ کیسے دہشتگرد ہو سکتا ہے۔

درخواست کے مطابق جن لوگوں کے بیانات کی روشنی میں چالان تیارکیا گیا وہ کسی طرح بھی متاثرہ افراد نہیں ہیں،کوئی بھی ایسا حکم یا شہادت ریکارڈ پر موجود نہیں جس سے ثابت ہو سکے کہ درخواست گزار نے ججوں کی نظربندی کے احکام جاری کیے، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 344کے زمرے میں آنے والا جرم قابل ضمانت ہے۔

لہٰذا مقدمے کے فیصلے تک درخواست گزارکی ضمانت منظورکی جائے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس محمد انورکاسی نے آئی جی اسلام آبادکے بیٹے کی بطور ڈائریکٹر بم ڈسپوزل اسکواڈ تعیناتی کیخلاف درخواست کی سماعت کے دوران عمر امین کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔