انتخابات کے بعد نئی سیاسی صف بندیاں

جنید خانزادہ  منگل 28 مئ 2013
انتخابات سے پہلے ہی کئی نشستوں پر دس جماعتی اتحاد میں اتفاق نہ ہو سکا۔ فوٹو : فائل

انتخابات سے پہلے ہی کئی نشستوں پر دس جماعتی اتحاد میں اتفاق نہ ہو سکا۔ فوٹو : فائل

حیدر آباد: جس طرح زلزلے کے بعد آفٹر شاکس آتے رہتے ہیں، اسی طرح اب عام انتخابات کے بعد بھی ’’آفٹر شاکس‘‘ کا دور چل رہا ہے، جس میں مختلف سیاسی جماعتیں، اپنے اندرونی معاملات پر توجہ کیے ہوئے ہیں۔

متحدہ اس حوالے سے خاصی نمایاں ہے۔دوسری طرف کئی سیاسی اتحاد بھی ٹوٹنے کا امکان ہے۔ جس طرح ن لیگ، فنکشنل لیگ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت علمائے اسلام (ف)، نیشنل پیپلز پارٹی، سنی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی، قومی عوامی تحریک اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی پر مشتمل اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

انتخابات سے پہلے یہ امید کی جا رہی تھی کہ دس جماعتی اتحاد سندھ میں پیپلزپارٹی کو کئی نشست پر نہ صرف مشکلات سے دوچار کرے گا، بلکہ اس اتحاد کی وجہ سے سابق حکم راں جماعت بعض نشستوں سے محروم بھی ہوجائے گی، لیکن انتخابات سے پہلے ہی کئی نشستوں پر دس جماعتی اتحاد میں اتفاق نہ ہو سکا، نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ہی ضلع میں بعض نشستوں پر مشترکہ انتخاب لڑنے والے بعض نشستوں پر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہے، جس سے خاصی مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوئی، جب کہ کئی جماعتوں نے کم نشستیں ملنے پر پہلے ہی دبے الفاظ میں واضع کر دیا تھا کہ دس جماعتی اتحاد کی بیل منڈھے نہیں چڑھے گی اور اب اس دس جماعتی اتحاد میں شامل سندھ ترقی پسند پارٹی نے اپنی راہیں الگ کر لی ہیں۔

ایس ٹی پی کے انفارمیشن سیکرٹری حیدر ملاح کے مطابق اتحادوں کی سیاست بھی سندھ کو متبادل قیادت فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ اس لیے سندھ ترقی پسند پارٹی نے سندھ کے مسائل پر عوام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر انتخابی دھاندلی کے خلاف دس جماعتی اتحاد کی جانب سے یوم سیاہ بھی موثر نہ ہوسکا، محض تعلقہ قاسم آباد میں چند گھنٹے جزوی کاروبار بند رہنے کے بعد کھل گیا۔ دس جماعتی اتحاد اگر اتفاق رائے سے سندھ کے سلگتے مسائل اور ان کا حل لے کر عوام سے رابطہ کرتیں تو شاید اس وقت سندھ بھر سے قوم پرستوں کو زیادہ ووٹ ملتے۔

انہیں زیادہ بڑی تعداد میں عوام سے رابطے کا موقع ملتا۔ دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے جھمیلے میں پڑ کر قوم پرست جماعتوں نے غلطی کی یا یہ ان کا صحیح عمل تھا یا نہیں؟اس کا فیصلہ ان جماعتوں کی مرکزی کمیٹیاں ہی کریں گی، لیکن سندھ ترقی پسند پارٹی کے ردعمل سے صاف لگ رہا ہے کہ وہ آیندہ صرف اپنے پلیٹ فارم سے کی جانے والی جدوجہد کو زیادہ وقت دے گی اور مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ نہایت سوچ سمجھ کر کیا جائے گا۔

اگر عام انتخابات میں حیدرآباد ضلع کی تین قومی اسمبلی کی نشستوں پر نظر ڈالی جائے تو ان میں سے دو متحدہ قومی موومنٹ نے حاصل کی اور ایک پی پی پی نے متحدہ کی جانب سے حال ہی میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر بنائے جانے والے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور سید وسیم حسین نے یہاں سے کام یابی حاصل کی، جب کہ پی پی پی کی جانب سے امیر علی شاہ جاموٹ سرخرو ہوئے اور مسلسل جیت کر ہیٹ ٹرک مکمل کی، جب کہ ووٹوں کے اعتبار سے متحدہ نے ضلع حیدرآباد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کا اعزاز برقرار رکھا اور تینوں قومی اسمبلی کی نشستوں پر مجموعی طور پر 2 لاکھ 89 ہزار اور 947 ووٹ حاصل کیے، جس کے بعد پیپلزپارٹی نے ان تین نشستوں پر 85 ہزار 44 ووٹ حاصل کیے، تیسرے نمبر پر سندھ ترقی پسند پارٹی رہی، جس نے این اے 221 پر امیدوار کھڑا کیا جیسے نو دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل تھی تو ایس ٹی پی کے امیدوار ڈاکٹر رجب میمن نے 18 ہزار 346 ووٹ حاصل کیے۔

تحریک انصاف چوتھے نمبر پر رہی جس کے امیدوار سید احمد رشید نے بھی این اے 221 پر نہایت حیرت انگیز طور پر 14ہزار 544 ووٹ حاصل کیے۔ پانچویں نمبر پر جماعت اسلامی کا نام رہا جس نے نو جماعتوں کے تعاون سے لطیف آباد سے 13 ہزار 498 ووٹ حاصل کیے۔ جب کہ جے یو پی نے نو جماعتوں کے تعاون سے 10990 ووٹ لے کر چھٹی پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کی چھ نشستوں میں سے چار نشستیں ایم کیو ایم نے اپنے نام کیں، جب کہ دو نشستیں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں۔ ایم کیو ایم نے خلاف توقع قاسم آباد سے 8 ہزار سے زاید ووٹ حاصل کیے۔

جب کہ مجموعی طور پر ان چھ نشستوں میں سے متحدہ نے پانچ نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے جنہوں نے مجموعی طور پر 2 لاکھ 74 ہزار 454 ووٹ حاصل کیے، جبکہ پی پی پی نے چھ کی نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے جنہوں نے مجموعی طور پر 82 ہزار 940 ووٹ حاصل کیے، لیکن حیرت انگیز طور پر پاکستان تحریک انصاف، تیسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی جن کے پانچ امیدواروں نے مجموعی طور پر 32 ہزار 506 ووٹ حاصل کیے جبکہ دس جماعتی اتحاد کے امیدواروں نے مجموعی طور پر 32854 ووٹ حاصل کیے جس میں قومی عوامی پارٹی کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے 14901، مسلم لیگ فنکشنل کے امیدواروں نے 7270، جماعت اسلامی کے امیدواروں نے 5619، جے یو پی کے امیدوار نے 2849 اور متحدہ دینی محاذ کے امیدواروں نے 4 ہزار سے زاید ووٹ حاصل کیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔