دل، مگر کم کسی سے ملتا ہے۔۔۔۔۔۔!

عبداللطیف ابو شامل  اتوار 9 ستمبر 2018
ایک چھوٹے سے آئینے میں وہ اپنی شکل دیکھ کر خود کو تھپڑ مارتا رہتا۔ فوٹو: فائل

ایک چھوٹے سے آئینے میں وہ اپنی شکل دیکھ کر خود کو تھپڑ مارتا رہتا۔ فوٹو: فائل

 قسط نمبر 11

اکبر بھائی انتہائی وجیہہ، بلند قامت، گورے چٹے اور مضبوط جثے کے ملن سار انسان تھے۔ وہ اپنی صحت کا بے حد خیال رکھنے کے ساتھ انتہائی خوش خوراک بھی تھے۔ انسان کو اپنی صحت خیال رکھنا چاہیے اس لیے کہ پھر وہ سب کچھ کرسکتا ہے، اگر وہ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھے گا تو پھر کوئی کام نہیں کرسکے گا اور دوسروں کا محتاج ہوجائے گا، اور یہاں کسی کو بھی اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ دوسروں کا روگ پال لے، ایسی ہی باتیں وہ اکثر کرتے رہتے تھے۔ آدمی کماتا کیوں ہے، کھانے کے لیے تو کماتا ہے ناں، ان کا نصب العین تھا۔ وہ انتہائی خوش لباس تھے۔

ان کے کپڑوں پر کوئی شکن نہیں ہوتی تھی۔ سفید اور نیلا ان کے پسندیدہ رنگ تھے۔ دانتوں کو صاف کرنے کے بعد وہ ان پر لیموں کا رس لگاتے تو میں ہنستا تو کہتے تُو جنگلی کیا جانے اس کے فوائد۔ لیکن بعد میں مجھ پر کھلا کہ وہ یہ سب کچھ خواتین کو رجھانے کے لیے کرتے تھے۔ دن بھر مزدوری کے بعد وہ رات گئے تک پڑھتے، ان پر ایک اچھا وکیل بننے کی دُھن سوار تھی اور وہ اپنے اس مقصد میں کام یاب بھی ہوئے۔ ان کی بھی وہی کہانی تھی جو دیگر پردیسیوں کی ہوتی ہے۔

وہ جھنگ کے قریب ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔ اپنے والدین کی پہلی اولاد، اس کے بعد ان سے چھوٹے پانچ بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ جب انہوں نے ہوش سنبھالا تو انہوں نے دیکھا کہ گزر بسر بہ مشکل ہو رہی ہے اور والد بھی اب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں صرف آرام ہی کیا جاسکتا ہے۔ اپنے والدین اور چھوٹے بھائی بہنوں کی کفالت کی ذمے داری سنبھالنے کے لیے انہوں نے کراچی کا رخ کیا۔ جھنگ سے دسویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد یہاں آکر محنت مزدوری کرنے کے ساتھ ایک کالج میں پڑھنے لگے۔

وہ رہتے تو ہماری گلی میں ہی تھے اور تنہا۔ پھر جب استاد جی چلے گئے تو میں اسی گلی میں ایک کوارٹر میں رہنے لگا۔ ہم گلی میں آتے جاتے ایک دوسرے کو دیکھتے تھے، بس واجبی سا تعارف اور دعا سلام۔ استاد جی کے پنجاب جانے کے بعد دکان بند ہوگئی تھی تو میں نے ایک ٹیکسٹائل مل میں کپڑا تہہ کرنے کی مزدوری شروع کی تو وہ مجھے وہاں مل گئے تو معلوم ہوا کہ وہ بھی اُسی مل میں ملازمت کرتے ہیں۔

پھر ان سے ایک مضبوط رشتہ بنتا چلا گیا اور ان کے اصرار پر میں ان کے ساتھ ہی رہنے لگا تھا، ساتھ رہنے میں بچت بھی تھی کہ ہم کرایہ آدھا کر لیتے تھے۔ اور پھر صرف رات گزارنے کے لیے تو ہمیں جگہ درکار تھی ورنہ تو ہمیں اپنی مزدوری اور آوارہ گردی سے ہی فرصت نہیں تھی۔ میں انہیں بھائی جان کہتا تھا، صرف کہتا نہیں بل کہ ان کا اسی طرح احترام بھی کرتا تھا، مجھے یہ کہنے میں ذرا سا بھی تعامل نہیں کہ انہوں نے ایک حقیقی بڑے بھائی کی طرح ہمیشہ میرا خیال رکھا، بل کہ اس سے بھی بڑھ کر۔ میری ہر سرگرمی پر ان کی نگاہ تھی، میرے سوالات اور دیگر حرکات سے تنگ بھی تھے، میں ان سے الجھتا بھی تھا لیکن انہوں نے ہمیشہ یہ سب کچھ خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ سب سے زیادہ وہ میرے روز قبرستان جانے سے شاکی تھے اور اکثر کہتے، تجھ میں کوئی ہزار سال کی بوڑھی روح رہتی ہے، جو تجھے چین سے نہیں بیٹھنے دیتی، زندوں کا کیا کام مُردوں سے بھلا۔ آپ یہ راز نہیں سمجھ سکتے بھائی جان ہمیشہ میرا جواب ہوتا۔

اکبر بھائی بہت اچھے انسان تھے، محنتی، جفاکش اور ملن سار اور ہر ایک کے کام آنے والے، پنج وقتہ نمازی، صبح سویرے اذان سے بہت پہلے وہ مسجد پہنچتے اور تلاوت کرتے تھے، رمضان میں انتہائی اہتمام سے پورے روزے رکھتے۔ سارے محلے میں وہ انتہائی احترام سے دیکھے جاتے، ان کی بات توجہ سے سنی جاتی اور ان کے مشوروں پر عمل بھی کیا جاتا تھا۔ محلے کا کوئی بھی نوجوان کسی بھی وقت ان سے اپنی پڑھائی میں مدد لے سکتا تھا اور اس پر وہ خوش بھی ہوتے اور دیگر نوجوانوں کو بھی پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے۔

وہ پورے محلے میں انسانی روپ میں ایک عظیم فرشتہ سمجھے جاتے تھے۔ لیکن جب میں ان کے ساتھ رہنے لگا تو مجھے ایک نئے اکبر بھائی کا سامنا تھا۔ وہ اتنے مذہبی ہونے کے باوجود انسانی کم زوریوں کا مجموعہ بھی تھے۔ وہ اپنے کام سے واپس آکر کہیں ٹیوشن پڑھاتے تھے۔ اسی دوران انہیں کسی لڑکی سے محبت ہوگئی تھی اور وہ اس سے شادی کرنے کا وعدہ کرکے بہت دُور نکل گئے تھے، اتنی دُور جہاں سنگین سماجی نتائج ان کے منتظر تھے۔ انہوں نے بہت کوشش کی لیکن ان کے والدین اس رشتے پر آمادہ نہ ہوئے، پھر مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس معصوم لڑکی سے کس طرح پیچھا چھڑانے میں کام یاب ہوئے۔ لیکن اس کے بعد وہ اس دلدل میں دھنستے ہی چلے گئے اور ان کے بہت سی خواتین سے تعلقات قائم ہوگئے تھے، وہ اکثر اس بازار بھی جاتے تھے۔ میں نے انہیں اپنی دانست میں بہت سمجھایا، وہ کچھ دن کے لیے مان بھی جاتے لیکن اپنی اس لت سے وہ دور نہ ہوسکے۔

کسی قسم کی محنت مزدوری سے وہ کبھی نہیں گھبرائے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل مل میں لومز چلائیں، کپڑا تہہ کیا اور نہ جانے اس طرح کے کئی کام، وہ سرمایہ داروں کے سخت خلاف تھے اور تنہائی میں اکثر انہیں ننگی گالیوں سے نوازتے تھے۔ وہ تھے ہی اتنے وجیہہ اور خوش گفتار کہ ان کا مخاطب ان کے گرفت سے نکل ہی نہیں سکتا تھا۔ میں نے انہیں کئی مرتبہ ان کی کم زوریوں سے آگاہ کیا، ان سے لڑا، خفا ہوگیا لیکن وہ اپنی عادت بد سے باز نہیں آئے۔ وہ اکثر مسکرا کر کہتے تُو مجھے بھائی جان کہتا ہے لیکن ہے دراصل تُو میرا بڑا بھائی، میں تو بس نام کا بھائی جان ہوں، اور اسی طرح کی باتیں۔

ہم جس کمرے میں کرائے پر رہتے تھے، اس کے مالک کا نام خان زمان تھا۔ وہ بھی اپنی طرز کے واحد آدمی تھا۔ ہم تھکے ہوئے پہنچتے تو وہ آجاتا اور پھر عجیب عجیب سے سوالات پوچھتا، آج آپ لوگوں نے کیا کام کیے، اوہو تو تم لوگوں نے بہت محنت کی، لیکن سنو مجھ سے زیادہ محنت تم کبھی کر ہی نہیں سکتے، جو تم لوگ کررہے ہو یہ تو میں نے بھی کیا ہے۔ عجیب سنکی تھا وہ شخص۔ مجھ سے زیادہ بھائی جان اس سے تنگ تھے۔

اسے کئی مرتبہ انہوں نے سمجھایا لیکن وہ کبھی مان کر نہیں دیا۔ ہم نے کوئی دوسرا کمرا ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن ہمارے نصیب میں خان زمان کا عذاب سہنا لکھا تھا اور پھر لکھے کو کوئی کیسے ٹالتا۔ ایک دن ہم بُری طرح تھکے ہوئے پہنچے تو وہ باہر موجود تھا۔ ہاں جی تو آپ لوگ آگئے، اس کا بس یہ کہنا ہی تھا کہ بھائی جان اس کے گلے پڑگئے۔ جی ہم آگئے، فرمائیے کیا خدمت کریں آپ کی! بھائی جان نے پوچھا۔ میں مالک ہوں اس کمرے کا اور تم لوگوں پر نظر رکھنا میرا فرض ہے، خان زمان بولے۔ کیوں آپ ہمارے والد گرامی ہیں کیا جو آپ ہماری نگرانی کریں گے، بھائی جان بہت غصے میں تھے۔ لیکن ہوں تو تم لوگوں کے باپ کی عمر کا، خان زمان نے دلیل دی۔

آپ ہمارے والد کی عمر کے سہی لیکن والد ہیں نہیں، آپ کو اپنے کرائے سے مطلب ہونا چاہیے بس۔ بھائی جان نے بھی طے کرلیا تھا کہ آج بس فیصلہ ہوجائے کہ وہ ہمارے کاموں میں مداخلت بند کردیں اور اپنے کام سے کام رکھیں۔ تھوڑی دیر تو وہ خاموش رہا اور پھر برابر میں اپنے گھر چلا گیا۔ میں نے کمرے کا تالا کھولا اور سامان پیک کرنے لگا تو بھائی جان جو پہلے ہی غصے میں بھرے بیٹھے تھے بولے، اب یہ تُو کیا کرنے بیٹھ گیا۔ سامان پیک کررہا ہوں بھائی جان۔ کیوں۔۔۔ ؟ بس تھوڑی دیر میں خان زمان آئے گا اور کہے گا مجھے یہ کمرا چاہیے اس لیے آپ اسے خالی کردیں تو بس سامان پیک کررہا ہوں، میں نے جواب دیا۔ یہ تمہیں کس نے کہا ہے کہ وہ یہ کہے گا۔ بھائی جان کہا تو کسی نے نہیں ہے لیکن ایسا ہی ہوگا۔

لیکن تُو یہ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتا ہے۔۔۔۔؟ پتا نہیں ، لیکن ہوگا ایسے ہی بھائی جان۔ ابھی ہم یہ بحث کر ہی رہے تھے کہ خان زمان نازل ہوگیا اور کہنے لگا، دیکھو جی میرے بیٹے کی شادی کا پروگرام بن رہا ہے، اس لیے مجھے یہ کمرا چاہیے آپ پہلی فرصت میں اسے خالی کردیں۔ میں نے بھائی جان کی جانب دیکھا وہ حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے، اس سے پہلے کہ بھائی جان کچھ کہتے میں نے کہا، دیکھیے خان زمان صاحب ہم سامان پیک کررہے ہیں اور ہمارا سامان ہے ہی کتنا، بس تھوڑی دیر میں ہم آپ کا کمرا خالی کردیں گے۔ خان زمان نے مجھے گُھور کر دیکھا۔ اب میں اتنا بھی بے رحم نہیں ہوں کہ اس وقت تم سے کہوں کہ فورا جاؤ۔ لیکن خان زمان صاحب ہمیں آپ کے رحم کی بھیک نہیں چاہیے بس تھوڑی دیر میں ہم اسے خالی کردیں گے۔

حیرت تھی کہ بھائی جان خاموشی سے یہ سب کچھ سُن رہے تھے تو خان زمان بھائی جان سے مخاطب ہوا، ہاں جی یہ تو بچہ ہے آپ کیا کہتے ہیں۔ بھائی جان نے خان زمان سے کہا یہ بچہ نظر آتا ہے، ہے نہیں، ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے مجھے بتایا ہے کہ آپ یہ کہیں گے، اور ایسا ہی ہوا ہے، اب جیسے سلطان کہے گا بس ویسا ہی ہوگا۔ تھوڑی دیر بعد ہم نے وہ کمرا خالی کردیا۔ اب ہم کیا کریں سلطان۔۔۔۔؟ کچھ نہیں قبرستان چلتے ہیں، وہاں سے تو ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا بھائی جان۔ اب ہم قبرستان میں رہیں گے۔

کیا؟ نہیں یار! دماغ تو خراب نہیں ہوگیا تیرا۔ میرا دماغ تو ٹھیک ہے بھائی جان، آپ اپنا سوچیں اب۔ ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ہمارے ایک اور پڑوسی نے ہمیں اپنے گھر کا ایک کمرا دے دیا اور ہم وہاں منتقل ہوگئے۔ خان زمان ہمیشہ ہمارا سامنا کرنے سے کتراتا تھا، پھر نہ جانے کیسے اسے کوئی مہلک نفسیاتی بیماری ہوگئی، وہ سارا دن گلی میں بیٹھا رہتا، اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا آئینہ ہوتا اور وہ اپنی شکل اس میں دیکھ کر خود کو تھپڑ مارتا رہتا۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ انتہائی بُرا سلوک کرتا تھا اور اپنی ماں کو تو اس نے کئی مرتبہ مارا پیٹا بھی تھا، بس یہ اسی کی سزا تھی، اصل حقیقت کیا تھی یہ تو اﷲ ہی جانتا ہے۔

ہمارے کمرے کے سامنے ایک نوجوان لڑکی رہتی تھی، اس کا نام مریم تھا اور وہ ہر قیمت پر بھائی جان سے تعلقات استوار کرنا چاہتی تھی۔ اکثر وہ اپنے دروازے پر کھڑی انہیں اشارے کیا کرتی لیکن بھائی جان محلے میں کسی قیمت پر اپنی نیک نامی پر حرف آنے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ ایک دن میں دوپہر میں واپس آگیا، شدید گرمی تھی اور پوری گلی سنسان تھی، اس نے اپنے دروازے سے مجھے دیکھا اور پھر وہ ٹرے میں کھانا سجا کر لے آئی، میں نے اسے گُھور کر دیکھا تو کہنے لگی تمہارے لیے نہیں لائی، اپنے بھائی جان کو کھلا دینا۔ وہ کھانا رکھ کر چلی گئی، میں نے خدا کا نام لے کر وہ کھانا کھایا اور برتن دھو کر رکھے ہی تھے کہ اتفاق سے بھائی جان آگئے۔

میں نے جلد آنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے الٹا مجھ سے یہی سوال کرلیا، میں نے انہیں بتایا کہ میں سارا کپڑا تہہ کرچکا تھا تو بس جلدی واپس آگیا، اپنا انہوں نے نہیں بتایا کہ وہ کیوں جلدی آگئے تھے۔ اچانک ان کی نظر ٹرے اور برتنوں پر پڑی تو انہوں نے اس کے متعلق پوچھا، میں نے انہیں بتادیا کہ مریم آپ کے لیے کھانا لائی تھی جو میں کھا گیا ہوں۔ انہوں نے بس اتنا کہا اچھا کیا تم نے، لیکن اسے روکنا ہوگا اب اس کی یہ جرأت ہوگئی کہ وہ کمرے میں بھی آنے لگی۔ بس پھر بات آئی گئی ہوگئی۔ کچھ دن گزرے تھے کہ ایک شام پھر مریم کمرے میں آگئی اور پوچھنے لگی۔

تم نے اپنے بھائی جان کو وہ کھانا کھلا دیا تھا ناں، میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ بڑبڑائی، پیر صاحب نے تو پیسے بھی اتنے لے لیے اور اس کا کوئی اثر بھی اب تک نہیں ہوا۔ میں نے چونک کر اس سے پوچھا کون سے پیر صاحب اور کیسا اثر؟ پہلے تو وہ گھبرائی اور پھر بناتے لگی کی وہ بھائی جان کو تسخیر کرنے کے لیے کسی پیر صاحب کے پاس گئی تھی، پیر صاحب نے پیسے لے کر اسے کچھ چیزیں دَم کرکے دیں کہ وہ انہیں کھلا دے تو وہ مسخر ہوجائیں گے۔ خیر رات کو جب بھائی جان آئے تو میں نے انہیں یہ بتایا، وہ بہت ہنسے اور کہنے لگے۔

اگر میں وہ کھانا کھا لیتا تو یقیناً مسخر بھی ہوجاتا لیکن تم نے کھا لیا جس پر کوئی چیز اثر ہی نہیں کرتی۔ اور پھر مریم، بھائی جان کو مسخر کرتے کرتے خود مسخر ہوگئی، اور آخر اپنے پیا گھر سدھار گئی۔ عجیب ہے انسان بھی، کسی کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے، یہ بھی تو ایک طرح کی مجبوری ہے ناں، ان سادہ لوح دل کے ہاتھوں مجبور انسانوں کو لُوٹنے کے لیے ہر جگہ نام نہاد پیر، عامل اور مُلّا پھندے لگائے بیٹھے ہیں۔ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کُھلا۔

مجھے کہنے دیجیے بھائی جان جیسے بھی تھے میرے لیے نعمت عظمیٰ تھے۔ اب وہ ایک کام یاب وکیل ہیں اور انہوں نے ایک لائر فرم بھی بنائی ہے۔ بھائی جان کی شادی والدین کی مرضی سے ہوئی اور انہوں نے اسے بہت خوش اسلوبی سے نبھایا بھی۔

اپنے بھائی بہنوں کی نہ صرف تعلیم پر توجہ دی بل کہ انہیں ایک کام یاب انسان بھی بنایا، پھر ان کی شادیاں بھی کرائیں، بلاشبہہ انہوں نے بڑے بھائی ہونے کا حق ادا کیا، ان کے چھوٹے بہن بھائی اپنے والد سے زیادہ ان کی عزت کرتے ہیں، اب تو ان کی اپنے بچوں کی شادی بھی ہوگئی ہے۔ جب وہ چلے گئے تھے تو میں ہر ہفتے انہیں خط لکھا کرتا تھا اور وہ بھی مجھے بروقت جوابی چِھٹی لکھتے تھے۔ میں نے جتنے خط انہیں لکھے وہ اب تک ان کے پاس محفوظ ہیں اور وہ اکثر کہتے ہیں کہ جب میں کسی کام کاج کا نہیں رہوں گا، کسی کے پاس میرے لیے وقت نہیں ہوگا اور میں تنہائی کا شکار ہونے لگوں گا، تب تمہارے لکھے ہوئے خطوط میرے سنگی ساتھی بنیں گے۔

میں انہیں پڑھ کر دوبارہ جوان ہوجاؤں گا۔ ایک مرتبہ تو مجھے ان کی بیگم نے یہ بتا کر حیران کردیا کہ وہ روزانہ رات کو کھانے کے بعد تمہارا ایک خط سب کو سناتے ہیں اور اکثر اشک بار ہوجاتے ہیں۔ میں نے کہا، بھابھی! آپ وہ خطوط چُرا کر جلا ڈالیں تو پھر نہیں روئیں گے، کہنے لگیں لوگ تجوری میں پیسے رکھتے ہیں اور تمہارے بھائی جان تجوری میں تمہارے خط رکھتے ہیں، جن تک سوائے ان کے کسی کی رسائی نہیں۔ بھائی جان اب ستّر سال سے تجاوز کرچکے ہیں، لیکن اس عمر میں بھی انتہائی متحرک اور فعال ہیں۔ خدا ان کا سایہ مجھ پر سلامت رکھے۔ اب بھی اکثر ان سے فون پر بات ہوتی ہے تو میری سرگرمیوں کا معلوم کرتے، کوستے اور پھر سے وہی پُرانے بھائی جان بن جاتے اور نصیحتوں کا تحفہ دیتے رہتے ہیں، یہ دوسری بات کہ مجھ جیسا کبھی ان کی بات نہیں مان کے دیا۔

دیکھیے اس وقت اور کیا بروقت یاد آیا

آدمی، آدمی سے ملتا ہے

دل، مگر کم کسی سے ملتا ہے



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔