آنے والا بجٹ اور ہم عوام

کشور زہرا  منگل 28 مئ 2013

ایک عام انسان تو کیاکاروبار سے وابستہ بہت سے لوگ  بھی اعداد و شمار کے اُن گورکھ دھندوں تک نہیں پہنچ پاتے جو موٹی موٹی کتابوں میں ان گنت ہندسوں کے ساتھ مزین ہوتا ہے۔ اس بجٹ کا لُب لباب صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم اس سال اتنے خسارے میں ہیں۔ جب کہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ برس کا بجٹ پورا خرچ ہی نہیں ہو پایا اور خصوصاً 18ویں ترمیم پاس ہونے کے بعد تو اس کی رفتار اور بھی سست ہو گئی، وہ اختیارات جو صوبوں کو دیے گئے تھے وہ ہاتھ پھیلاتے ہی رہ گئے، جب کہ صوبے پابند ہیں کہ پہلے کما کر مرکز کو دیں پھر مرکز انھیں استعمال کے لیے دے گا، اور اس تمام مشق کے لیے 11 مہینے یقینا ناکافی ہیں۔

یہی صورتحال بجٹ کو پاس کرنے کی مدت کے حوالے سے ہے کہ 18کروڑ سے زائد آبادی کے لیے بجٹ پیش ہونے کے بعد پارلیمنٹرینز کو محض 3 ہفتے دیے جاتے ہیں جو بحث برائے بحث کے لیے بھی ناکافی ہیں چہ جائیکہ بگڑی ہوئی معیشت کے لیے کوئی راہ نکالی جا سکے۔ بد نصیبی یہ بھی ہے کہ بجٹ بنانے والے اعلیٰ گریڈ  کے  لاکھوں میں تنخواہیں اور مراعات لینے والے افسران کیا جانیں اگر آٹا مہنگا ہو گیا تو پورے مہینے روٹی بھی کھانے کو ملے گی یا نہیں، دوا مہنگی ہو گئی تو عام شہری زندگی کیسے بچے گی؟  ہر سال کے بجٹ میں پالیسیز گھڑے کی اُس مچھلی کی طرح ہوتی ہیں کہ اگر اچھلے بھی تو واپس گھڑے میں ہی گرتی ہے، اس چُنگل سے نہ نکلنے کی دو اہم وجوہات ہیں ، حکومتوں کے غیرذمے دارانہ رویے اور عوام کی کم آگہی۔

ماضی میں حکومتوں نے وقتی طور پر مسائل کے حل کے لیے پروڈکشن کو نظر انداز کیا اور ٹریڈ پر فوکس کر کے ایسے ناعاقبت اندیش فیصلے کیے جس سے صنعت کا ڈھانچہ ہی بیٹھ گیا، توانائی کے بحران نے پروڈکٹ مہنگی کر دی تو دوسری جانب درآمدی ڈیوٹیز کم کر دی گئی جس کے نتیجے میں کارخانے بند ہوئے، مثال کے طور پر جس فیکٹری میں 400 لوگ کام کرتے تھے اس نے ٹریڈ پالیسیز کو دیکھتے ہوئے بہتر جانا کہ وہ اپنی فیکٹری بند کر کے ہول سیل کے کاروبار میں چلا جائے جہاں ایک چھوٹی سی دکان یا دفتر جس میں 4 سے 6 ملازمین رکھ کر بنی بنائی اشیاء درآمد کر لی جائیں، اس کے نتیجے میں سیکڑوں کارخانوں میں کام کرنے والے ہزاروں لوگ بے روزگاری کا شکارہوئے۔ غربت و بے روزگاری نے انسان کو ایسے اندوہناک مصائب کی جانب دھکیلا جن میں بچے فروخت ہوئے یا انھیں دو وقت کی روٹی اور چند کپڑوں کے عوض ماں باپ نے ایسی درسگاہوں میں ڈال دیا جہاں وہ دہشت گرد بن کر ملک کی سا  لمیت کے لیے خطرہ بن گئے اس سے بھی معاشی تباہی ہوئی۔

اسی طرح جب بنیادی ضروریات پوری نہ ہوئیں تو ان کے حصول کے لیے دولت کمانے کے ناجائز طریقوں کو فروغ حاصل ہوا، پیٹ کی آگ بجانے کے لیے جرائم بھی عام ہوئے۔ دوسری جانب عوام میں آگہی کا فقدان ہے اگر عوام سمجھ لیتے اور اٹھ کھڑے ہوتے تو شاید انا ہزارے جیسی ایک تحریک یہاں بھی جنم لیتی۔ لیکن ہمارے عوام کے شعور کو ایک مخصوص خول میں بند کر دیا گیا کہ وہ  بھوک کے سبب کمر سے لگے پیٹ کو پکڑ کر سیاست کے الاپے جانے والے راگوں میں الجھے نظر آتے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ آپ اخبار اٹھا کر دیکھ لیں، صفحہ اوّل سے صفحہ آخر تک سیاست کی جگل بندیاں، کھیلوں کے میدان،دانشوروں تجزیہ نگاروں اور مبصرین کے پُر مغز تبصرے اور مباحثے اور یہی صورتحال ٹی وی چینلز پر خواہ خبریں ہوں یا اینکرز کے تبصرے و ٹاک شوز ان میں کہیں بھی کچن سے لے کر ایوانوں تک ماسوا چند ایک کے بگڑی ہوئی معیشت کو کسی بھی پیمانے پر سدھارنے کے لیے کوئی بات نہیں کی جاتی۔

معاشی مسائل کا ذکر تو بہت ہے لیکن اس کا حل ندارد ۔ الغرض معاش اور فکر معاش کے مضامین کو قاری اورناظر کے دل و نگاہ سے کوسوں دور کر دیا گیا، یہی وجہ ہے کہ ایک عام آدمی بھوک سے بلبلا تو اٹھتا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ اگر ایک روٹی ہے تو آدھی کھا لی جائے اور آدھی آنے والے کل کے لیے بچا لی جائے،بجائے اس کے یہاں اس کی خواہش ایک کی جگہ چار کے حصول کی ہوتی ہے،   have or haven’t،  والے دونوں طبقوں میں ایک مقابلے کا ماحول رہتا ہے اور یہی وہ ناعاقبت اندیشی ہے جس کی وجہ سے کہ ہم آنے والی کل کو بھول کر صرف آج کودیکھ رہے ہوتے ہیں۔اس کی ایک ایک مثال دونوں طبقوں کی اٹھا لیجیے کہ ہمارا رسم و رواج ہے کہ اس غریب کو جس کے گھر میں پیٹ بھر کھانے کو نہیں، بیٹی بیاہنے کے لیے بہت کچھ دینا ہوتا ہے، خواہ وہ قرض سے کیا جائے، بھیک سے یا چوری سے۔

دوسری جانب رواں دواں دولت والے طبقوں میں ہونے والی شادی میں ان گنت روزانہ ہونے والی رسموں اور ان میں سجے شاہی دستر خوانوں کے علاوہ لاکھوں کی مالیت کے دلہن کے لباس اور زیورات۔۔۔ ایسے میں مجھے کامل یقین ہے اس تقریب کو سجانے والے جو بھی ہوں انھوں نے اپنے کاروبار کے لیے بینک سے رقم لی ہو گی اور بینک نے اسٹیٹ بینک سے اور اسٹیٹ بینک نے عالمی مالیاتی اداروں سے۔۔۔یہی صورتحال اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری افسران کی ہے کہ ان کی تنخواہ حکومت سے اور حکومت مقروض عالمی طاقتوں کی۔ ’’کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں‘‘۔ ہمیں اس وی آئی پی کلچر کو ختم کرنا ہو گا تبھی قرض ہائے قرض کے اس گرداب سے ہم نکل سکیں گے، ہر روز کچن سے لے کرشب و روز کی دلچسپیوں تک اپنے اخراجات کو اپنی جیب کا پابند کرنا ہو گا، اپنی چادر دیکھ کر پائوں پھیلانا ہو گا، اور اب وطن عزیز کی معیشت ایک تار تار چادر کی مانند ہی ہے جس میں مزید پیوند لگنے کی بھی گنجائش نہیں۔اب ہمیں اپنی اپنی ذمے داریوں کو خوب سمجھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔

بجٹ آنے سے قبل ہمیں تیاری اور فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس میں عوام کے لیے کیا ہے؟

اگر مثبت تو Accept، وگرنہ Reject  کا یہ سلسلہ ٹوٹے گا کہ حکومتیں اور عوام اپنی اصلاحات اور محاسبہ خود کریں اور خصوصی طور سے اپنی سمجھ سے پہلے اپنے طریقۂ زندگی کو درست کریں، دوسری طرف روایتی تعلیم کا جائزہ لیں تو آرٹس کے نصاب سے ریاضی کو نکال کر الگ گروپ تشکیل دے دیا گیا کہ جیسے اس کی ضرورت ہی نہ ہو جب کہ زیر تعلیم بیشتر طلبہ اسی گروپ سے ہیں۔

اس میں منصبِ اقتدار پر بیٹھے لوگ بھی قصور وار ہیں کیونکہ عوام میں پیدا ہونے والی آگہی ان کے اقتدار کی سیڑھیوں کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے لیکن ساتھ ہی سول سوسائٹی کی معاشی بہتری ضروری ہے،چین کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات بہت گہرے ہیں، لہٰذا پاکستان چین میں ہونے والی ترقی سے فائدہ اٹھا کر تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ افغانستان، وسطی ایشیاء تک پاکستان کو اپنے تجارتی تعلقات وسیع کرنا ہوں گے، ان ممالک میں تجارتی ترقی کے بے شمار مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر پاکستان سالانہ اربوں ڈالر کا زر مبادلہ کما سکتا ہے۔

٭  ہم پھلوں، ڈیری اشیاء، تیار ملبوسات، لیبر آئیٹمزماربل، چاول، مچھلی، شیشے اور دستکاری سے تیار کردہ اشیاء اور بہت سے آئیٹمز برآمد کرنے پر توجہ دیں۔

٭تجارت کا حجم بڑھ سکتا ہے، نئی منڈیاں تلاش کر کے توانائی جیسے شعبوں میں تعاون سے عوامی بہبود کے ذرایع پیدا ہوں گے۔

٭ پاکستان میں ٹیکس اصلاحات اور اخراجاتی اصلاحات کا نفاذ کرنا ضروری ہے، پاکستان کی معاشی ترقی کا فی حد تک کراچی میں امن و امان سے وابستہ ہے۔

٭اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک جلد ہی ترقی کی شاہراہ پر رواں دواں ہو جائے گا اور عوام کی خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا جس کے لیے انھوں نے انتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔