پالیسی سازی نے یورپی یونین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا

اسٹاف رپورٹر  بدھ 29 مئ 2013
یورپی یونین کی کامیابیاں کے حوالے سے سیمینار میں مقررین کا خطاب۔ فوٹو: فائل

یورپی یونین کی کامیابیاں کے حوالے سے سیمینار میں مقررین کا خطاب۔ فوٹو: فائل

کراچی:  جامعہ کراچی کے تحت ’’اکیسویں صدی میں یورپی یونین کی کامیابیاں،صلاحیتیں اور درپیش چیلنجز‘‘ کے موضوع پر سیمینارسے خطاب میں مقررین نے کہا ہے کہ اقوام کی تاریخ گواہ ہے کہ مستقل باہمی کاوشیں اور پالیسی سازی کے عمل نے پسماندہ قوموں کو ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔

یورپی ممالک نے بھی مذکورہ روش پہ چلتے ہوئے خود کو عصر جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا، جہاں40 کی دہائی تک امن کا تصور بھی محال تھا وہاں 50 کی دہائی سے لے کر عصر حاضر تک جنگ کا تصورعبث ہے، ان خیالات کا اظہار شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر، پاکستان میں یورپی یونین کے وفد کے ڈپٹی ہیڈ پیر ی مایا ڈان اور دیگر نے جامعہ کراچی کے ایریا اسٹڈی سینٹر برائے یورپ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا۔

ایریا اسٹڈی سینٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر عظمیٰ شجاعت نے کہا کہ یورپی یونین کی کامیابیوں اور اس کو درپیش چیلنجز کا مطالعہ موجودہ دور کے تناظر میں کیا جانا نہایت اہم ہے، فرانسیسی قونصل جنرل کرسچن ریمیج کا کہنا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد تمام یورپی ممالک نے بے پناہ تباہی کا سامنا کیا بلاآخر 1945یورپین یونین کی تشکیل کی گئی، اطالوی قونصل جنرل روبڑو فرانسیشینز نے کہا کہ مہاجرین کی آمد ترقی یافتہ ممالک کی ترقی میں اہم کردار اداکرتی ہے، یورپی یونین میں دنیا بھر سے مہاجرین کی آمد ہوتی ہے اور ہجرت کے اعتبار سے اس کا نمبر تمام دنیا میں دوسرا ہے، جرمنی کے قونصل جنرل ٹیلو کلینر نے یوروبحران کے حوالے سے کہا کہ حالیہ یورو بحران تمام یورپی ممالک کی معیشت پراثر انداز ہورہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔