کے ای ایس سی اور سوئی سدرن میں ادائیگیوں کا تنازع طے پا گیا

بزنس رپورٹر  بدھ 29 مئ 2013
ایس ایس جی سی کے ایم ڈی ظہیر صدیقی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ کے ای ایس سی پر 27 سے 28 ارب روپے کے واجبات ہیں. فوٹو: فائل

ایس ایس جی سی کے ایم ڈی ظہیر صدیقی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ کے ای ایس سی پر 27 سے 28 ارب روپے کے واجبات ہیں. فوٹو: فائل

کراچی:  کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے درمیان بقایا جات کی ادائیگی کا تنازع طے پاگیا ہے کے ای ایس سی کرنٹ ادائیگیوں کے ساتھ27 ارب روپے کے واجبات میں سے بھی30 فیصد ادا کرے گی ۔

جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے ای ایس سی کو 220 ایم ایم سی ایف گیس فراہم کریگی،ایس ایس جی سی کے ایم ڈی ظہیر صدیقی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ کے ای ایس سی پر 27 سے 28 ارب روپے کے واجبات ہیں، پیر کی شام گورنر ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں دونوں کمپنیوں نے کراچی کے صارفین کے مفاد میں ادائیگیوں کا شیڈول طے کرلیا ہے جس کے تحت کے ای ایس سی کرنٹ بلوں کی ادائیگی کے ساتھ سابقہ واجبات بھی ادا کرے گی۔

انھوں نے بتایا کہ کے ای ایس سی کو گیس کی فراہمی بڑھادی گئی ہے اور پیر کی شب سے کے ای ایس سی کو 180ایم ایم سی ایف گیس فراہم کی گئی جو منگل کے روز بڑھ کر215 ایم ایم سی ایف تک آگئی انھوں نے بتایا کہ ادائیگیوں کے شیڈول پر رضامندی کے بعد کے ای ایس سی کو گیس کی فراہمی بڑھادی گئی ہے جس سے یقیناً کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کمی واقع ہوگئی،کے ای ایس سی گزشتہ 15ماہ سے کرنٹ بلوں کی ادائیگی کررہی ہے،سندھ کی گیس پنجاب کو دیے جانے کے بارے میں ایک سوال پر ظہیر صدیقی نے کہا کہ دونوں کمپنیاں ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کو گیس فراہم کرتی ہیں۔

اس وقت ایس ایس جی سی کو 250 ایم ایم سی ایف گیس کی کمی کا سامنا ہے گیس کی سپلائی 1150ایم ایم سی ایف جبکہ طلب1350ایم ایم سی ایف ہے صنعتیں350 ایم ایم سی ایف جبکہ سی این جی سیکٹر 100ایم ایم سی ایف گیس یومیہ استعمال کررہا ہے،رواں سال کے آخر تک ایس ایس جی سی کے سسٹم میں مزید 60سے 70ایم ایم سی ایف گیس کا اضافہ ہوجائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔