زرداری اور نواز شریف کی ملاقات، ملکی مسائل مل کر حل کرنے پر اتفاق

ملک منظور احمد  منگل 28 مئ 2013
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

اسلام آ باد: چین کے وزیر اعظم کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ایک طویل عرصے کے بعد صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے نامزد کردہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے درمیان ایوان صدر اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ملکی مسائل کو مل کر حل کرنے پر اتفاق کرنے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان کچھ عرصے سے سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے، اس وجہ سے شریف برادران اور زرداری کے درمیان خاصے فاصلے پیدا ہو گئے تھے، ایوان صدر اسلام آباد میں میاں نواز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات کو سیاسی حلقے مثبت قرار دے رہے ہیں۔ اب جبکہ عام انتخابات ہو چکے ہیں اور عوام آئندہ 5 سال کیلئے میاں نواز شریف کو مینڈیٹ دے چکے ہیں۔

حالات اور ملک کو درپیش چیلنجز کا یہ تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت اپنے اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لئے ایک ہو جائیں اور اگر سیاسی قیادت نے بردباری، افہام و تفہیم اور مفاہمت کی پالیسی اختیار نہ کی اور روایتی محاذ آرائی کا آغاز کر دیا تو لامحالہ ملک کے مسائل میں اضافہ تو ہو سکتا ہے کمی واقع نہیں ہو سکتی، مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور دوسری سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے سیاسی تلخیاں بھلا کر چینی وزیر اعظم کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ایوان صدر میں آصف علی زرداری کے ظہرانے میں شرکت کر کے بے مثال یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔

سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے چینی وزیر اعظم کے اعزاز میں منعقدہ تمام تقریبات میں شرکت کر کے دراصل اقوام عالم کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت چین کے ساتھ لازوال دوستی کے معاملے پر ایک ہے، چین کے وزیر اعظم مسٹر لی کی چیانگ نے نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر خطاب کے دوران کہا کہ پاکستانی قیادت میں داخلی معاملات پر اختلافات ہو سکتے ہیں، چین کی دوستی پر یہ سب لوگ متفق ہیں، چین کے وزیر اعظم نے ایک ایسے وقت پر پاکستان کا دورہ کیا ہے۔

جب عام انتخابات کے نتیجے میں ملکی تاریخ میں پہلی بار پُرامن انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل ہونے والا ہے، چین کے وزیر اعظم جو حال ہی میں اس منصب پر فائز ہوئے ہیں، نے اپنے اولین دورے کے دوران ان چند ممالک میں پاکستان کو شامل کیا ہے جن ممالک کا وہ دورہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کے قابل قدر دوست چین کے وزیر اعظم کا پاکستان میں فقید المثال استقبال دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے لازوال رشتوں کی عکاسی کرتا ہے، ایوان صدر اسلام آباد میں ایک چھت تلے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت براجمان تھی جس سے ملی یکجہتی کی عکاسی ہو رہی تھی، نامزد وزیر اعظم میاں نواز شریف ایوان صدر اسلام آباد میں ایک پُرشکوہ اور پُروقار تقریب کے دوران جون کے پہلے ہفتہ میں ملک کے تیسری بار وزیراعظم کا حلف اٹھا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کریں گے، میاں نواز شریف پاکستان کی طویل سیاسی اور جمہوری تاریخ میں تیسری بار وزیر اعظم بننے والی پہلی شخصیت بن جائیں گے۔

اس سے پہلے 3 مرتبہ وزیر اعظم بننے کا اعزاز کسی سیاستدان کو حاصل نہیں ہو سکا، ایوان صدر اسلام آباد کی طرف سے نامزد وزیر اعظم میاں نواز شریف کو تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی جمہوری نظام کے استحکام کیلئے اہمیت کی حامل ہے، بعض حلقے یہ خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ میاں نواز شریف اقتدار سنبھالنے کے بعد آصف علی زرداری سے استعفیٰ کا مطالبہ کر سکتے ہیں، میاں نواز شریف نے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ملاقات میں یہ موقف دہرایا ہے کہ آصف زرداری ملک کے منتخب صدر ہیں اور منتخب صدر سے استعفیٰ طلب کرنے کا مطالبہ نہ کیا اور نہ کریں گے، یہ ان کی سیاسی پختگی کا آئینہ دار ہے۔ اب جبکہ میاں نواز شریف ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر آئندہ ہفتہ عنان اقتدار سنبھالنے والے ہیں۔

حالات و واقعات اور درپیش لاتعداد چیلنجز اس امر کے متقاضی ہیں کہ سیاسی تخلیاں فراموش کر کے یہ سیاستدان ملک کی ترقی کے لئے ایک مشترکہ روڈ میپ اختیار کریں اور تصادم کے راستے کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کریں ورنہ درپش چیلنجز سے اکیلے حکمران نبردآزما نہیں ہو سکتے، قومی اسمبلی میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن دن بدن مستحکم ہو رہی ہے، 18 آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 144 ہو گئی ہے اس طرح مسلم لیگ (ن) کو ایوان میں سادہ اکثریت مل گئی ہے اور باور کیا جا رہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے ساتھ یہ تعداد 181 تک پہنچ جائے گی، مسلم لیگ (ن) کو 32 کے قریب مخصوص نشستیں بھی مل جائیں گی۔ ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد میں اضافہ سے قانون سازی کیلئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو دیگر جماعتوں پر کم انحصار کرنا پڑے گا، سادہ اکثریت کے حصول کے بعد ظاہری طور پر اب مسلم لیگ (ن) کو کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ مخلوط حکومت سازی کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو مرکز میں حکومت سازی کے عمل میں شرکت کی دعوت دی تھی جس کے بعد دونوں جماعتوں کی قیادت نے مذاکراتی کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی ہیں اور ان کمیٹیوں کے درمیان حکومت سازی کے معاملے پر بات چیت بھی ہوئی ہے مگر تاحال اس بات چیت کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا، مسلم لیگ (ن) کے اندرونی حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کسی کے سہاروں پر مرکز میں حکومت سازی نہیں چاہتی، مولانا فضل الرحمن پر چوہدری نثار علی خان سمیت دیگر لیگی رہنماؤں کو شدید تحفظات ہیں، مگرمولانا فضل الرحمن اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے، وہ سابق صدر پرویز مشرف اور موجودہ صدر آصف علی زرداری کے ادوار میں اقتدار میں رہے ہیں، غالب امکان ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت مولانا فضل الرحمن کو ان کی پسندیدہ قومی کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ دے دیں اور انہیں وزیر کی مراعات حاصل ہو جائیں۔

وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل ہی میاں نواز شریف نے غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے کیلئے اقدامات کرنا شروع کر دیئے ہیں، باخبر حلقے کہہ رہے ہیں کہ نئی آنے والی حکومت وزارتوں کا حجم 40 سے کم کر کے 25 کے قریب لانے کا ارادہ رکھتی ہے اور بہت سارے محکمے ختم کر دیئے جائیں گے، غیر ترقیاتی بجٹ کو 30 فیصد تک لانے کی حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے اس فیصلہ سے بیورو کریسی کے حجم میں بھی کمی لائی جائے گی، ماضی میں حکومت نے ارکان اسمبلی اور وزراء کو کھپانے کی خاطر ایک وزارت کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا تھا جس کی وجہ سے قومی خزانے پر بہت بوجھ پڑ گیا تھا اب یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ بعض وزارتوں کو اصلی شکل میں بحال کیا جائے گا۔

میاں نواز شریف اس بار گڈ گورننس کیلئے اہم فیصلے کرنے جا رہے ہیں، ان سے لوگوں کو پہلے سے زیادہ توقعات ہیں اور یہ باور کیا جا رہا ہے کہ وہ اس مینڈیٹ کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس ملک کی بہتری کے لئے عملی طور پر ڈلیور کریں گے، نسبتاً ایک مختصر کابینہ کے ساتھ وہ امور مملکت چلانے کا عزم رکھتے ہیں ، سیاسی مبصرین مسلم لیگ (ن) کی سادہ اکثریت پر اس لئے بھی اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں کہ مخلوط حکومت کے قیام سے ہمیشہ ایک جہاز نما کابینہ تشکیل دی جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر اتحادی جماعتوں کی سیاسی بلیک میلنگ سے بھی میاں نواز شریف محفوظ رہیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔